صارف:Minhajian/فیصل آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فیصل آباد
Faisalabad ClockTower.jpg
عمومی معلومات
صوبہ پنجاب
رقبہ 5,856 مربع کلومیٹر
آبادی 45,82,175 [1]
کالنگ کوڈ 041
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
حکومت
ناظم رانا زاہد توصیف
یونين کونسلیں 289
علامت
State emblem of Pakistan.svg

فیصل آباد پاکستان کے عظیم قوال و موسیقار نصرت فتح علی خان کا شہر ہے۔ اپنے دیہاتی تمدن کی وجہ سے ایک وقت تک اسے ایشیا کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم شہر بن کر سامنے آیا ہے اور اب اسے کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

نام[ترمیم]

  1. پکا ماڑی (پکی ماڑی) - 1890ء کے لگ بھگ طارق آباد کے قریب واقع شہر کی سب سے قدیم بستی
  2. ساندل بار - لائلپور کے قیام سے قبل یہ زرخیز میدانی علاقہ ساندل بار کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
  3. لائلپور - 1896ء میں جھنگ کی تحصیل کے طور پر لائلپور کے نام سے شہر کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔
  4. فیصل آباد - 1985ء میں ڈویژنل صدر مقام بناتے وقت سعودی فرمانروا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کیا گیا۔

تاریخ[ترمیم]

شہر فیصل آباد کی تاریخ صرف ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلے جھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، جسے آج کل پکی ماڑی کہا جاتا ہے اور وہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے میونسپلٹی کا درجہ دے دیا گیا۔

موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ اوائل دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا، جسے بعد میں پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سر جیمز بی لائل کے نام پر لائلپور کہا جانے لگا۔

  • 1896ء میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال سے کچھ علاقہ الگ کر کے اس پر مشتمل لائلپور تحصیل قائم ہوئی جسے انتظام و انصرام کے لیے ضلع جھنگ میں شامل کر دیا گیا۔
  • 1902ء میں اس کی آبادی 4 ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔
  • 1903ء میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا آغاز ہوا اور وہ 1906ء میں مکمل ہوا۔
  • 1904ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا، اس سے قبل یہ ضلع جھنگ کی ایک تحصیل تھا۔
  • 1906ء میں لائلپور کے ضلعی ہیڈکوارٹر نے باقاعدہ کام شروع کیا۔ یہی وہ دور تھا جب اس کی آبادی سرکلر روڈ سے باہر نکلنے لگی۔
  • 1908ء میں یہاں پنجاب زرعی کالج اور خالصہ سکول کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں بالترتیب زرعی یونیوررسٹی اور خالصہ کالج کی صورت میں ترقی کر گئے۔ خالصہ کالج آج بھی جڑانوالہ روڈ پر میونسپل ڈگری کالج کے نام سے موجود ہے۔
  • 1909ء میں ٹاؤن کمیٹی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کو پہلا چیئرمین قرار دیا گیا۔
  • 1910ء میں پنجاب کے نہری نظام کی قدیم ترین اور مشہورنہر لوئر چناب تعمیر ہوئی۔
  • 1920ء میں سرکلر روڈ سے باہر پہلا باقاعدہ رہائشی علاقہ ڈگلس پورہ قائم ہوا۔
  • 1930ء میں یہاں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا۔
  • 1934ء میں مشہورِ زمانہ لائلپور کاٹن ملز قائم ہوئی۔
  • 1943ء قائد اعظم محمد علی جناح فیصل آباد تشریف لائے اور انہوں نے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔
  • 3 مارچ 1947ء کو قیام پاکستان کا اصولی فیصلہ اور لائلپور کی پاکستان میں شمولیت بارے خبر ملنے پر لائلپور کے مسلمانوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے اور مٹھایاں بانٹیں۔
  • 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے باعث شہر کا رقبہ بھی وسعت اختیار کر گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت شہر کا رقبہ صرف 3 مربع میل تھا، جو اب 10 مربع میل سے زیادہ ہو چکا ہے۔ بہت سے نئے رہائشی علاقے بھی قائم ہوئے، جن میں پیپلزکالونی اور غلام محمدآباد جیسے بڑے علاقے بھی شامل ہیں۔
  • 1977ء میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر لائلپور کو میونسپلٹی سے ترقی دے کر میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا۔
  • 1985ء میں اسے ضلع فیصل آباد، ضلع جھنگ اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مشتمل ڈویژنل صدر مقام قرار دیا گیا۔ اسی موقع پر اس کا نام لائلپور سے تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔
  • 2005ء میں یہاں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا۔

