صدر الدین عارف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ صدر الدین عارف
ذاتی
پیدائش (621ھ)
وفات اندازہً (23 ذالحجہ 684ھ)
مذہب اسلام
والدین
سلسلہ سہروردیہ
مرتبہ
مقام ملتان
دور تیرہویں صدی
پیشرو بہاؤ الدین زکریا ملتانی
جانشین شیخ رکن الدین ابو الفتح

شیخ صدر الدین عارف مخدوم بہاءالدین زکریا ملتانی سہروردی کے صاحبزادے اور جانشین تھے

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام صدر الدین، لقب عارف اور کنیت ابو الغانم ہے۔ آپ کے والد کا نام مخدوم بہاءالدین زکریا ملتانی سہروردی اور والدہ کا نام بی بی مخدومہ رشیدہ بانو تھا جو پیر کامل مخدوم شاہ وحید الدین احمد غوث کی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی پیدائش 621ھ میں ملتان میں ہوئی۔ آپ بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے بڑے فرزند، مرید، خلیفہ اور جانشین ہیں۔[1]

سلسلہ نسب[ترمیم]

آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے

صدرالدین عارف بن بہاو الدین زکریا بن وجیہ الدین (محمد غوث) بن سلطان ابا بکر (کمال الدین علی شاہ) بن سلطان جلال الدین بن سلطان علی قاضی بن سلطان حسین بن سلطان عبد اللہ بن سلطان مطرفہ بن سلطان خذیمہ بن امیر ہازم بن امیر تاج الدین بن عبد الرحمن بن عبد الرحیم بن امیر مہار (عیاض) بن اسد بن ہاشم [2]

پرورش اور تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کی پرورش اور تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی کی نگرانی میں ہوئی، آپ نے ظاہری اور باطنی علم انہیں سے حاصل کیا۔ آپ تھوڑے عرصے میں یگانہ روزگار ہو گئے۔ سب سے پہلے آپ نے قرآن مجید حفظ کیا، کہا جاتا ہے کہ دینی علوم میں بیشتر علما آپ کے ہم پلہ بھی نہ تھے۔ علومِ ظاہری سے فارغ ہوئے تو آپ کے والد ماجد نے آپ کو علوم باطنی اور اسرار معرفت کی تعلیم دینا شروع کی، تھوڑے عرصہ میں والد برزگوار کی نگاہ فیض سے وہ مقام حاصل کر لیا جو دوسروں نے سالہا سال کے مجاہدات اور ریاضتوں کے بعد پایا تھا۔[1]

عارف لقب کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

جب آپ قرآن شریف پڑھتے تو اس کے معنی، مطالب اور مضمرات پر بہت غور فرماتے، اس غور و فکر کی وجہ سے آپ کا دل و دماغ روشن ہو جاتا، جتنی بار آپ قرآن پڑھتے، آپ کو نئے معنی معلوم ہوتے اس وجہ سے آپ "عارف" کے لقب سے مشہور ہوئے۔[3]

بیعتِ و خلافت[ترمیم]

آپ اپنے والد بہاؤ الدین زکریا ملتانی سے بیعت ہوئے اور انہیں سے خرقہ خلافت پایا۔[3]

شجرہ طریقت[ترمیم]

آپ کا سلسہ طریقت یہ ہے۔ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی، ضیاء الدین سہروردی، شیخ ابو عبد اللہ، شیخ اسود احمد نیوری، شیخ ممتاز علی دنیوری، خواجہ جنید بغدادی، خواجہ سری سقطی، خواجہ معروف کرخی، خواجہ داؤد طائی، خواجہ عجیب عجمی، خواجہ حسن بصری، علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، جناب رسول اللہ ﷺ ۔[4]

شادی کے بارے میں دلچسپ واقعہ[ترمیم]

