صفوان بن سلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صفوان بن سلیم
معلومات شخصیت
پیدائشی نام صفوان بن سليم
پیدائش سنہ 680  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 750 (69–70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت أبو عبد الله أو أبو الحارث
لقب المدنى القرشى الزهرى مولاهم
عملی زندگی
طبقہ الطبقة الرابعة، من التابعين
ابن حجر کی رائے ثقة عابد رُمِىَ بالقدر
پیشہ محدث،  فقیہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صفوان بن سلیم زہریؒ تابعین میں سے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

صفوان نام،ابو عبداللہ کنیت،والد کے نام میں اختلاف ہے،بعض سلیم اوربعض سلام لکھتے ہیں،مدینہ کے ممتاز تابعین میں تھے۔

فضل وکمال[ترمیم]

اگرچہ صفوان کا اصل طغرائے کمال ان کا زہد وورع تھا،لیکن فضائل علمی سے بھی وہ تہی دامن نہ تھے،حافظ ذہبی ان کو ثقۃ حجۃ اوراعلام میں لکھتے ہیں ۔ [1]

حدیث[ترمیم]

حدیث میں انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ، انس بن مالکؓ، ابو امامہؓ،سعید بن مسیبؓ عبدالرحمن بن اغنم،ابوسلمہ بن عبدالرحمن،سعید بن سلمہ، عبداللہ بن سلیمان الاغر،عبدالرحمن ابن سعد اور عطاء بن یسار وغیرہ سے فیض اٹھایا تھا [2] اور زید بن اسلم،ابن منکدر،موسیٰ بن عقبہ،ابن جریج ،یزید بن جبیب ،مالک بن انس،اکابر علماء کی بڑی جماعت ان کے تلامذہ میں تھی۔ [3]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی انہیں درک تھا، اور ان کا شمار مدینۃ الرسول کے فقہا میں تھا (ایضاً) ابن عماد حنبلی انہیں فقیہ القدوہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ [4]

عبادت وریاضت[ترمیم]

ان کا امتیازی وصف ان کا زہد وورع اورعبادت وریاضت ہے اس کے علاوہ ان کا اورکوئی مشغلہ نہ تھا، احمد بن حنبل فرماتے تھے کہ وہ خدا کے بہترین بندوں میں تھے، ان کے وسیلہ سے پانی کی دعا کی جاتی تھی۔ [5] بڑے سخت عبادتیں کرتے تھے، نیند کے غلبہ کے خوف سے جاڑوں کے موسم میں کھلی چھت پر اورگرمیوں میں بندمکان میں عبادت کرتے تھے کہ سردی اور گرمی کے غلبہ سے نیند نہ آنے پائے، نمازیں پڑھتے پڑھتے دونوں پاؤں سوج جاتے تھے اورتھک کر گرپڑتے تھے [6] سجدوں کی کثرت سے پیشانی زخمی ہوگئی تھی ۔ [7]

اتفاق فی سبیل للہ خدا کی راہ میں انفاق کا یہ حال تھا کہ بدن کے کپڑے تک اتار کر دے دیتے تھے،ایک شب کو مسجد سے نکلے، سردی سخت تھی،مسجد کے باہر ایک آدمی ننگے بدن نظر آیا،صفوان نے اسی وقت اپنے جسم کے کپڑے اتار کر دے دئیے۔ [8]

دولت دنیا سے بے نیازی[ترمیم]

استغناء اوربے نیازی کے اس درجہ پر تھے کہ سلاطین اورفرماں روا ان کی خدمت کرنا چاہتے تھے،وہ مگر قبول نہ کرتے تھے،مسجد نبوی میں عبادت کیا کرتے تھے،ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالملک مدینہ آیا اورعمر بن عبدالعزیزؓ کے ہمراہ مسجد نبوی دیکھنے کے لیے گیا، ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد مقصورہ کا دروازہ کھولا تو اس میں صفوان نظرآئے،سلیمان انہیں پہچانتا نہ تھا، عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں،ان کے بشرہ سے بہتر آثار میں نے نہیں دیکھے،عمرؓ بن عبد العزیز نے کہا امیر المومنین یہ صفوان بن سلیم ہیں، ان کا نام سُن کر اس نے غلام کو پانسو دینار کی تھیلی ان کی خدمت میں پیش کرنے کا حکم دیا،غلام نے لے جاکر پیش کی کہ یہ امیر المومنین کی جانب سے نذر ہے،وہ یہاں موجود ہیں،صفوان نے کہا تم کو دھوکا ہوا ہے کسی اورکے پاس بھیجی ہوگی،غلام نے عرض کیا آپ صفوان نہیں ہیں ؟ فرمایا ہوں تو میں ہی ،غلام نے کہا تو آپ ہی کو دیا ہے،فرمایا جاؤ، دوبارہ پوچھ آؤ، جیسے ہی غلام پوچھنے کے لیے لوٹا، صفوان فوراً جوتا اٹھا کر مسجد سے نکل گئے اورپھر جتنی دیر سلیمان مسجد میں رہا نہ دکھائی دئیے۔ [9]

وفات[ترمیم]

۱۳۲ھ میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۲۰)
  2. (تہذیب التہذیب:۴/۴۲۵)
  3. (تذکرۃ الحفاظ ایضاً)
  4. (شذرات الذہب :۱/۱۸۹)
  5. (شذرات الذہب ایضاً)
  6. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۲۰)
  7. (تذکرہ الحفاظ ایضاً)
  8. (تذکرہ الحفاظ ایضاً)
  9. (صفوۃ الصفوۃ :۱۴۸)