گھنٹہ گھر[ترمیم]

فیصل آباد کی اہم خصوصیت شہر کا مرکز ہے، جو ایک ایسے مستطیل رقبے پر مشتمل ہے، جس کے اندر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں نے اسے 8 حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس کے درمیان میں، جہاں آ کر آٹھوں سڑکیں آپس میں ملتی ہیں، مشہورِ زمانہ گھنٹہ گھر کھڑا ہے۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر ملنے والی آٹھوں سڑکیں شہر کے 8 اہم بازار ہیں، جن کی وجہ سے اسے آٹھ بازاروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر بیرونی طرف پھیلتے ہوئے بازار اس جگہ کو برطانوی پرچم کی شکل دیتے ہیں، جو سر جیمز لائل نے اپنے ملک کی یادگار کے طور پر یہاں چھوڑا ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر جھنگ کیپٹن بیک (Capt Beke) نے کیا اور اس کا سنگ بنیاد 14 نومبر 1903ء کو سر جیمز لائل نے رکھا۔ جس جگہ کو گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لیے منتخب کیا گیا وہاں لائلپور شہر کی تعمیر کے وقت سے ایک کنواں موجود تھا۔ اس کنوئیں کو سرگودھا روڈ پر واقع چک رام دیوالی سے لائی گئی مٹی سے اچھی طرح بھر دیا گیا۔ یونہی گھنٹہ گھر کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع سانگلہ ہل نامی پہاٹی سے لایا گیا۔

1906ء کے اوائل میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا کام گلاب خان کی زیرنگرانی مکمل ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ گلاب خان کا تعلق اسی خاندان سے تھا، جس نے بھارت میں آگرہ کے مقام پر تاج محل تعمیر کیا تھا۔ گھنٹہ گھر 40 ہزار روپے کی لاگت سے 2 سال کے عرصے میں تعمیر ہوا۔ اس کی تکمیل پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی اس وقت کے مالیاتی کمشنر پنجاب مسٹر لوئیس تھے۔

گھنٹہ گھر میں نصب کرنے کے لیے گھڑی بمبئی سے لائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لائلپور کا گھنٹہ گھر ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا، جو 80 سال قبل فوت ہو چکی تھیں۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر سے پہلے شہر کے آٹھوں بازار مکمل ہو چکے تھے۔

برطانوی پرچم یونین جیک پر مبنی فیصل آباد شہر کا نقشہ اس دور کے ماہرتعمیرات ڈیسمونڈ ینگ (Desmond Yong) نے ڈیزائن کیا، جو درحقیقت سرگنگا رام کی تخلیق تھا، جو اس دور کے مشہور آبادیاتی منصوبہ ساز (town planner) تھے۔

آٹھ بازاروں پر مبنی شہر کا کل رقبہ 110 مربع ایکڑ تھا۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر باہم جڑنے کے علاوہ یہ آٹھوں بازار گول بازار نامی دائرہ شکل کے حامل بازار کی مدد سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یونین جیک کی بیرونی مستطیل آٹھوں بازاروں کے آخری سروں کو بھی سرکلر روڈ کی شکل میں آپس میں ملاتی ہے۔

گھنٹہ گھر کی تعمیر کے وقت اس کے گرد 4 فوارے بنائے گئے تھے، جو کچہری بازار، امیں پور بازار، جھنگ بازار اور کارخانہ بازار کی سمت موجود تھے اور انہیں آٹھوں بازاروں میں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ان میں سے 2 فوارے غائب ہو چکے ہیں۔ اب صرف کچہری بازار اور جھنگ بازار کی سمت والے فوارے قائم ہیں۔

اگرچہ 100 سال گزرنے کے باوجود گھنٹہ گھر کی بیرونی حالت درست حالت میں ہے، تاہم اس کی اندرونی حالت شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اگر اس کی مرمت پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اہل فیصل آباد زلزلے کے کسی چھوٹے جھٹکے سے ایک اہم تاریخی ورثے سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

گھنٹہ گھر کی اندرونی سیڑھیوں اور ستونوں کا پلستر ٹوٹنا شروع ہو چکا ہے۔ سیاح اس کی اڑی ہوئی رنگت اور ہر طرف اڑتی ہوئی دھول سے پریشان ہوتے ہیں۔

آٹھ بازار[ترمیم]

گھنٹہ گھر کے گرد قائم 8 بازاروں کے نام اس سمت واقع کسی اہم علاقے کی غمازی کرتے ہیں۔

  1. ریل بازار - اس کی بیرونی سمت ریلوے روڈ واقع ہے، جو ریلوے اسٹیشن کو جا نکلتا ہے۔
  2. کچہری بازار - اس کی بیرونی طرف عدالتیں قائم ہیں۔
  3. چنیوٹ بازار - اس طرف ضلع جھنگ کی تحصیل چنیوٹ واقع ہے۔
  4. امیں پور بازار - یہاں سے ایک سڑک امیں پور بنگلہ کی طرف جاتی ہے۔
  5. بھوانہ بازار - اس سمت میں بھوانہ واقع ہے۔
  6. جھنگ بازار - اس بازار کا رخ جھنگ کی طرف ہے۔
  7. منٹگمری بازار - اس بازار کا نام ساہیوال کے پرانے نام منٹگمری کی وجہ سے رکھا گیا، جو اسی سمت واقع ہے۔
  8. کارخانہ بازار - اس جانب قدیم دور میں کارخانے قائم تھے، جن میں سے چند ایک اب بھی باقی ہیں۔

آٹھ بازاروں کی کہاوت[ترمیم]

قیام پاکستان کے موقع پر انگریزوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ لائلپور کے آٹھ بازاروں کی صورت میں اپنی شناخت، برطانوی پرچم (یونین جیک) ہمیشہ کے لیے اس خطے میں امر کر کے جا رہے ہیں، جبکہ رد عمل میں یہاں کے باسیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ برطانیہ کے پرچم کو صبح و شام اپنے قدموں تلے روندھتے رہیں گے۔

جغرافیہ[ترمیم]

پاکستان کے نقشے میں فیصل آباد کا مقام

فیصل آباد صوبہ پنجاب (پاکستان) کے شمال مشرقی حصے میں لاہور سے 120 کلومیٹر دور مغرب کی سمت واقع ہے۔ پاکستان کا دار الحکومت اسلام آباد اس سے 360 کلومیٹر دور شمال کی سمت واقع ہے۔ ضلع فیصل آباد 30.35 سے 31.47 شمالی عرض بلد اور 72.73 سے 73.40 مشرقی طول بلد کے درمیان سطح سمندر سے 605 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ فیصل آباد کی نواحی اضلاع کے ساتھ کوئی قدرتی حدود موجود نہیں ہیں اور یہ بالعموم میدانی خطے پر مشتمل ہے۔

حدودِ اربعہ[ترمیم]

آبی ذخائر[ترمیم]

  • دریائے چناب شہر کی شمال مغربی سمت میں 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
  • دریائے راوی شہر کی جنوب مشرقی سمت میں 40 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔
  • نہر لوئر چناب آب رسانی کا واحد ذریعہ ہے، جو قابل کاشت رقبے کے 80 فیصد حصے کو سیراب کرتی ہے۔

رقبہ[ترمیم]

  • فیصل آباد کا کل رقبہ 5,856 مربع کلومیٹر ہے، جس میں سے 830 مربع کلومیٹر پر فیصل آباد شہر قائم ہے۔

آب و ہوا[ترمیم]

ضلع فیصل آباد کی آب و ہوا دو انتہاؤں کو چھوتی ہے۔ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ (122 فارن ہائیٹ) تک جا پہنچتا ہے اور سردیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت صفر تک گر جاتا ہے۔ تاہم یومیہ اوسط درجہ حرارت گرمیوں میں 39 سے 27 سینٹی گریڈ اور سردیوں میں 21 سے 6 سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔

موسم گرما[ترمیم]

موسم گرما اپریل سے شروع ہو کر اکتوبر تک ختم ہوتا ہے۔ مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں گرم ترین موسم ہوتا ہے۔

موسم سرما[ترمیم]