آپ کو طواف بیت اللہ شریف کا از حد شوق تھا۔ خانہ کعبہ کا طواف اس وقت کرتے جب اور کوئی طواف کرنے والا نہیں ہوتا۔ ایک رات جب آپ طواف میں مصروف تھے تو فرغانہ کی شہزادی جو اپنے وقت کی سلطان المشائخ تھیں، آپ سے چند قدم پیچھے طواف کر رہی تھیں۔ شہزادی کی نظر آپ کی پشت مبارک پر پڑی جہاں سے رہ رہ کر نور کی کرنیں منعکس ہو رہی تھی۔ شہزادی نے خداوند فراست سے معلوم کر لیا کہ "شعاع نور" کسی قطعب وقت کی ہیں جو آپ کی صلب میں جلوہ افروز ہیں۔ چنانچہ جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو شہزادی نے آپ کو مخاطب کیا اور پوچھا۔ آپ کون ہیں آپ کا وطن شریف کہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا نام صدر الدین اور وطن ملتان۔ پھر شہزادی نے پوچھا بہاؤ الدین زکریا کا ملتان۔ جی ہاں بندے کو بہاؤ الدین زکریا کی فرزندی کا شرف بھی حاصل ہے۔ شہزادی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئی، کیا آپ کی شادی ہو چکی ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ شہزادی نے عرض کی اگر آپ شادی کرنا چاہیں تو ایک موزوں رشتہ آپ کو مل سکتا ہے۔ آپ نے مسکرا کر کہا یہ معاملہ میرے والد ماجد کے متعلق ہے جب اور جس کے لیے چاہیے میں بے حیل و حجت قبول کر لو گا۔

شہزادی وطن واپس ہوئی اور جا کر تمام معاملہ اپنے والد کو بیان کر دیا۔ وہ اس خبر سے بہت خوش ہوئے، انہوں نے تمام امور ریاست وزیروں کے سپرد کیے اور ملتان شریف کے سفر کے لیے روانہ ہو گئے۔ شاہی قافلہ جہاں رکتا وہاں ایک کنواں رفاہ عامہ کے لیے بنواتے۔ جب یہ قافلہ ملتان کی حدود میں داخل ہوا تو بہاؤ الدین زکریا ملتانی معہ صاحبزادگان و خلفاء استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے۔ جس جگہ قافلے کا استقبال کیا گیا یہ وہی جگہ ہے جہاں اب بی بی راستی کا مزار ہے۔ غوث العالم کی امیری نما فقیری کی شہرت شہنشاہ فرغانہ جمال الدین فرغانہ سے ہی سن کر آئے تھے پھر بھی کسی خیال کے تحت ایک تھال زرو جواہر کا اپنے ساتھ لائے۔ ایک دن جب بہاؤ الدین زکریا ملتانی اپنے حجرہ میں مصروف عبادت تھے جب جمال الدین نے یہ نظرانہ خدام کے ذریعے پیش کیا۔ حضور نے توجہ نہ فرمائی اور مصلے کا ایک کنارہ اٹھا کر کہا ذرا ادھر توجہ فرمائیں۔ فرغانہ کا شاہ یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ نیچے جواہرات کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ دوسرے دن عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد حسب معمول حضرت کے تمام فرزند اور اکابر خلفاء دوزانو بیٹھے ہوئے تھے، سلطان نے عرض کی حضور اس خادم کی ایک عاجزہ ہے اپنی اولاد میں سے کوئی مخدوم زادہ مرمت فرمائیں تاکہ اسے ان کی غلامی میں دے سکوں۔ زکریا نے فرمایا میرے تمام لڑکے حاضر ہیں جس کو اپنا فرزند بنانا چاہیے مختار ہیں۔ سلطان نے اشارہ صدر الدین عارف کی طرف کیا۔ بہاؤ الدین زکریا تو پہلے ہی نور باطن سے سب کچھ معلوم کر چکے تھے پھر بھی آپ سے پوچھا رشتہ منظور ہے۔ عارف باللہ اپنی جگہ سے اٹھے اور والد ماجد کے قدم شریف کو بوسہ دیا۔ دونوں طرف مسرت کی لہر ڈوڑ گئی۔ زکریا نے سلطان کی طر ف مسکراتے ہوئے دیکھا اور فرمایا مبارک ہو۔ ساتھ ہی خدام کو اشارہ کیا کہ مٹھائی لے آؤ۔ اسی محفل میں بہاؤ الدین زکریا نے صدر الدین اور بی بی راستی کا نکاح پڑھا اور خطبہ تلاوت فرمایا۔ اس کے بعد سلطان جمال الدین نے شہزادی کا ہاتھ شیخ السلام کے دست مبارک میں دے کر فرمایا

