صفیہ بنت عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

صحابیہ جو حضرت عبدالمطلب کی صاحبزادی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی تھیں۔ آپ آنحضرت کی تمام پھوپھیوں میں واحد پھوپھی تھیں جو مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ والدہ کا نام ہالہ بنت وہب جو حضرت آمنہ بنت وہب کی بہن تھیں اس لحاظ سے صفیہ بنت عبد المطلب آنحضرت کی خالہ زاد بہن بھی تھیں نیز آپ سید الشہدا حضرت حمزہ کی حقیقی بہن تھیں۔

ازدواجی حیثیت[ترمیم]

صفیہ بنت عبد المطلب کا پہلا نکاح ابو سفیان بن حرب کے بھائی حارث بن حرب سے ہوا۔ اس کے انتقال کے بعد آپ کا نکاح حضرت خدیجہ کے بھائی عوام بن خویلد سے ہو گیا۔

اولاد[ترمیم]

آپ عشرہ مبشرہ میں شاملزبیر ابن العوام کی والدہ تھیں۔

قبول اسلام[ترمیم]

آنحضرت کی بعثت کے ساتھ ہی آپ نے اسلام قبول کر لیا۔

دینی خدمات[ترمیم]

غزوہ احد اور غزوہ خندق میں انہوں نے بڑی بہادری دکھائی۔یہ بہت شیر دل اور بہادر خاتون ہیں جنگ خندق کے موقع پر تمام مجاہدین اسلام کفار کے مقابلہ میں صف بندی کر کے کھڑے تھے اور ایک محفوظ مقام پر سب عورتوں بچوں کو ایک پرانے قلعہ میں جمع کر دیا گیا تھا اچانک ایک یہودی تلوار لے کر قلعہ کی دیوار پھاندتے ہوئے عورتوں کی طرف بڑھا اس موقع پر حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اکیلی اس یہودی پر جھپٹ کر پہنچیں اور خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ کر اس زور سے اس یہودی کے سر پر ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ تلوار لئے ہوئے چکرا کر گرا اور مرگیا پھر اسی کی تلوار سے اس کا سر کاٹ کر باہر پھینک دیا یہ دیکھ کر جتنے یہودی عورتوں پر حملہ کرنے کے لئے قلعہ کے باہر کھڑے تھے بھاگ نکلے اسی طرح جنگ احد میں جب مسلمانوں کا لشکر بکھر گیا یہ اکیلی کفار پر نیزہ چلاتی رہیں یہاں تک کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ان کی بے پناہ بہادری پر سخت تعجب ہوا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کے فرزند حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے زبیررضی اﷲ تعالیٰ عنہ! اپنی ماں اور میری پھوپھی کی بہادری تو دیکھو کہ بڑے بڑے بہادر بھاگ گئے مگر چٹان کی طرح کفار کے نرغے میں ڈٹی ہوئی اکیلی لڑ رہی ہیں اسی طرح جب جنگ احد میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چچا حضرت سید الشہداء حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شہید ہوگئے اور کافروں نے ان کے کان ناک کاٹ کر اور آنکھیں نکال کر شکم چاک کر دیا تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو منع کردیا کہ میری پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو میرے چچا کی لاش پر مت آنے دینا ورنہ وہ اپنے بھائی کی لاش کا یہ حال دیکھ کر رنج و غم میں ڈوب جائیں گی مگر حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پھر بھی لاش کے پاس پہنچ گئیں اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے اجازت لے کر لاش کو دیکھا تو اناﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہا کہ میں خدا کی راہ میں اس کو کوئی بڑی قربانی نہیں سمجھتی پھر مغفرت کی دعا مانگتے ہوئے وہاں سے چلی آئیں۔[1][2]

ادبی ذوق[ترمیم]

آنحضرت کی رحلت پر انہوں نے بڑا پر اثر مرثیہ کہا۔

وفات و تدفین[ترمیم]

20ھ میں تہتر برس کی عمر پاکر مدینہ میں وفات پائی آپ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ شرح العلامۃ الزرقانی،ذکر بعض مناقب العباس،ج4،ص490
  2. ^ جنتی زیور،عبدالمصطفٰی اعظمی،صفحہ504،ناشرمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی