صارف:Omri88/ریتخانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علامہ احسان الہی ظہیر شہید رحمہ اللہنام:(علامہ)احسان الہی ظہیر بن حاجی ظہور الہی ظہیر صاحبمقام و تاریخِ پیدائش:سیالکوٹ سنہ 1940ءتعلیم و تربیت:ابتدائی تعلیم حفظِ قرآن سے لے کردرسِ نظامیہ اور عالم فاضل تک جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ سلفیہ فیض آباد سے حاصل کیں،اعلیٰ تعلیم کیلئے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لےگئے،سن 1969 میں ممتاز ڈویژن سے پاس ہوکر وطن آگئے اور پنجاب یونیورسٹی سے چھ مضامین میں ایم ،اے کیایعنی عربی،اردو،فارسی،فلسفۂ تاریخ،ایم او ایل(قانون)اور اسلامیات تمام امتحانات میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کی،آپ کئی زبانوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔تصنیفات:زمانۂ تعلیم ہی سے تصنیف و تالیف کا کام شروع کردیا تھا،کم وبیش بیس ضخیم کتابیں تالیف کیں اس کے علاوہ بے شمار مقالات و مضامین لکھے،ان کی آخری کتاب شہادت سے صرف آٹھ گھنٹے قبل مکمل ہوئی تھی،آپ کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں:1-القادیانیہ دارسات و تحلیل(عربی) 2-التصوف (عربی)3-مرزائیت اور اسلام (اردو) 4-البابیہ عرض ونقد (عربی)5-البہائیہ نقد وتحلیل (عربی) 6-الشیعۃ والسنۃ (عربی،فارسی،انگریزی)7-الشیعہ و اہل البیت (عربی) 8-الشیعہ و القرآن (عربی)9-البریلویہ عقائد و تاریخ(عربی) 10-الاسماعیلیہ (عربی)ان میں سے اکثر کتب کے دس سے زیادہ ایڈیشن نکل چکے ہیں،دنیا کی اکثر زندہ زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے ہوئے ہیں۔عربی،اردو،فارسی،انگریزی،کے علاوہ ترکی،تھائی،انڈونیشی،اور مالدیپی زبانوں میں ان کی کئی کتابیں کئی بار اور کئی کئی ترجموں کے ساتھ نکل چکی ہیں،"الشیعۃ والسنۃ"کے صرف انڈونیشی زبان میں تین ترجمے ہوئے،جن میں ایک پر "پیشِ لفظ"انڈونیشیا کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر محمد ناصر نے لکھاہے۔صحافت:میدانِ صحافت میں طویل عرصہ رہے اور مختلف اوقات میں ہفت روزہ "الاعتصام"ہفت روزہ "اہلِ حدیث"ہفت روزہ "الاسلام"کے مدیر رہے اور پھر اپنا ذاتی ماہنامہ "ترجمان الحدیث"نکالا،جس کے تاحیات مدیر رہے۔سیاست:اپنی دینی،علمی اور فکری مصروفیات کے سبب 1968 تک آپ سیاست سے دور رہے،1969 میں میدانِ سیاست میں قدم رکھا،بٹھو دور میں کئی بار قید وبند کی صعوبتیں جھیلیں،عزائم میں فرق آنا تو کجا آپ کے لہجے میں تک کوئی فرق نہ آیا بلکہ ـ آئیں جواں مرداں حق گوئی و بیباکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہیکی زندہ مثال بن کرہے۔تحریکِ استقلال میں زبردست حصہ لیا یہاں تک کہ اس کے مرکزی ناظمِ اطلاعات بھی رہے،1977 میں تحریکِ استقلال کے قائم مقام سربراہ بنائے گئے۔بنگلہ دیش نامنظور تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔تحریکِ نظامِ مصطفی کیلئے بڑی کوششیں کیں۔ضیاء الحق صاحب کی حکومت نے آپ کو علمائے کرام کی ایڈوائزری کونسل کا کارکن نامزد کیا لیکن آپ نے استعفیٰ دے دیا۔تحریکِ استقلال سے علٰیحیدگی کے بعد جمعیۃ اہلحدیث کی تنظیمِ نو کی اور اس کو زبردست کامیابی سے ہمکنار کیا۔اہلِ حدیث یوتھ فورس کی بنیاد ڈالی جس کے ذریعہ نوجوانانِ اہل حدیث میں جہاد کی روح پھونکی۔جمعیۃ اہلِ حدیث کے جنرل سیکریٹری رہے۔آپ کی سیاسی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہوکر حکومتِ پاکستان نے بارہا فرضی مقدمات میں پھنسایا اور جائداد کی قرقی کے احکامات صادر کیے مگر پائے ثبات میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔غیر ملکی دورے:آپ کی علمی و فکری قابلیت نے آپ کو متعدد بار غیر ملکی دوروں پر آمادہ کیا،دنیاکے کونے کونے سے کانفرسوں اور سیمناروں میں شرکت کی دعوتیں آتی رہتیں،جن میں آپ اکثر شامل ہوا کرتے۔سعودی عرب، کویت، قطر،متحدہ امارات و مصر میں آپ کا اکثر آنا جانا ہوتا علاوہ ازیں امریکہ، برطانیہ،کنیڈا،سوڈان،تھائی لینڈ،انڈونیشیا،ملیشیا کے بھی متعدد دورے کئے تھے۔خطابت:یہ آپ کا مخصوص و محبوب ترین میدان تھا،آپ کی شعلہ بیانی اور اثر آفرینی کا ایک زمانہ قائل ہے۔پاکستان کے ایک نامور ادیب،صحافی و خطیب آغا حشر کاشمیری نے اپنی کتاب "ختمِ نبوت"میں علامہ کے بارے میں یہ الفاظ لکھے تھے:"علامہ صاحب ایک شعلہ بیان خطیب،معجز رقم ادیب،بالغ نظر صحافی اور بہت سی زبانوں میں مہارتِ تامہ رکھنے کے باوجود دور رس نگاہ کے عالمِ متبحر ہیں"۔آخری سفر:آپ 23/مارچ 1988 کی شب لاہور میں جمعیۃ اہلِ حدیث کے ایک جلسے میں خطاب کررہے تھے اور علامہ اقبال کے اس شعر کافر ہوتو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہوتو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی کے دوسرے مصرعہ پرتھے کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور تاریخ کا ایک اور عظیم سانحہ پیش آیا،جس میں آپ شدید زخمی ہوئے،فورا اسپتال لے جایا گیا،جب یہ خبر سعودی عرب پہونچی تو خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبد العزیز کے حکم سے ریاض منتقل کیا گیا ،مگر ہزار کوششوں کے باوجود آپ جانبر نہ ہوسکے۔انا للہ و انا الیہ راجعون،اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ اکرم نزلہ ووسع مدخلہ و انزل علیہ شابیب رحمتک یا رب العالمین۔اور ان کی خواہش کے مطابق "جنۃ البقیع"مدینہ منورہ میں ہزاروں علماء مشائخ اور سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کیاگیا۔