من این عاجزہ را مسلمان روز قیامت مسلمان میخواہم

غوث العالمین نے شہزادی کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا

این فرزند من است انشاءاللہ مسلمان خواہد بود

اس کے بعد سلطان نے اجازت چاہی اور اپنے وطن واپس لوٹ گیا۔[5]

والد گرامی کا وصال[ترمیم]

بہاؤ الدین زکریا ملتانی نے 661ھ میں وصال فرمایا۔ اس وقت شیخ صدر الدین کی عمر مبارک چالس سال تھی مگر آپ کو بڑا صدمہ ہوا اور چند دن ناقابل برداشت حالت میں رہے لیکن توفیق باری تعالیٰ سے آپ نے اس صدمے کو بڑے صبر و تحمل سے برداشت کیا۔ اپنے والد ماجد کی نماز جنازہ آپ نے خود پڑھائی۔[6]

سجادگی[ترمیم]

والد محترم اور مرشد گرامی کی وفات کے بعد خاندان سہروردیہ کے جلیل القدر بزرگوں اور اپنے خانوادہ کے اکابرین نے دستار غوثیت آپ کو باندھی اور رشد و ہدایت کی مسند پر فائز کیا تو اسی روز سے آپ عملی طور پر اسلام کی تبلیغ اور خلق خدا کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔[6]

سخاوت[ترمیم]

جب آپ والد ماجد کی وفات کے بعد مسند رشد و ہدات ہوئے تو آپ کو اپنے والد کے ترکے سے سات لاکھ تتکے نقد ملے۔ لیکن آپ نے یہ سب رقم فقراء اور غربا میں تقسیم کر دی۔ کسی نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کے والد محترم اپنے خزانے میں اس قدر رقم جمع رکھتے تھے اور اسے آہستہ آہستہ خرچ کرنا پسند فرماتے، مگر آپ نے ایک ہی روز میں یہ تمام رقم خرچ کر دی۔ آپ نے مسکرا کر جواب دیا کہ میرے والد محترم دنیا پر غالب تھے، اس لیے انہیں اتنی دولت جمع ہونے پر بھی علائق دنیا سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن میں اس بلند مرتبے پر فائز نہیں ہوں اس لیے ڈرتا ہوں کہ دنیا کی دلفریبیوں میں مبتلا نہ ہو جاؤں، اس لیے یہ دولت جدا کر دی تا کہ قطعی طور پر یکسو ہو کر یاد الہی میں مشغول ہو جاؤں۔ اس سخاوت و فیاضی کے باوجود آپ کے پاس دولت کی اس قدر فروانی تھی کہ شیخ رکن الدین فردوسی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ دہلی سے ملتان گیا، میں وہاں صدر الدین سے بھی ملنے گیا، میں نے دیکھا آپ کے پاس بہت سے علما اور فقراء موجود تھے، تھوڑی دیر میں کھانے کا وقت آ گیا، اس پر تکلف دستر خوان کو دیکھ کر شاہی دسترخوان کا گمان ہوتا تھا، میں اگرچہ ایام بیض کے روزے رکھ رہا تھا، مگر تبرکاً کھانے میں شریک ہو گیا۔ شیخ صدر الدین نے مجھے اپنے پاس بیٹھا لیا، میں نے اپنے میزبان کے اصرار پر روزہ تو افطار کر لیا لیکن اس کشمکش میں تھا کہ صرف چکھنے پر اکتفا کروں یا کچھ کھا بھی لو۔ شیخ نے میری اس حالت کو کشفی طور پر محسوس کر لیا اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جو شخص باطنی حرارت سے کھانے کو نور بنا کر حق تک پہنچا سکے اس کے لیے کم کھانے کی پابندی ضروری نہیں۔[7]

