مندرجات کا رخ کریں

صفریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کوئی فیصلہ نہیں مگر خدا کی طرف سے

صفریہ خوارج کا ایک فرقہ تھا جو مغرب الأقصى (مراکش) میں ظاہر ہوا اور اس خطے پر قابض ہو گیا۔ ان کے نمایاں قائدین میں میسرہ مطغری شامل تھا۔ اس فرقے نے سجلماسہ میں ایک ریاست قائم کی، جسے دولت بنی مدرار کہا جاتا ہے۔[1]

ان کا تاریخی پس منظر

[ترمیم]

علما جیسے کہ ابو حسن اشعری اور شہرستانی اس فرقے کو زیاد بن أصفر سے منسوب کرتے ہیں، جب کہ مقریزی کا کہنا ہے کہ یہ زیاد بن الأصفر کے پیروکار تھے اور وہ مزید کہتا ہے کہ شاید یہ نعمان بن الصفر کے پیروکار ہوں اور بعض کا قول ہے کہ ان کی نسبت عبد اللہ بن صفار کی طرف ہے۔[2][3] انھیں الزیادیہ بھی کہا جاتا ہے اور النُکّار (یعنی کم کرنے والے) بھی، اس لیے کہ وہ حضرت علیؓ کا نصف، حضرت عثمانؓ کا ثلث اور حضرت عائشہؓ کا سدس (چھٹا حصہ) مانتے تھے۔[4] ابتدا میں خوارج یا "محکّمہ" کے گروہ تین تھے: 1. الازارقہ 2. النجدات 3. بيہسيہ یہ تین فرقے 64 ہجری میں موجود تھے۔ پھر 75 ہجری میں ان کے ساتھ چوتھی جماعت کا اضافہ ہوا جسے الصفرية کہا جاتا ہے۔ یہ چاروں فرقے بعض عقائد میں باہم متفق تھے، لیکن انھوں نے ایک دوسرے کو کافر بھی قرار دیا اور انھوں نے اموی حکومت سے کئی بار ٹکر لی۔ خلافت کی افواج نے ان کے خلاف مہمات چلائیں، ان کی قوت کو کچلا اور ان کے سرداروں کو ختم کر دیا۔[5]

عقائد

[ترمیم]

الصُّفریہ کے عقائد اباضیوں کے مشابہ ہیں:

  1. انھوں نے جنگ سے پیچھے رہنے والے خوارج (قُعدہ) کو کافر قرار نہیں دیا۔
  2. رجم (سنگساری) کو ساقط نہیں کیا (یعنی اس سزا کو مانتے ہیں)۔
  3. ان کے نزدیک تقیہ (خوف کی حالت میں عقیدہ چھپانا) صرف قول میں جائز ہے، عمل میں نہیں۔
  4. کبیرہ گناہ کے مرتکبین پر کافر یا مشرک کا اطلاق تفصیل کے ساتھ کیا:
  5. جن اعمال پر حد (شرعی سزا) مقرر ہے، ان کے مرتکب کو اُسی نام سے پکارا جائے گا جیسے زنا، چوری، قذف (تہمت) — تو ایسے شخص کو زانی، چور یا قاذف کہا جائے گا، کافر یا مشرک نہیں۔
  6. لیکن وہ کبیرہ گناہ جن پر حد مقرر نہیں جیسے نماز چھوڑنا یا میدانِ جنگ سے فرار — ان کے مرتکب کو کافر سمجھا جائے گا۔
  7. ضحاک (صُفری فرقے کا ایک شخص) سے منقول ہے کہ اُس نے تقیہ کی سرزمین میں مسلمان عورتوں کا نکاح اپنے قبیلے کے کفار (مراد دیگر مسلمان) سے جائز قرار دیا۔[6]
  8. زیاد بن اصفر سے مروی ہے کہ تقیہ کی حالت میں زکٰوۃ صرف ایک حصے میں محدود ہے۔
  9. اور اس کا یہ قول بھی منقول ہے: "ہم اپنے نزدیک مومن ہیں، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ کے ہاں ہم ایمان سے خارج ہو چکے ہیں یا نہیں۔"
  10. ان کے نزدیک کفر کی دو قسمیں ہیں: 1. نعمت کا انکار (کفرانِ نعمت) 2. ربوبیت کا انکار (کفرانِ ربوبیت)
  11. براءت (دشمنی) کی بھی دو قسمیں ہیں: 1. اہلِ حدود (یعنی گناہگاروں) سے براءت — یہ سنت ہے۔ 2. اہلِ جحود (یعنی منکرینِ حق) سے براءت — یہ فرض ہے۔[7]

شہرستانی کے مطابق: وہ ہر کبیرہ گناہ کو شرک و کفر کا موجب نہیں سمجھتے، سوائے ان گناہوں کے جن پر کوئی حد مقرر نہ ہو، مثلاً نماز کا ترک۔ تمام صفریہ بلکہ تمام خوارج، حتیٰ کہ اباضیہ بھی:

عبد اللہ بن وہب راسِبی، حرکوص بن زہیر اور دیگر پہلے محکمّہ (خارجی) گروہ کے افراد سے دوستی و اتباع کو درست مانتے ہیں۔ وہ ابو بلال مرداس کی امامت کو تسلیم کرتے ہیں، جو پہلے خارجی گروہ کے بعد اُٹھے۔ نیز عِمران بن حِطّان سُّدوسی کو ابو بلال کے بعد امام مانتے ہیں۔

ابو بلال مرداس: اس کی سوانح گذر چکی ہے۔ وہ یزید بن معاویہ کے دور میں بصرہ کے قریب خروج کرنے والا ایک خارجی تھا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عبّاد بن أخضر تمیمی کو اس کے خلاف بھیجا، جس نے اسے اس کے ساتھیوں سمیت قتل کر دیا۔

عِمران بن حِطّان السُّدوسی: وہ خوارج کے شاعر و خطیب تھا۔ 84 ہجری میں فوت ہوا۔ اس کی حضرت علیؓ سے شدید نفرت کا یہ عالم تھا کہ اس نے عبد الرحمن بن ملجم (قاتلِ علی) کی مرثیہ گوئی بھی کی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. حمود شاكر: الدولة العباسية 5/161.
  2. مقالات الإسلاميين ص 101
  3. الملل والنحل 1/137
  4. المقريزي، الخطط 2/354، والنكّار جمع ناكر
  5. الدكتور رجب محمّد عبد الحليم (استاذ التاريخ بجامعة القاهرة وجامعة السلطان قابوس): الإباضية في مصر و المغرب: 14
  6. يريد أنّه لا يجب صرف الزكاة على الأصناف الثمانية الواردة في آية الصدقات، لعدم بسط اليد في دار التقيّة بل تصرف في مورد واحد
  7. الملل و النحل 1/137. البغدادي: الفَرق بين الفِرق 90. الأشعري: المقالات 101