صراط الجنان فے تفسیر القران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صراط الجنان فے تفسیر القران
 
No-Book.svg
اصل عنوان صراط الجنان فے تفسیر القران
مترجم مفتی محمد قاسم
مفسر مفتی محمد قاسم
سرورق مصور مجلس آئی ٹی دعوت اسلامی
ملک پاکستان
زبان اردو
صنف اسلامی ادب
ناشر مکتبۃالمدینہ کراچی، پاکستان
تاریخ اشاعت مئی 2013ء
ذرائع ابلاغ انٹر نیٹ، اور چھپی ہوئی
صفحات 4 جلدیں، ابھی 12 پاروں کی تفسیر چھپی ہے

مفتی محمد قاسم قادری کی قرآن مجید کی اردو تفسیر، یہ تفسیر امام احمد رضا خان کے ترجمہ قرآن کنز الایمان کے ساتھ چھپی ہے۔ اس تفسیر کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں دو اردو ترجمے شامل ہیں ایک مصنف کا اپنا بھی ہے، جس کی وجہ مفتی محمد قاسم نے یہ بیان کی ہے کہ کنز الایمان 1911ء میں لکھا گیا جس کی اردو آج کے لوگ آسانی سے نہیں سمجھ سکتے۔

سال اشاعت[ترمیم]

خصوصیات[ترمیم]

سب سے بڑی خصو صیت یہ ہے کہ اس میں آج کل کے فرقہ ورانہ ماحول کی نمائندگی نہیں کی گئی، ایسے سارے مقامات سے اعتدال کی راہ چنی گئی ہے۔ جدید و قدیم تفاسیر اور دیگر علوم اسلامیہ پر مشتمل ذخیرہ کتب کی روشنی میں قرآن مجید کی آیات کے مطالب و معانی اور ان سے حاصل ہونے والے درس و مسائل کا موجود زمانے کے تقاضوں کے مطابق انتہائی سہل بیان، نیز مسلمانوں کے عقائد دین اسلام کے اوصاف و خصوصیات، اہلسنت کے نظریات و معمولات، اخلاقیات، باطنی امراض اور معاشرتی برائیوں سے متعلق قرآن و حدیث ، اقوال صحابہ تابعین اور دیگر بزرگان دین کے ارشادات کی روشنی میں ایک جامع تفسیر ہے۔مزید خصوصیات یہ ہیں ۔