خان شہید کی مجالس میں[ترمیم]

خان شہید (شہزادہ محمد سلطان) غیاث الدین بلبن کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ سلطان نے اپنے بیٹے کو ملتان میں مغلوں کے حملے کو روکنےکے لیے بھیجا تھا۔ آپ کو مغلوں کے حملوں میں شکست ہوئی اور آپ بھی شہید ہو گئے اس لیے آپ خان شہید کے نام سے مشہور ہے۔ ایک روز شیخ عثمان مروندی لعل شہباز قلندر اور شیخ صدر الدین عارف خان شہید کی محل میں تشریف رکھتے تھے، مجلس میں کچھ عربی اشعار پڑھے جا رہے تھے کسی شعر کو سن کر ان بزرگوں پر وجد کی کفیت طاری ہو گئی اور وہ رقص کرنے لگے خان شہید ان کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا اور زار زارروتا رہا۔[8]

ملفوظات[ترمیم]

شیخ صدر الدین عارف کے ملفوظات آپ کے ایک مرید خواجہ ضیاء الدین نے ”کنز الرموز“ کے نام سے جمع کیے تھے۔ یہ ملفوظات پند و موعظمت، اسرار و معارف، اثر و اثیر کے لحاظ سے ایک بیش بہا خزینہ ہیں۔ آپ نے اپنے مریدوں کو وصیت کرتے ہو ارشاد فرمایا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے جو اس قلعے میں داخل ہو گیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو گیا اور اس قلعے میں آنے کے تین طریقے ہیں ظاہر، باطن اور حقیقت۔ ظاہر یہ ہے کہ بندہ امید اور خوف سوائے خدا کے کسی سے نہ رکھے، اگر تمام لوگ اس کے دشمن ہو جائے تو اس سے فکر مند نہ ہو ،اگر تمام لوگ اس کے دوست بن جائے تو اس سے خوش نہ ہو، کیونکہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نفع و نقصان اور خیر و شر اس کو نہیں پہنچا سکتا۔

باطن یہ ہے کہ آدمی کو اس بات کا یقین ہو کہ موت سے پہلے اس دنیائے فانی میں جو اس کو پیش آنا ہے وہ آنی و فانی ہے اور خدائے تعالے کا قلم اس کے فانی ہونے پر چل چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے قلب میں نہ جنت کی آرزو ہو نہ دوزخ کا خوف ہو، صرف اللہ ہی اللہ ہو، جب انسان کے دل میں سچائی جاگرین ہو جاتی ہے تو بہشت اس کے پیچھے پیچھے آتی ہے اور دوزخ اس سے بھاگتی ہے۔

ایک اور موقع پر مریدوں کو وصیت فرمائی کہ کوئی سانس بغیر ذکر کے باہر نہیں نکالنا چاہیے کہ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جو بغیر ذکر کے سانس لیتا ہے وہ اپنا حال ضائع کرتا ہ اور ذکر کے وقت وسوسہ اور حدیث نفس سے گریز کرنا چاہیے۔ جب یہ صفت پیدا ہو جائے تو وسوسہ اور حدیث نفس ذکر کے نور سے جل جائے گئے اور دل میں ذکر نور اتر جائے گا اور قلب میں ذکر کی حقیقت ممکن ہو جائے گی۔ پھر ذکر مذکور کے مشاہدے کے ساتھ ہو گا اور دل، نور یقین سے منور ہو جائے گا اور یہی طالبوں اور سالکوں کا مقصود ہے۔

