صفی الرحمٰن مبارک پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صفی الرحمٰن مبارک پوری
معلومات شخصیت
پیدائش 6 جون 1943  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مبارکپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 1 دسمبر 2006 (63 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سوانح نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]،  وعربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

صفی الرحمن مبارکپوری سیرت النبی کے موضوع پر لکھی گئی عالمی انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کے مصنف ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

صفی الرحمن 6 جون 1943ء کو اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں مبارکپور سے ایک میل کے فاصلے پر واقع گاؤں حسین آباد میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

آپ نے اپنی ابتدائی زندگی گھر پر ہی گزاری اور اپنے دادا اورچچا سے قرآن کی تعلیم حاصل کی

تعلیمی زندگی[ترمیم]

ابتدا میں مدرسہ عربیہ دار التعلیم سے عربی اور فارسی زبانوں کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1954ء میں مدرسہ احیاء العلوم مبارکپور میں داخلہ لیا۔

تصانیف[ترمیم]

اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو عربی اور اردو، ہردو زبانوں میں انشاوتحریرکاعمدہ ذوق اورسلیقہ عطاکررکھاتھا۔ آپ نے اردو و عربی میں کئی کتابیں لکھیں۔

اردو[ترمیم]

الرحیق المختوم[ترمیم]

آپ کی شہرہٴ آفاق تصنیف الرحیق المختومسیرتِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر مستند ترین دستاویز مانی جاتی ہے یہ کتاب اُنہوں نے اصلاً عربی میں لکھی اوربعد میں اس کو اردو کے حسین قالب میں بھی خودہی ڈھالا۔

انکارِحدیث حق یا باطل[ترمیم]

صحفِ یہود و نصاریٰ میں محمد (ص) کے متعلق بشارتیں[ترمیم]

اسلام اورعدمِ تشدد[ترمیم]

( 1984ئ)مطبوع۔ یہ مولانا موصوف کی اہم تقریر تھی جسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔

تاریخِ مکہ[ترمیم]

تاریخِ مدینہ[ترمیم]

تاریخِ آلِ سعود[ترمیم]

تذکرہ محمد بن عبد الوہاب[ترمیم]

یہ اصلاً محکمہ شرعیہقطرکے قاضی شیخ احمد بن حجر کی عربی تالیف کا ترجمہ ہے لیکن اس میں کسی قدر ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے۔

قادیانیت اپنے آئینے میں[ترمیم]

عربی[ترمیم]

الرحیق المختوم[ترمیم]

آپ کی شہرہٴ آفاق تصنیف الرحیق المختوم سیرتِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر مستند ترین دستاویز مانی جاتی ہےرابطہ عالم اسلامی کی جانب سے آپکی اس کتاب کوسیرت النبیصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موضوع پرلکھی گئی کتابوں میں سے اول قراردیاگیا۔ مرحوم نےعربی زبان میں ہیالرحیق المختوم کااختصاربھی روضة الأنوار في سیرة النبي المختار کے نام سے کیاتھا

اتحاف الکرام تعلیق بلوغ المرام[ترمیم]

یہ کتاب دراصل حافظابن حجر عسقلانی کی کتاببلوغ المرام کی شرح ہے

شرح أزہار العرب[ترمیم]

أزہار العرب علامہ محمد سورتی کاجمع کردہ نفیس عربی اشعار پرمشتمل ایک منتخب اور ممتاز مجموعہ ہے۔ یہ شرح 1963ء میں لکھی گئی مگر قدرے ناقص رہی او رطبع نہیں کرائی جاسکی۔

منۃ المنعم[ترمیم]

یہ عربی میں صحیح مسلمکی شرح ہے جو منة المُنعم کے نام سے چار جلدوں میں دارالسلام ہی کی طرف سے شائع ہوئی ہے

ترجمہ و توضیح کتاب الاربعین للنووی[ترمیم]

ترجمہ الکلم الطیب لابن تیمیہ[ترمیم]

المصابیح فی مسالۃ التراویح للسیوطی[ترمیم]

بہجۃ النظر فی مصطلح اہل الاثر[ترمیم]

الفرقۃ الناجیہ و الفرق الاسلامیۃ الاخری[ترمیم]

تفسیر ابن کثیر کی تلخیص اور اردو ترجمہٴ قرآن احسن البیان کی نظرثانی کا مبارک کام بھی شیخ کے نمایاں کاز میں سے ہیں ۔

وفات[ترمیم]

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی وفات 1 دسمبر 2006ء کو بروزجمعہ اپنے آبائی گاؤں مبارکپور ہوئی۔ آپ کو بروز ہفتہ 2 دسمبر 2006ء بعد نمازِ ظہر ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ نمازِ جنازہ مفتی یاسر صفی الرحمٰن نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد شریک ہوئے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14526554r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14526554r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