صبغۃ اللہ بن قیوم ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ محمد صبغۃ اللہسلسلہ نقشبندیہ کے اکابرین میں شمار ہوتے ہیں

ولادت با سعادت[ترمیم]

آپ خواجہ محمد معصوم قیوم ثانی کے سب سے بڑے فرزند ہیں۔ 11 ربیع الثانی1033ہجری میں سرہندمیں پیدا ہوئے۔ مجدد الف ثانی کے پوتے ہیں جنہوں نے قیوم ثانی سے فرمایا کہ محمد معصوم! اس فرزند میں اصلی نور دکھائی دیتا ہے۔ اس کا نام صبغۃ اللہ رکھو۔

تحصیل علم[ترمیم]

آپ نے علم معقول و منقول انتہائی درجہ تک حاصل کیے۔ بعد ازاں اپنے والد امجد کی خدمت میں علم باطن حاصل کیا۔ آپ حضرت قیوم اول مجدد الف ثانی کے کمالات کے جامع اور صاحب کرامات تھے۔ والد بزرگوار نے آپ کو ولایت کا مل اور غور کی خلافت دے کر رخصت فرمایا۔ وہاں آپ سے فیض جاری ہوا۔ ہر صبح و شام ہزار ہا آدمی حلقہ میں شامل ہوئے۔ اپنے والد صاحب کے وصال کے بعد عرب و عجم میں سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ کی ترویج کی۔

والد محترم کی تعظیم[ترمیم]

میاں سفر احمد صاحب برکاتی معصومی لکھتے ہیں کہ خواجہ محمد معصوم فرمایا کرتے تھے اگر کسی باپ کی لیے بیٹے کی تعظیم کرنا ہوتا تو میں اپنے بیٹے صبغۃ اللہ کی تعظیم کرتا۔[1]

منصب غوثیت[ترمیم]

منصب قطبیت وقیومیت کے بعد آپ کو منصب غوثیت وو فردیت اس وقت عطا ہوا جب زیارت حرمین سے واپسی پر اپنے والد کی اجازت سے غوث الاعظم کے مزار اقدس پر بغداد میں حاضری دی [1]

القابات[ترمیم]

قیوم الزماں،مربی الدوراں اور تاج الاولیاء کے القابات سے نوازے گئے۔[1]

اولاد[ترمیم]

شیخ ابو القاسم،شیخ محمد اسماعیل، شیخ اہل اللہ،شیخ میر، صائمہ،راضیہ ،عالیہ،ماریہ رافعہ ،باقیہ،روشن آراء[2]

وصال[ترمیم]

آپ کا9 ربیع الثانی 1122ھ میں آپ کا وصال ہوا اور اپنے والد امجد کے قبہ میں دفن کیے گئے۔ [3] آپ کامدفن سرہند شریف، انڈیا میں ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ تذکرہ مشائخ سیفیہ،محمد عرفان قادری،صفحہ،148،بہار اسلام پبلیکیشنز لاہور
  2. اذکار معصومیہ نور الحسن تنویر صفحہ 22،مکتبہ انوار مدینہ سیالکوٹ
  3. ضیائے طیبہ
  4. http://sirhindi.com/udescendants.html