ایک اور موقع پر مریدوں سے فرمایا کہ پہلا قدم اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لانا ہے اور پھر اس ایمان پر ثابت قدم رہنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بغیر شک و شبہ کے رغبت، محبت اور معرفت کے ساتھ دل میں یہ اعتقاد رکھے کہ خدائے تعالے اپنی ذات میں اکیلا اپنی صفات میں یگانہ اور اور تمام صفات کمالیہ سے متصف ہے۔ اسماء، صفات اور افعال کے لحاظ سے قدیم ہے، اوہام و افہام کے اوراک سے بالاتر ہے، حددث، عوارض اور اجسام کی علامتوں سے مننرہ ہے۔ تمام عالم اسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس کی ذات و صفات میں چون و چرا کرنا جائز نہیں۔ نہ وہ خود کسی چیز سے مشابہ ہے۔ تمام پیغمبر اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام پیغمبروں سے افضل ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا صحیح ہے اور اس میں کوئی تفاوت نہیں خواہ یہ باتیں عقل میں آئے یا نہ آئے، اگر نہ آئیں تب بھی انہیں ماننا چاہیے تاکہ اعتقاد کی درستی حاصل ہو۔ کیونکہ رسول اللہ نے خدا کے حکم کو جانا۔ اس کی کہنہ اور کفیت معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی، اگر خدائے تعالیٰ کے حکم کی تاویل آیات اور احادیث کے مطابق ہو تو تاویل کرنا جائز ہے۔ صحت ایمان کی علامت یہ ہے کہ اگر بندہ نیک کام کرے تو اس کو خوشی محسوس ہو اور اگر اس سے برائی سرزد ہو تو اسے برائی بری معلوم ہو۔ ایمان کی استقامت کی علامت یہ ہے کہ بندے کو ازوائے ذوق و حال کے اللہ اور اس کا رسول اس کو محبوب ہو بجائے علم کے ۔[9]

کرامات[ترمیم]

شیخ احمد نام کا ایک سوداگر قندھار میں رہتا تھا بہت خوب صورت نوجوان تھا، اسے شراب کی اتنی لت پڑ چکی تھی کہ بے پئے ایک لحظہ زندگی گزارنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ اتفاق سے شیخ احمد اپنا اسباب تجارت ملتان لے آیا۔ بازار میں ایک شاندار دکان کرایہ پر لے کر کاروبار شروع کر دیا۔ کام خوب چل نکلا۔ شہر بھر میں اس کی شہرت ہوگی، خوب کمایا اور خوب کھایا، اس کی مےخوارگی کا ذکر کسی نے شیخ عارف سے بھی کر دیا اور عرض کی حضورشہر کے تمام بے فکر سے اس کے ہاں جاتے ہیں اور دن بھر جام چلتا رہتا ہے۔ آپ نے کچھ دیر تحمل کر کے فرمایا جب میں بازار سے گزروں ے تو مجھے وہ نوجوان دکھانا۔ ایک دن اتفاق سے آپ اپنے والد کے مقبرہ کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے جب اس کی دکان کے سامنے سے گزرے تو غلام نے عرض کی حضور یہی وہ سوداگر ہے جس کی مےخوارگی کی چرچہ آپ تک پہنچی تھی۔ شیخ نے مڑ کر دیکھا تو ایک بانکا، رنگیلا، سجیلا نوجوان مسند پر بیٹھا پایا۔ اس کی جبین سے سعادت کے آثار ظاہر تھے۔ آپ نے خادم سے فرمایا جس طرح بھی ممکن ہو اس نوجوان کو میرے پاس لے آ۔ حضرت زیارت سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ خادم نے شیخ احمد کو لا کر پیش کر دیا۔ حضرت اس کو اپنے حجرے میں ساتھ لے گئے۔ گرمی کا موسم تھا خدام نے شربت کا پیالہ پیش کیا۔ آپ نے اس میں ایک دو گھونٹ نوش فرمائے اور پھر پیالہ شیخ احمد کی طرف بڑھا دیا اور فرمایا ”بنوش“ اس کے پیتے ہی نوجون کا باطن انوار الہی سے جگمگا اٹھا۔ غفلت و بد مستی سے آنکھیں کھل گئی۔ شیخ کے سراپا پر نظر ڈالی تو کچھ اور ہی کفیت نظر آئی، وہاں شیخ عارف کہاں تھے معرفت الہی کا ایک نور تھا جو زمین سے اٹھ اٹھ کر باتیں کر رہا تھا۔ شیخ احمد وحدت کے نشہ سے مخمور ہو کر شیخ کے قدموں میں گرے اور بیعت کی التماس کی حضرت نے اسے اٹھا کر گلے سے لگا لیا اور سہروردیہ طریقہ کے مطابق اپنے حلقے میں شامل کر لیا۔ شیخ احمد واپس اپنی دکان پر لوٹے اور تمام سامان و اسباب گاڑیوں پر لدوا کر خانقاہ معلیٰ لے آیا اور فقراء و مساکین میں بانٹ کر اس طریق سے تفرید اور تجرید کی زندگی شروع کر کی کہ سات سال صرف ایک تہبند میں گزار دیے۔[10]