موسم سرما کا آغاز ماہ نومبر میں ہوتا ہے، جو مارچ تک جاری رہتا ہے۔ دسمبر اور جنوری سردترین مہینے ہوتے ہیں۔

آبادی[ترمیم]

آبادی کے لحاظ سے فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے اس کی آبادی دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ بےشمار لوگوں نے زندگی کی بہتر سہولیات کی تلاش میں دیہات چھوڑ کر شہر کی طرف ہجرت کی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت شہر کی آبادی 19,86,000 ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 46 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر، 52 فیصد 15 سے 64 سال کی عمر میں اور باقی 2 فیصد 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ آبادی کا تناسب فی مربع کلومیٹر 9,594 ہے۔

1961ء میں فیصل آباد کی آبادی 4,30,000 تھی، جو 1972ء تک بڑھ کر 8,30,000 کو جا پہنچی اور 1981ء میں یہاں کل 11,00,000 سے زیادہ نفوس آباد تھے۔ 2006ء میں فیصل آباد کی آبادی 45,82,175 نفوس پر مشتمل تھی۔ 47 سالوں میں فیصل آباد کی آبادی میں ایک ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی سالانہ شرح 21.3 فیصد ہے۔ آبادی کے اسی تیزی سے بڑھتے ہوئے تناسب نے اسے جلد ہی کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا شہر بنا دیا۔

حکومت[ترمیم]

2005ء میں ملک کے دوسرے بڑے شہروں ی طرح یہاں بھی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام لاگو کیا گیا، جس کے مطابق اسے 8 مختلف ٹاؤن میں تقسیم کر دیا گیا۔[2]

Faisalabad Map Urdu.png

علم و سائنس[ترمیم]

مشہورِ زمانہ زرعی یونیورسٹی اور ایوب زرعی تحقیقی ادارہ کی وجہ سے یہ شہر پاکستان بھر میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ زرعی یونیورسٹی کا قیام 1908ء میں پنجاب زرعی کالج کے نام سے عمل میں آیا تھا۔ فیصل آباد کو ایک وقت میں سائنسدانوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہاں پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ تعداد میں پی ایچ ڈی سائنس دان موجود ہیں۔ صرف زرعی یونیورسٹی میں 200 سے زیادہ پی ایچ ڈی سائنس دان ہیں۔ اسی طرح ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف زرعی بائیوٹیکنالوجی اور نیوکلیئر حیاتیاتی و جینیاتی انجینئری انسٹی ٹیوٹ میں بھی سیکڑوں سائنس دان اپنی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اہم تعلیمی ادارے[ترمیم]

فیصل آباد میں اعلی و ثانوی تعلیم کے لیے بہت سے تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

جامعات[ترمیم]

دانشگاہیں (کالجز)[ترمیم]

دیگر ادارے[ترمیم]

صحت[ترمیم]

فیصل آباد میں صحت کی صورت حال پاکستان کے دوسرے شہروں سے کچھ خاص بہتر نہیں، تاہم پچھلے چند سالوں سے سرکاری ہسپتالوں کی صورت حال ماضی کی نسبت کافی بہتر ہوئی ہے۔

سرکاری ہسپتال[ترمیم]

ٹرسٹ ہسپتال[ترمیم]

نجی ہسپتال[ترمیم]

الرازی ہسپتال، بٹالہ کالونی

شہر میں بےشمار چھوٹے بڑے نجی ہسپتال موجود ہیں، جو مریضوں کو نسبتاً مہنگے علاج کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر گلی محلے میں ایک آدھ نجی کلینک ضرور موجود ہوتا ہے۔

  • نیشنل ہسپتال، جناح کالونی
  • فیصل ہسپتال، پیپلز کالونی
  • مکی ہسپتال، پیپلز کالونی
  • ساحل ہسپتال، سرگودھا روڈ
  • غفور بشیر چلڈرن ہسپتال
  • واپڈا ہسپتال
  • مدینہ ٹیچنگ ہسپتال
  • ہلال احمر میٹرنٹی ہسپتال
  • النور ہسپتال
  • الرازی ہسپتال، بٹالہ کالونی

پینے کا پانی[ترمیم]

زیرزمین شوریدہ پانی نے پچھلے چند سالوں سے مقامی آبادی کو کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ صاف پانی کے حصول کے لیے لوگوں کو ایسے نجی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو واٹرفلٹرنگ پلانٹ کی مدد سے پانی صاف کر کے بیچتے ہیں۔

