مندرجات کا رخ کریں

تفسیر صراط الجنان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
تفسیر صراط الجنان
مجلد سیٹ
مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2013ء-2017ء
فرنٹ ٹائٹل
مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2017ء، جلد 10
بیک ٹائٹل
مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2017ء، جلد 10
نمونہ صفحہ
مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2013ء، پارہ 2، سورت 2، آیت 183، جلد 1، صفحہ 290
کتابیات
مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2017ء، جلد 10، صفحہ 877
ِانڈیکس (موضوعاتی)
مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2017ء، جلد 10،صفحہ 822
مصنفمفتی محمد قاسم قادری
زباناردو
صنفتفسیر
ناشرمکتبۃ المدینہ: کراچی
تاریخ اشاعت
2013ء – جلد 1
2013ء – جلد 2
2014ء – جلد 3
2014ء – جلد 4
2015ء – جلد 5
2015ء – جلد 6
2015ء – جلد 7
2016ء – جلد 8
2016ء – جلد 9
2017ء – جلد 10
طرز طباعتپرنٹ (مجلد)
صفحات6509
جلدیں11

تفسیر صراط الجنان، جس کا پورا نام ہے صِرَاطُ الْجِنَانِ فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْاٰنِ، شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم قادری کی اردو زبان میں ایک مفصل اور جامع تفسیرِ قرآن ہے، جو 10 جلدوں پر مشتمل ہے۔

خصوصیات

[ترمیم]

یہ ایک جامع اور متوسط تفسیر ہے جسے عوام الناس کی دینی رہنمائی اور قرآن فہمی کو آسان بنانے کے لیے تحریر کیا گیا۔

  • تفصیل نہ زیادہ طویل ہے نہ مختصر۔
  • پیچیدہ علمی و فنی مباحث سے حتی الامکان اجتناب کیا گیا ہے اور جہاں ضرورت ہو وہاں انھیں آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
  • مشکل اردو تراکیب کی بجائے سادہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں تاکہ کم تعلیم یافتہ طبقہ بھی فائدہ اٹھا سکے۔
  • قدیم و جدید تفاسیر سے مواد اخذ کر کے حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
  • ہر آیت کے تحت اہم نکات اور مضامین کو الگ نمایاں کیا گیا ہے تاکہ قرآن میں آسانی ہو۔
  • جہاں آیات میں شرعی احکام، اصلاحِ اعمال، معاشرتی برائیاں، جنت و دوزخ کے تذکرے یا باطنی امراض کی نشان دہی ہو، وہاں ان سے متعلق اصلاحی اور ترغیبی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
  • والدین، رشتہ داروں، یتیموں، پڑوسیوں اور دیگر سماجی پہلوؤں سے متعلق اسلامی حسنِ معاشرت کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔
  • سیرتِ نبوی، صحابہ کرام اور اولیائے کرام کے واقعات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

نمونہ تفسیر (10:9:69)

[ترمیم]

[ترجمہ]

ترجمۂ کنزالایمان: جیسے وہ جو تم سے پہلے تھے تم سے زور میں بڑھ کر تھے اور ان کے مال اور اولاد تم سے زیادہ  تو وہ اپنا حصہ برت گئے تو تم نے اپنا حصہ برتا جیسے اگلے اپنا حصہ برت گئے اور تم بیہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے ان کے عمل اکارت گئے  دنیا اور آخرت میں  اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے منافقو!) جس طرح تم سے پہلے لوگ تم سے قوت میں زیادہ مضبوط اور مال اور اولاد کی کثرت میں تم سے بڑھ کر تھے پھر انھوں نے اپنے (دنیا کے) حصے سے لطف اٹھایا تو تم بھی ویسے ہی اپنے حصے سے لطف اٹھالو جیسے تم سے پہلے والوں نے اپنے حصوں سے فائدہ حاصل کیا اور تم اسی طرح بیہودگی میں پڑ گئے جیسے وہ بیہودگی میں پڑے تھے۔ ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہو گئے اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں۔

[تفسیر]