ایک روز آپ دریا کے کنارے تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ آپ کا بیٹا شیخ رکن الدین ابو الفتح تھے۔ آپ نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ اتنے میں ایک ہرن کا غول ادھر سے گزرا، اس میں ہرنی کا ایک بچہ بھی تھا۔ حضرت شیخ رکن الدین جن کی عمر اس وقت سات سال تھی، اس بچے کو پکڑنا چاہتے تھے لیکن وہ بچہ ہاتھ نہ آیا۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ نے اپنے بیٹے کو قرآن شریف کا سبق دیا، ان کو دس مرتبہ پڑھنے پر بھی سبق یاد نہیں ہوا حالانکہ وہ تین مرتبہ پڑھ کے یاد کر لیتے تھے۔ آپ نے وجہ معلوم کی، جب آپ کو ہرن کے غول اور بچے کا اس طرف آنا معلوم ہوا تو آپ نے پوچھا کہ وہ غول کس سمت گیا۔ بیٹے نے سمت بتائی۔ آپ نے اس طرف کچھ پڑھ کر پھونکا تو غول واپس آگیا۔ رکن الدین نے دوڑ کر اس بچے کو پکڑ لیا اور بہت خوش ہوئے اور اسی خوشی میں ایک سیپارہ حفظ کر لیا۔ ہرنی کو مع بچے کے خانقاہ لے آئے۔[11]

حضرت حسام الدین ملتانی فرماتے ہیں کہ دوران میں قیام ملتان ایک دفعہ آپ روضہ حضرت غوث کی زیارت کر کے باہر تشریف لا رہے تھے میرے دل میں خیال آیا میں بھی اس جگہ قطعہ زمین مانگ لو شاہد قربیت غوث میرے لیے نجات ہو۔ حضرت صدر الدین آپ کے اس خیال سے مطلع ہو گئے اور ارشاد فرمایا قبر کے لیے زمین دینا تو کوئی بڑی بات نہیں لیکن آپ کے لیے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پاک قطعہ زمین بدایوں میں تجویز فرمایا ہے۔ آپ کا مدفن اسی جگہ ہو گا۔ مولانا حسام الدین نے ایک رات بمقام بدایوں خواب دیکھا کہ ایک جگہ حضرت رسالت ماب وضو فرما رہے ہیں۔ صبح کو اٹھے تو وہ جگہ تر بھی پائی گئی تو فوراً ارشاد فرمایا کہ میرا مدفن اسی جگہ پر ہو چنانچہ آپ کو بوقت وصال اسی جگہ دفن کیا گیا۔