علاوہ ازیں شہر کے وسط سے گزرنے والی نہر یہاں کے باسیوں کو صاف پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نہر کے دونوں اطراف ہر ایک دو کلومیٹر کے فاصلے پر زمین سے پانی نکالنے والی موٹریں نصب ہیں، جن سے لوگ صبح و شام مفت پانی بھرتے ہیں۔ نہر کا تازہ پانی زمین چوس لیتی ہے اور اس قدرتی فلٹرنگ نظام کے بعد اس پانی کو موٹروں کی مدد سے نکال لیا جاتا ہے۔ صاف پانی کے حصول کے سلسلے میں یہ فیصل آباد میں ایک منفرد تجربہ ہے جو مخیر حضرات نے فی سبیل اللہ مہیا کر رکھا ہے۔

صنعت / معیشت[ترمیم]

فیصل آباد، ٹیکسٹائل کا شہر

آزادی کے بعد فیصل آباد پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر بن کر ابھرا ہے۔ اس کی معیشت کا بڑا انحصار کپڑے کی صنعت ہے۔ شہر اور اس کے گردونواح میں بسے دیہات میں ہر طرف ٹیکسٹائل ملز اور پاورلومز کا جال بچھا ہوا ہے۔ صنعتی نیٹ ورک اور پارچہ بافی مصنوعات کی بدولت اسے پاکستان کا مانچسٹر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں قائم پارچہ بافی صنعت کا مرکز ہے۔ قیام پاکستان کے وقت فیصل آباد میں صرف 5 صنعتی یونٹ تھے، جو محض ایک سال بعد 1948ء میں 43 کو جا پہنچے۔ اب یہاں ہزاروں کی تعداد میں صنعتی یونٹ قائم ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں 512 بڑے صنعتی یونٹ، 92 انجینئری یونٹ اور 90 کیمیکل یونٹ قائم ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں 12,000 کے قریب گھریلو صنعتیں بھی قائم ہیں، جن میں 60,000 پاور لومز بھی نصب ہیں۔

کپڑے کے علاوہ یہاں آٹا، چینی، گھی، مکھن، سبزیاتی تیل، ادویات، ریشم، صابن، کیمیائی کھادیں، فائبر، کینن مصنوعات، زیورات، گھریلو فرنیچر، رنگائی، کپڑے کی مشینری، ریلوے مرمت، بائیسکل، ہوزری، قالین بافی، نواڑیں، طباعت، اشاعت، زرعی آلات اور لکڑی کی مصنوعات بھی پائی جاتی ہیں۔

پاکستان کا 25 فیصد زرمبادلہ فیصل آباد پیدا کرتا ہے، یوں یہ زرمبادلہ پیدا کرنے والے شہروں میں پاکستان بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان کی سب سے قدیم اور ایشیا کی سب سے بڑی اور اکلوتی زرعی یونیورسٹی کی بدولت یہ شہر ایک بڑی زرعی مارکیٹ بن چکا ہے۔ فیصل آباد کی بڑی فصلیں کپاس، گندم، گنا، سبزیاں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں کپڑے اور غلہ کی ہول سیل مارکیٹیں قائم ہیں۔ یہاں ٹیکسٹال یونیورسٹی بھی قائم ہے جو اپنی نوعیت میں پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے اور فیصل آباد کی صنعتی ترقی میں اس یونیورسٹی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔

گھنٹہ گھر کے گرداگرد قائم آٹھوں بازار مختلف قسم کی مارکیٹیوں پر مشتمل ہیں، جو شہر کی صنعتی و تجارتی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت سے شہر کی ترقی میں بہتری عمل میں آئی ہے۔ صنعتی ترقی میں درمیانے طبقے کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔

خشک گودی (ڈرائی پورٹ)[ترمیم]

فیصل آباد میں خشک گودی بھی قائم ہے، جس کا حجم 60 میٹرک ٹن کارگو یومیہ ہے۔ اس گودی کے لیے مخصوص سڑکوں اور ریلوے اسٹیشن کا انتظام بھی ہے، جس کے ذریعے وہ لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کراچی کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتی ہے۔ فیصل آباد کا برآمدی کارگو ہر سال پہلے سے بڑھ رہا ہے۔