  • 1) قرآنِ مجید کی ہر آیت کے تحت دو ترجمے ذکر کئے گئے ہیں، ایک اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا ترجمہ ’’کنز الایمان‘‘ہے۔ جبکہ دوسرا ترجمہ ’’کنز العرفان‘‘ہے۔ اردو زبان میں چونکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کئی قسم کی تبدیلیاں ہوئیں قدیم طرز پر لکھنے جانے والے الفاظ کی جگہ نئے رسم الخط نے لے لی، فی زمانہ ان الفاظ کا استعمال کم ہونے کی وجہ سے عام قاری کو دشواری پیش آسکتی تھی اسی خیال کے پیش نظر ترجمہکنز الایمان سے استفادہ کرتے ہوئے، ترجمہ قرآن کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آسان اردو میں ترجمہ’’کنز العرفان‘‘ شامل کیا گیا ہے ۔
  • 2) قدیم و جدید تفاسیر اور دیگر علوم اسلامیہ پر مشتمل معتبر اور قابلِ اعتماد علماء ِ کرام بالخصوص امام احمد رضا خان کی لکھی ہوئی کثیر کتابوں سے کلام اخذ کر کے اسے باحوالہ لکھا گیاہے، نیز بعض مقامات پر ان بزرگوں کے ذکر کردہ کلام کو اپنے انداز اورالفاظ میں بغیر حوالے کے پیش کرنے کی سعی بھی کئی گئی ہے تاکہ ان کی طرف کوئی ایسی بات منسوب نہ ہو جو انہوں نے اپنی کتاب میں بیان نہ فرمائی ہو۔
  • 3) عام لوگوں کی سہولت کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث و روایات اورکتب تفاسیر وغیرہ کی عربی عبارتیں ذکر نہیں کی گئی، نیز ان کا لفظ بلفظ ترجمہ کرنے کے بجائے آسان اور با محاورہ ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ سمجھنا آسان ہو، نیز تفہیم میں آسانی کے لئے کئی ایک مقامات ہے عربی عبارتوں کا خلاصہ کلام ذکرکیا ہے۔
  • 4) جہاں کئی تفاسیر سے کلام اخذ کیا ہے وہاں سب کا کلام ایک ساتھ ذکر کیا ہے تاکہ قاری کے مطالعے کا تسلسل برقرار رہے اور آخر میں سب کتابوں کا ایک ساتھ حوالہ دے کر آخر میں ملتقطا یا ملخصا لکھ دیا ہے۔
  • 5) صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی کے تفسیری حاشیہ خزائن العرفانکے مشکل الفاظ کو آسان الفاظ میں بدل کر تقریباً مکمل ہی اس تفسیر میں شامل کیا گیا ہے نیز ضروری مقامات کی تخریج و تحقیق بھی کر دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی کے حاشیہ نور العرفان سے بھی مدد لی گئی ہے اور اس کے بھی کثیر حصے کو بھی معمولی تبدیلیوں کے ساتھ شامل کیا ہے۔
  • 6) صراط الجنانکو متوسط رکھا گیا ہے اوراس بات کا خاص طور پر خیال کیا گیا ہے کہ تفسیر نہ زیادہ طویل ہوکہ پڑھنے والا یہ گمان کر بیٹھے کہ یہ تفسیر کے علاوہ کوئی اور دینی کتاب ہے۔ یونہی صراط الجنان اتنی مختصر بھی نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے عام قاری کی تفسیری تشنگی باقی رہ جائے۔
  • 7) اسی طرح ایک عام قاری علمی اور فنی ابحاث پڑھتے ہوئے تفسیر ی نکات سمجھنے میں بہت دشواری محسوس کرتا ہے لہذا جن علمی اور فنی ابحاث کو جاننے میں عوام کا خاطر خواہ فائدہ نہیں تھا ان سے گریز کر کے تفسیر کو جامع بنایا گیا ہے البتہ جہاں جہاں آیات کی تفہیم کے لئے ان فنی اور علمی ابحاث کی ضرورت تھی وہاں حتّی الامکان انہیں آسان انداز میں ذکر کرنے کی کوشش ضرورکی گئی ہے تاکہ بات پوری طرح واضح ہوسکے۔
  • 8) عام طور پرکتابوں میں اردو کی مشکل تراکیب اور طویل جملوں کو استعمال کرکے کلام کو عمدہ اور خوبصورت بنانا معمول ہے لیکن اس کی وجہ سے کم پڑھے لکھے افراد کے لئے اس انداز بیان سے فائدہ اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے لہذا صراط الجنان میں مشکل کی بجائے آسان الفاظ اور طویل جملوں کے بجائے مختصر اور عام فہم جملے استعمال کئے گئے ہیں تاکہ کم پڑھا لکھا یا متوسط درجے کی اردو زبان سے واقف شخص تفسیر کو پڑھ کر باآسانی سمجھ سکے اور قرآنِ مجید کی تعلیمات اور احکام اسلامی کوسمجھ کر ان پر عمل کر سکے۔
  • 9) مختلف مقامات پر عقائد ِاہلسنّت اور نظریات ومعمولات ِاہلسنّت کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے ۔
  • 10) مفسر کے لئے ایک سعادت یہ بھی ہے کہ وہ حضور پر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ مبارکہ اور فضائل و مناقب بیان کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتا، لہذا صراط الجنان میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت طیبہ کے مختلف نورانی گوشوں اور فضائل و مناقب کو خاص طور پر بیان کرکے تفسیر کی افادیت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ صحابہ اور اولیا کی پاکیزہ سیرت کے روشن پہلو اور حکمت بھرے واقعات ،قبر و آخرت کی تیاری کرنے والوں کے لئے کسی انمول خزانے سے کم نہیں ہیں۔
  • 11) قرآنِ مجید میں جہاں شرعی احکام و مسائل کا بیان ہوا وہاں تفسیر میں ضروری مسائل آسان انداز میں بیان کئے گئے ہیں، جہاں جہنم کے عذابات اور جنت کے انعامات کا ذکر ہوا وہاں عذابِ جہنم سے بچنے اور جنتی نعمتوں کے حصول کی ترغیب پر مشتمل مضامین آسان اور ترغیبی انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ یونہی جہاں اعمال کی اصلاح کا ذکر ہے وہاں اصلاحِ اعمال کی ترغیب وترہیب ہے ،جہاں معاشرتی برائیوں کا تذکرہ ہوا وہاں ان سے متعلق ضروری ہدایات کو احسن انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
  • 12) امت مسلمہ میں پائے جانے والے ہلاکت خیز گناہوں اور باطنی امراض مثلا ًتکبر، حسد اور خود پسندی جیسی باطنی بیماریوں کے بارے میں قدرے تفصیل سے کلام کیا گیاہے۔
  • 13) اسلامی معاشرت کے حسن کو برقرار رکھنے کے لئے ان سے متعلق بھی بہت سا اصلاحی مواد شامل کیا گیا ہے۔
  • 14) علمی و اصلاحی درس اور مضامین نے علماء ،خطبا ء ،واعظین اور مبلغین حضرات کے لئے اس تفسیر کو مزید پر کشش بنا دیا ہے۔
  • 15) سورتوں کا تعارف ،قرآنی آیات کے شان نزول ،حکمتیں اور مقاصد جگہ جگہ اپنے انوار و تجلیات سے اوراق کو زینت بخش رہے ہیں۔
  • 16) جو طالب ِحق کی تسکینِ روح اور اطمینانِ قلب کے لئے بہت کافی ہے۔
  • 17) آیات سے حاصل ہونے والے نکات اور معلوم ہونے والی اہم اور ضروری باتوں کوعلیحدہ سے ذکر کیا گیا ہے قاری جوں جوں انہیں پڑھنا شروع کرتا ہے اس کے علم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
  • 18) موقع کی مناسبت سے مختلف مقامات پر قرآن وحدیث کے اذکار اوربزرگان دین سے منقول وظائف بیان کرنے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
  • 19) ہر جلد کی ابتداء میں تفصیلی جبکہ آخر میں ضمنی فہرست موجود ہے جس سے قرآنی مضامین کو سمجھنے اور اپنے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے میں بڑی آسانی رہتی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]