شیخ جمالی نے ایک دفعہ عالم رویا میں حضور سے عرض کی کہ عمر عزیز تلف ہو گئی اور کچھ حاصل نہ کر سکا یہ دعا تو فرمائیے کہ میں قرآن کریم حفظ کر لوں۔ ارشاد ہوا یہ کھیر کھاؤ اور سورہ یوسف پڑھا کرو۔ شیخ جمالی نے کھیر کا پیالہ آپ کے ہاتھ سے لے کر کھا لیا۔ جب بیدار ہوئے تو نقشہ بدل چکا تھا۔ سورہ یوسف حفظ کی اور بہت جلد حافظ قرآن ہو گئے۔[12]

وصال مبارک[ترمیم]

شیخ صدر الدین کا سنہ وفات سفینتہ الاولیا میں 23 ذالحجہ 684ھ مذکور ہے۔ صاحب مراۃالاسرار کا بیان ہے کہ وفات وقت آپ کی عمر 69 سال تھی۔ صاحب خزنیتہ الاصفیا نے آپ کا سنہ وفات 666ھ بتایا ہے۔[13]

سیرت[ترمیم]

آپ بحر معرفت میں ایسے مستفرق تھے کہ بعض اوقات آپ کو اپنی خبر نہ ہوتی تھی ترک و تفرید میں یگانہ روزگار تھے، پرہیزگاری، جود و سخا، لطف و بخش، مہمان نوازی آپ کی خصوصیات تھیں۔

تعلیمات[ترمیم]

آپ فرماتے تھے کہ استقامت ایمان کی یہ ہے کہ خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہان سے پیارے معلوم ہوں۔

اقوال[ترمیم]

مرگ سے پہلے جو کچھ ہوتا ہے، وہ جادوانی نہیں اس پر عدم کا قلم ضرور پھیرا جائے گا۔

صحت ایمان کی یہ نشانی ہے کہ نیکی سے خوشی حاصل ہوں اور بدی بری معلوم ہو۔[14]

خلفاء[ترمیم]

حضرت شیخ صدر الدین عارف کے جلیل القدر خلفاء میں شیخ جمال خنداں، شیخ حسام الدین ملتانی، مولانا علاء الدین خجندی، شیخ احمد بن محمد قندھاری اور شیخ صلاح الدین درویش مشہور ہیں۔[13]

مزار اقدس اور عرس مبارک[ترمیم]

آپ کا مزار اقدس آپ کے والد گرامی حصرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے پہلو میں ہے اور مزار مبارک پر ایک عالی شان گنبد بنا ہوا ہے۔ حضرت شیخ صدر الدین عارف کا عرس مبارک 23 ذالحجہ کو منایا جاتا ہے، جس میں پاکستان کے کونے کونے سے علما، مشائخ اور عقیدت مندوں کا ہجوم آتا ہے۔[13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب تذکرہ اولیائے پاکستان جلد 1 صفحہ85
  2. حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی مصنف و مولف حمید اللہ شاہ ہاشمی صفحہ 16
  3. ^ ا ب تذکرہ اولیائے پاک و ہند صفحہ 72
  4. تذکرہ اولیائے پاکستان جلد 1 صفحہ 71
  5. تذکرہ اولیائے ملتان صفحہ 39 تا 41
  6. ^ ا ب تذکرہ اولیائے پاکستان جلد 1 صفحہ 86
  7. تذکرہ صوفیائے پنجاب صفحہ 363 اور 364
  8. تذکرہ صوفیائے پنجاب صفحہ 371
  9. تذکرہ اولیائے پاکستان جلد 1 صفحہ 92 تا 94
  10. تذکرہ اولیائے پاکستان جلد 1 صفحہ 89 تا 91
  11. تذکرہ اولیائے پاک و ہند صفحہ 71 اور 72
  12. تذکرہ اولیائے ملتان صفحہ 43 اور 44
  13. ^ ا ب پ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد 1 صفحہ 92
  14. تذکرہ اولیائے پاک و ہند صفحہ 71