ذرائع آمدورفت[ترمیم]

شہر میں سفر کی مناسب سہولتیں میسر ہیں اور شہر کے بڑے حصوں کو ملانے والی سڑکوں کی حالت بہترین ہے۔

شاہرات[ترمیم]

پاکستان کے مروجہ نظام شاہرات کے تحت قائم بین الاضلاعی شاہرات کے ذریعے یہ شہر سرگودھا، جھنگ، سمندری، اوکاڑہ، جڑانوالہ اور شیخوپورہ کے ساتھ متصل ہے۔ فیصل آباد کو شیخوپورہ کے راستے لاہور سے ملانے کے لیے ایکسپریس ہائی وے موجود ہے۔

موٹروے[ترمیم]

فیصل آباد کے سرگودھا روڈ سے نکلنے والی موٹروے (ایم3) پنڈی بھٹیاں کے مقام پر اسے لاہور اور اسلام آباد کو ملانے والی موٹروے (ایم2) سے ملاتی ہے۔ فیصل آباد کو ملتان سے ملانے کے لیے موٹر وے (ایم4) ابھی زیرتعمیر ہے۔

فیصل آباد ریلوے اسٹیشن

ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

فیصل آباد کا مرکزی ریلوے اسٹیشن 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ آج کل وہاں سے پاکستان کے اکثر بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور اور ملتان کے لیے ریل گاڑیاں نکلتی ہیں۔

ہوائی اڈا[ترمیم]

شہر سے 15 کلومیٹر کی مسافت پر جھنگ روڈ پر بین الاقوامی فیصل آباد ہوائی اڈا موجود ہے، جہاں پاکستان کی قومی ہوا باز کمپنی پی آئی اے کے علاوہ نجی کمپنیوں کے جہاز بھی مسافروں کو اپنی خدمات دیتے ہیں۔

قابلِ دید مقامات[ترمیم]

چناب کلب، فیصل آباد

فیصل آباد میں عوامی دلچسپی کے بہت سے مقامات ہیں، جن میں اہم تعمیرات، اسٹیڈیم، عوامی باغات اور تفریحی مقامات شامل ہیں۔

گھنٹہ گھر[ترمیم]

شہر کے مرکز میں واقع گھنٹہ گھر فیصل آباد کی سب سے اہم تاریخی عمارت ہے۔

گمٹی + قیصری دروازہ[ترمیم]

ریل بازار کی بیرونی سمت واقع قیصری دروازہ اور اس کے باہر چوک میں واقع بارہ دری جیسی مختصر عمارت گمٹی کہلاتی ہے، جس کے گرد ٹریفک کا گول چکر موجود ہے۔ یہاں سے ایک سڑک چناب کلب کو نکل جاتی ہے۔ قیصری دروازے کی تعمیر 1897ء کو مکمل ہوئی۔ سن تعمیر دروازے کے اوپر نمایاں لکھا ہے۔

چناب کلب[ترمیم]

چناب کلب فیصل آباد کا ایک اہم تاریخی کمیونٹی سنٹر ہے۔

تفریحی مقامات[ترمیم]

اہم رہائشی علاقے[ترمیم]

تجارتی مراکز[ترمیم]

رپل پلازہ، ڈی گراؤنڈ، فیصل آباد
  • آٹھ بازار
  • سبزی منڈی
  • میٹرو کیش اینڈ کیری
  • اسٹیٹ لائف بلڈنگ (شہر کی بلند ترین عمارت)
  • دو برج شاپنگ مال
  • پیراڈائز ان شاپنگ مال
  • سٹی شاپنگ مال
  • دوبئی شاپنگ مال
  • ٹائم سکوائر شاپنگ مال
  • ستارہ مال
  • ستارہ سپنا سٹی
  • جھال خانوآنہ، ستیانہ روڈ
  • ریکس سٹی (کمپیوٹر مارکیٹ)، ستیانہ روڈ
  • رحمن سٹی، ستیانہ روڈ
  • رپل پلازہ، ڈی گراؤنڈ
  • خان پلازہ، ہریانوالہ چوک
  • چن ون، پیپلز کالونی
  • کوہ نور ون شاپنگ مال، جڑانوالہ روڈ
  • میڈیا کوم شاپنگ مال
  • میڈیا کوم ٹریڈ سٹی
  • سنٹر پوائنٹ

