صلابت جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صلابت جنگ
Asaf-ad-Daulah Mir Ali Salabat Jung Nawab Subahdar of the Deccan
Salabat Jung.jpg
دور13 فروری 1751 – 8 جولائی 1762
پیشرومحی الدین مظفر جنگ ہدایت
جانشینعلی خان آصف جاہ ثانی
اولاد
2 بیٹے
والدنظام الملک آصف جاہ اول
پیدائش24 نومبر 1718
حیدرآباد، دکن، مغلیہ سلطنت
(now in تلنگانہ، India)
وفات16 ستمبر 1763
Bidar Fort، بیدر، ریاست حیدرآباد، مغلیہ سلطنت
(now in کرناٹک، India)
تدفینمکہ مسجد، حیدرآباد، دکن، ریاست حیدرآباد، مغلیہ سلطنت
(now in تلنگانہ، India)
عسکری زندگی
وفاداریمغلیہ سلطنت
سروس/شاخنظام حیدرآباد
درجہامیر، صوبیدار، Viceroy
مقابلے/جنگیںCarnatic Wars

صلابت جنگ 24 نومبر 1718ء میں میر سید محمد خان صدیقی بےآفنندی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ حیدرآباد کے نجم المک کے تیسرے بیٹے اور حیدرآباد کے چوتھے نظام تھے۔ مغل سلطنت کے وزیر اعظم غازی الدین خان فیروز جنگ جو ان کے بڑے بھائی بھی تھے ان کی طرف نائب صوبےدار مقرر کیا گیا اور وہیں سے ان کا نام صلابت جنگ پڑا۔ 12 ستمبر 1749ء میں شاہی فرمان کے تحت اورنگ آباد مہاراشٹر میں سرمایہ کاری کی۔ والد کی زندگی میں ہی ان کو خان بہادر اور صلابت جنگ کے القاب سے نوازا جا چکا تھا۔

دوسری کونیٹک جنگ میں دو بار قیدی بنے، پہلی بار ناصر جنگ کیمپ میں اور اس کے بعد مظفر جنگ کیمپ میں قید ہوئے۔

13 فروری 1751ء کو افغانوں کے ہاتھوں ان کے بھتیجے کی ہلاکت کے بعد میر سید محمد نے لکڑڈپالی میں فرانسیسی ماتحت نئے نظام کا آغاز کرنے پر انہیں آصف الدولہ، نواب سید محمد خان بہادر، صلابت جنگ اور دکن کے نواب صوبےدار کے القاب سے نوازا۔ ان کی ترقی امیر المملکی کے لقب جو شنہشاہ عالمگیر کی جانب سے دیا گیا، سے ہوئی۔ وہ ہندوستان میں حیدرآباد ریاست کے 1751ء سے 1762ء تک حکمران رہے۔ حیدرآباد کا خلوتھ محل انہی کی تعمیرات میں سے تھا۔ صلابت دکن میں فرانسیسیوں کے پچھلے حقوق اور امتیازات کو دوبارہ جاری کرنے پر رضامند ہو گیا تھا۔[1]

ڈی بوسی کو سیف الدولہ عماد الملک کا خطاب دیا اور مغل شہنشاہ عالمگیر کو اس بارے میں منظوری کے لیے لکھا۔

شہنشاہ عالمگیر نے اس پر اتفاق کیا اور ڈیبوسی کو 7000 کے منصب دار کے لقب و اعزاز سے نوازا اور فرانس کی نمائندگی کا وکیل مقرر کیا۔ سال 1756ء میں صلابت جنگ نے اس نئے اتحاد کا بھاری فائدہ اٹھایا، کیٹیوکٹس نامی ہتھیار جو زمین پر منسلک ہوتے تھے اس سے بہت تیزی سے فائر کے لئےجانا جاتا تھا۔ یہ سارے ہتھیار مراٹھہ کی بغاوتوں پر قابو پانے کے لیے محفوظ رکھے گئے۔

وہ 8 جولائی 1762ء کو اپنے بھائی آصف جاہ میر علی خان صدیقی کے حکم پر معزول ہوئے اور قلعہ بدر میں قید ہوئے۔ وہیں اسی جگہ 13 ستمبر 1763ء میں قتل ہوئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]