{...جس طرح تم سے پہلے لوگ۔} یعنی اے منافقو! تم گذشتہ زمانے کے ان لوگوں کی طرح ہو جو قوت میں تم سے زیادہ مضبوط اور مال و اولاد کی کثرت میں تم سے بڑھ کر تھے پھر انھوں نے اپنی دنیوی لذتوں اور شہوتوں    کے حصے سے لطف اٹھایا ۔ اے منافقو! تم بھی ویسے ہی اپنے حصے سے لطف اٹھالو اور جو موج مستی کرنی ہے کرلو۔ یہ سارا کلام انھیں ڈانٹ ڈپٹ اور دھمکی کے طور پر ہے۔ مزید فرمایا کہ جیسے پہلے لوگ بیہودگی میں پڑے ہوئے تھے تم بھی اسی طرح بیہودگی میں پڑ گئے اور تم نے باطل کی اتباع کی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اورا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تکذیب اور مؤمنین کے ساتھ اِستہزاء کرنے میں ان کی رَوِش اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں ان لوگوں کے تمام اَعمال دنیا و آخرت میں برباد ہو گئے اوروہ اس کی وجہ سے خسارے میں پڑ گئے اور اب انھیں کفار کی طرح اے منافقین تم بھی گھاٹے میں ہو اور تمھارے عمل باطل ہیں...[خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: 69، 2/258-259، ملخصاً]۔

مال و دولت اور افرادی قوت کی زیادتی کامیابی کی علامت نہیں: اس  آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیوی مال ودولت کی کثرت اور افرادی قوت کی زیادتی کوئی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کامیابی ایمان اور تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ ہے۔ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:... اور تمھارے مال اور تمھاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمھیں ہمارے قریب کر دیں مگر وہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا (وہ ہمارے قریب ہے) ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں کئی گنا جزا ہے اور وہ(جنت کے) بالاخانوں میں امن وچین سے ہوں گے [سبا:37]۔

جامعاتی تحقیق

[ترمیم]

اس تفسیر کو نہ صرف عام قارئین اور عوامی حلقوں میں بے حد پزیرائی حاصل ہوئی، بلکہ علمی و تحقیقی حلقوں میں بھی اسے تحسین کی نظر سے دیکھا گیا۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے اس کے افادۂ عام، سادہ اور جامع اندازِ بیان کو سراہا اور متعدد جامعات کے طلبہ نے اس پر تحقیقی و تجزیاتی مقالات تحریر کیے۔[1] ان مقالات میں نہ صرف اس کے منہج و اسلوب کا جائزہ لیا گیا، بلکہ مختلف علمی، فقہی، کلامی، تصوفی اور سیرتی مباحث کو بھی موضوعِ تحقیق بنایا گیا۔ ذیل میں اس تفسیر پر لکھے گئے صِرف چند ایک مقالہ جات کی فہرست پیش کی جا رہی ہے، جو اس تفسیر کی علمی اہمیت اور تحقیقی قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔

  • ارم بانو۔ صراط الجنان فی تفسیر القرآن قاسم قادری کی اعتقادی مباحث بشمول اہلِ کتاب کا تجزیاتی مطالعہ۔ زیر نگرانی محمد اشتیاق۔ ایم فل مقالہ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، فیصل آباد۔[2]
  • ارَم شفیق۔ تفسیر صراط الجنان میں مباحثِ تصوف کا تحقیقی مطالعہ۔ زیر نگرانی محمد عاطف اسلم راؤ۔ ایم فل مقالہ، یونیورسٹی آف کراچی، کراچی۔[2]
  • بنت اسلم نقشبندی۔ تفسیر صراط الجنان کا منہج: تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ۔ ایم فل مقالہ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی۔[2]
  • عکاس غفور۔ تفسیر صراط الجنان کے فقہی مباحث۔ زیر نگرانی یاسر عرفات۔ ایم اے مقالہ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد۔[2]
  • عبد الحمید۔ صراط الجنان فی تفسیر القرآن کا علمی جائزہ معاصر اردو تفسیری رجحانات کے تناظر میں۔ زیر نگرانی عبد الغفار۔ پی ایچ ڈی مقالہ، دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور۔[2]
  • عبد المنان۔ تفسیر صراط الجنان میں مباحث تزکیہ نفس۔ زیر نگرانی صبا نور۔ ایم اے مقالہ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، فیصل آباد۔[2]
  • عبدالوحید اکرم۔ تفسیر صراط الجنان میں مطالعہ مذاہب کی مباحث کا تحقیقی جائزہ۔ زیر نگرانی ساجد اسداللہ۔ ایم فل مقالہ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، فیصل آباد۔[2]
  • صبا مختار۔ تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں مباحثِ علوم القرآن کا تجزیاتی مطالعہ۔ زیر نگرانی حبیب الرحمٰن۔ ایم اے مقالہ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، فیصل آباد۔[2]
  • ساجدہ پروین۔ تفسیر صراط الجنان میں مباحثِ سیرت۔ زیر نگرانی ہمایوں عباس شمس۔ ایم اے مقالہ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد۔[2]
  • شاہ زوار خان۔ تفسیر صراط الجنان کی روشنی میں مباحثِ سیرت کا جائزہ۔ زیر نگرانی ندیم عباس۔ ایم فل مقالہ، یونیورسٹی آف گجرات، گجرات۔[2]
  • فائزہ نسیم۔ صراط الجنان فی تفسیرالقرآن کی فقہی مباحث کا تحقیقی جائزہ۔ زیر نگرانی ایس ایم شریف۔ ایم اے مقالہ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، فیصل آباد۔[2]
  • غلام میمونہ۔ صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں قاسم قادری عطاری کا منہج: تجزیاتی مطالعہ۔ زیر نگرانی غلام یوسف۔ ایم فل مقالہ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، پاکستان۔[3]
  • محمد اعوان، حافظ۔ تفسیر صراط الجنان کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ زیر نگرانی محمد شہباز منج۔ مقالہ، یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا۔[2]
  • محمد طارق۔ تفسیر صراط الجنان کا تحقیقی جائزہ: سورة البقرہ کا خصوصی مطالعہ۔ ایم فل مقالہ، نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس، ملتان۔[2]
  • نمرہ نسیم اور نفیسہ خلیل۔ "وراثتی مسائل میں تفسیر معارف القرآن اور صراط الجنان کا تقابلی مطالعہ۔" 2023ء۔[4]
  • ولید احمد اور محمد اعجاز۔ تفسیر صراط الجنان (نصف اول) کا منہج واسلوب: ایک تحقیقی جائزہ۔ زیر نگرانی محمد اعجاز۔ بی ایس مقالہ، لاہور: شیخ زید اسلامک سنٹر، 2016۔[5]

تاریخ

[ترمیم]

تفسیر صراط الجنان کی پہلی جلد کی اشاعت 2013ء میں ہوئی، جبکہ آخری جلد 2017ء میں شائع ہوئی۔ تمام جلدیں مکتبۃ المدینہ، کراچی، سے شائع ہوئیں۔

طباعتِ تفسیر صراط الجنان کا اجمالی خاکہ
جلد پارہ مطبوعہ اشاعت صفحات
11 تا 3مکتبۃ المدینہ: کراچی2013524
24 تا 6مکتبۃ المدینہ: کراچی2013495
37 تا 9مکتبۃ المدینہ: کراچی2014581
410 تا 12مکتبۃ المدینہ: کراچی2014599
513 تا 15مکتبۃ المدینہ: کراچی2015624
616 تا 18مکتبۃ المدینہ: کراچی2015717
719 تا 21مکتبۃ المدینہ: کراچی2015619
822 تا 24مکتبۃ المدینہ: کراچی2016674
925 تا 27مکتبۃ المدینہ: کراچی2016777
1028 تا 30مکتبۃ المدینہ: کراچی2017899

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ابوالحسنین ذوالقرنین المدنی۔ "تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن اردو از تفسير من الحديث والتفسیر۔" مکتبۃ الاشاعت، اخذ شدہ 8 جولائی 2025۔
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ایشین ریسرچ تھیسیز انڈیکس۔ "صراط الجنان۔" اخذ شدہ 8 جولائی 2025۔
  3. غلام میمونہ۔ "صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں قاسم قادری عطاری کا منہج: تجزیاتی مطالعہ"۔ زیر نگرانی غلام یوسف۔ ایم فل مقالہ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، اخذ شدہ 8 جولائی 2025۔
  4. نمرہ نسیم اور نفیسہ خلیل۔ "وراثتی مسائل میں تفسیر معارف القرآن اور صراط الجنان کا تقابلی مطالعہ۔" 2023ء۔
  5. ولید احمد اور محمد اعجاز۔ تفسیر صراط الجنان (نصف اول) کا منہج واسلوب: ایک تحقیقی جائزہ۔ لاہور: شیخ زید اسلامک سنٹر، 2016۔