صحوہ تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

صحوہ تحریک (عربی: الصحوة الاسلامية) یعنی تحریک بیداری سعودی سلفی تحریک کی ایک ذیلی تنظیم ہے جو سعودی عرب میں یہ پر امن سیاسی اصلاحات کے لیے کوشاں ہے۔ سفر الحوالی اور سلمان العودہ اس نقطہ نظر کے نمائندہ ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے انہوں نے تعلیم یافتہ جوانوں کی حمایت حاصل کر لی ہے۔[1][2]

اس تنظیم نے امریکی فوج کی جزیرہ نما عرب میں موجودگی کی مخالفت کی تھی۔

آغاز[ترمیم]

1950ء اور 1960ء کے دوران تحریک اخوان المسلمین کے کچھ ارکان مصر میں اشتراکی طرز حکومت کے حامیوں کی کاروائیوں سے بچنے کے لیے سعودی عرب میں پناہ گزین ہوئے۔ وہ وہابی تحریک سے بھی اختلافات رکھتے تھے۔ وہابی تحریک اور تحریک اخوان المسلمین کے ایک دوسرے پر اثرات نے ایک نئی مذہبی و سیاسی تحریک صحوہ کو جنم دیا۔ یہ تحریک 1990ء میں اپنے عروج کو پہنچی جس کے بعد سعودی حکومت نے اس کو محدود کر دیا۔[3]

راہنما[ترمیم]

اس تحریک کے مرکزی راہنما سلمان العودہ اور سفر الحوالی تھے۔ ان دونوں حضرات کو حکومت مخالف تقاریر و بیانات کے باعث 1991ء میں قید کر دیا گیا تھا اور 1999ء میں رہائی کے بعد سلمان العودہ حکومت کے ساتھ شامل ہو گئے اور اب حکومت کی حمایت میں مخالفین سے مکالمہ کرتے ہیں۔ جبکہ سفر الحوالی نے اس طرز عمل کے باعث سلمان العودہ سے اس معاملہ میں علیحدگی اختیار کر لی۔[2]

سرگرمیاں[ترمیم]

صحوہ کے اراکین عوامی عرضداشتیں لکھتے ہیں اور اپنے بیانات اور پیغامات صوتی کیسٹ کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔ صحوہ کے راہنما انتظامیہ میں علما کے بڑے کردار کے خواہاں ہیں، وہ شاہی خاندان پر تنقید کرتے ہیں، عوامی سرمایہ کے خرچ کی شفافیت اور زیادہ اعتدال پسند اسلامی معاشرہ کی تعمیر کے خواہاں ہیں تاکہ مغربی معاشرتی اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔[3]

نظریات[ترمیم]

یہ تحریک اسلامی ممالک میں امریکی فوجی دستوں کی موجودگی کی سخت مخالف ہے۔ 1991ء میں اس تحریک کے سربراہ الحوالی نے اعک خطبہ دیا جس کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ تھا: "خلیج فارس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بڑے مغربی خاکہ کا حصہ ہے جو (اہل مغرب کی جانب سے ) دنیائے اسلام اور پورے عرب کو زیر تسلط لانے کے لیے بنایا گیا ہے۔"[4] مدخلی گروہ اور دوسرے مخالفین اس گروہ کو قطبی کا نام دیتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]