مساجد[ترمیم]

جامع مسجد سنی رضوی مع مزار مولانا سردار احمد، جھنگ بازار فیصل آباد
  • جامع مسجد سنی رضوی، جھنگ روڈ
  • جامع مسجد خضراء، پیپلز کالونی
  • جامع مسجد مدنی، سمن آباد
  • جامع مسجد مدنی، بٹالہ کالونی

مزارات[ترمیم]

شرب و طعام[ترمیم]

مکڈونلڈز، فیصل آباد

ہوٹل[ترمیم]

  • فیصل آباد سرینا ہوٹل، کلب روڈ
  • دی ڈینسٹی ہوٹل، جڑانوالہ روڈ
  • ہوٹل لارڈز ان، پیپلز کالونی
  • ہوٹل ون، پیپلز کالونی نمبر 1، ہریانوالہ چوک
  • رپل ہوٹل، رپل پلازہ، ڈی گراؤنڈ
  • ڈی پرل کانٹیننٹل، ڈی گراؤنڈ
  • ہالی ڈے ان، ڈی گراؤنڈ
  • خیام گارڈن، ستیانہ روڈ
  • ریکس ہوٹل، ستیانہ روڈ
  • ساندل بار ہوٹل، ستیانہ روڈ
  • معراج ہوٹل، بٹالہ کالونی، ستیانہ روڈ
  • پرل کانٹیننٹل ہوٹل، کشمیر پل، مشرقی کینال روڈ
  • لائلپور جمخانہ، مغربی کینال روڈ
  • البراق ہوٹل، ریلوے روڈ
  • پرائم ہوٹل، کوتوالی روڈ
  • ریز ہوٹل، کوتوالی روڈ
  • گریس ہوٹل، سرکلر روڈ، چنیوٹ بازار
  • سٹی ہوٹل، امیں پور بازار
  • سبینا ہوٹل، پریس مارکیٹ
  • ہوٹل ایسٹ ان، شیخوپورہ روڈ
  • نیشنل ہوٹل، سرگودھا روڈ

کھیل[ترمیم]

سینما[ترمیم]

  • منروا سینما
  • بابر سینما
  • نگینہ سینما
  • سبینا سینما
  • نشاط سینما

ذرائع ابلاغ[ترمیم]

اخبارات[ترمیم]

ریڈیو[ترمیم]

  • فیصل آباد ریڈیو (سرکاری)
  • ایف ایم ریڈیو 101 (نجی)
  • ایف ایم ریڈیو 103 (نجی)

فلم / ڈراما[ترمیم]

  • عزیزی اسٹوڈیو - انگریزی فلموں کو مزاحیہ پنجابی ترجمہ کے ساتھ پیش کرنے والا پاکستان کا سب سے منفرد اسٹوڈیو

مشہور شخصیات[ترمیم]

فیصل آباد کی اہم شخصیات ملاحظہ ہوں:

دینی شخصیات[ترمیم]

تاریخی شخصیات[ترمیم]

سرکاری خدمات[ترمیم]

  • کلیم سعادت (سابق سربراہ پاک فضائیہ)
  • لیفٹیننٹ جنرل سر جیمز بی لائل (انگریز دور میں گورنر پنجاب)
  • خالد مقبول (پرویز مشرف دور میں گورنر پنجاب)
  • مدن لال کھورانہ (رکن بی جے پی، سابق وزیر اعلی، دہلی)
  • راشد اکرم چٹھہ (پنجاب اسمبلی)
  • شمیم احمد (سابقہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی)

کھلاڑی[ترمیم]

قوال[ترمیم]

گلوکار[ترمیم]

فلم انڈسٹری[ترمیم]

  • راج کپور (بھارتی فلمی اداکار، پروڈیوسر، ہدایت کار)
  • ریشم (پاکستانی فلم اداکارہ)
  • مالا (اردو اور پنجابی فلموں کی گلوکارہ)

ادیب و شاعر[ترمیم]

  • ناز خیالوی
  • وحید احمد (اردو شاعر و ناول نگار)
  • سندر سنگھ لائلپوری

صنعتکار و معیشت دان[ترمیم]

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ورلڈ گزٹ (یکم جنوری 2006)
  2. شماریات از موقع حکومت فیصل آباد

اندرونی روابط[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]