صلاۃ التسبیح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

صلاة التسبيح نفل نماز کی ایک قسم ہے جس میں ایک تشہد یا دو سلام کے ساتھ چار رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ اس نماز کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں کثرت سے تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔ تسبیح کے الفاظ جو حدیث میں وارد ہوئے ہیں یہ ہیں : «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر»، اور ایک روایت میں ان الفاظ کی زیادتی بھی ملتی ہے «ولا حول ولا قوة إلا بالله»۔ یہ تسبیح اس نماز کی ہر رکعت میں پچھتر بار 75 پڑھی جاتی ہے۔[1]

صحت[ترمیم]

صلات التسبیح کی صحت میں اہل علم کا اختلاف ہے، علما کے ایک گروہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے جن میں سے ابن العربی، نووی (شرح المہذب میں)، ابن قیم جوزیہ، ابن عبد الہادی، مزی، ابن حجر عسقلانی (التلخیص میں) اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کیا اور کہا ہے کہ اس میں موسی بن عبد العزیز مجہول ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے اس کو صحیح یا حسن کہا ہے، ان میں ابو بکر آجری، ابو محمد عبد الرحیم مصری، ابو الحسن مقدسی، ابو داؤد، مسلم، صلاح الدین اعلائی، خطیب، ابن صلاح، سبکی، سراج الدین بلقینی، ابن مندہ، حاکم، منذری، ابو موسیٰ مدینی، زرکشی اور نووی (تہذیب الاسماء واللغات میں)، ابو سعید سمعانی، ابن حجر عسقلانی (فی الخصال المکفرہ اور اَمالی الاذکار میں)، ابو منصور دیلمی، بیہقی، دارقطنی اور دیگر اہل علم نے بھی اس پر صحت یا تحسین کا حکم لگایا ہے۔

صلاۃ التسبیح کا مسنون ہونا بدلائل قویہ ثابت ہے، ابن عباس کی حدیث ضعیف نہیں، بلکہ حسن درجہ سے کم نہیں بلکہ شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ معلوم ہوتی ہے۔[2]

حکم[ترمیم]

صلاۃ التسبیح فقہی حکم کے اعتبار سے جمہور فقہا کے نزدیک نفل ہے۔ جو روز پڑھ سکتا ہے وہ روزانہ پڑھے، یا تو ہفتہ میں ایک دن جمعہ کو پڑھے، یا مہینے میں ایک بار پڑھے، یا پھر سال میں ایک مرتبہ پڑھے ورنہ کم از کم زندگی میں ایک بار پڑھے۔ جمہور علما و فقہا اسے مستحب قرار دیتے ہیں، البتہ امام احمد بن حنبل کے ایک قول کے مطابق یہ مستحب بھی نہیں ہے، چونکہ یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ دوسرے فقہا کا کہنا ہے کہ: نوافل اور مستحبات میں حدیث کا ثبوت ضروری نہیں ہوتا ہے۔ تاہم جمہور محققین کے نزدیک صلاۃ التسبیح حدیث سے بھی ثابت ہے۔[3]

پڑھنے کا طریقہ[ترمیم]

چار رکعت کی نیت باندھ کر ثنا، اعوذ باللہ بسم اللہ اور قرات کے بعد رکوع سے پہلے پندرہ مرتبہ ”سُبْحَانَ اللهِ وَالحَمْدُ لِلهِ وَلَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ“ پڑھ کر رکوع کرے اور رکوع میں تین مرتبہ سبحان ربی العظیم کہنے کے بعد پھر یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھے۔ پھر رکوع سے اٹھے اور سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا لک الحمد کے بعد قومہ میں دس بار پڑھے پھر سجدہ میں جاکر سبحان ربی الاعلی تین بار پڑھنے کے بعد دس مرتبہ وہی تسبیح پڑھے۔ پھر سجدہ سے اٹھ کر دس بار وہی تسبیح پڑھے، پھر دوسرے سجدے میں اسی طرح دس مرتبہ پڑھے۔ پھر سجدہ سے سر اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر بیٹھے اور دس مرتبہ پڑھ کر بغیر اللہ اکبر کہے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے، یوں ایک رکعت میں 75 دفعہ تسبیحات ہوگئیں۔ اسی طرح دوسری رکعت پڑھ کر جب التحیات کے لیے بیٹھے تو اولاً دس مرتبہ پڑھے پھر التحیات پڑھے اسی طرح چاروں رکعتیں پوری کریں، یہ کل 300 مرتبہ ہوگئے۔ 

یہ طریقہ ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے۔[1]

مختصر یہ کہ صلاۃ التسبیح کی چار رکعتیں ہیں ان کے پڑھنے کا طریقہ حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح پڑھ کر فاتحہ پھر کوئی سورت پڑھی جائے۔ اس کے بعد پندرہ دفعہ ”سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر“ پڑھا جائے۔ اور رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ (دو سجدوں کا درمیانی وقفہ) پھر دوسرے سجدہ اور جلسہ استراحت میں دس دس بار یہ تسبیحات پڑھی جائیں۔

علمائے اسلام کہتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو یہ نماز روزانہ ایک بار پڑھ لیا کرے اور اگر نہ ہوسکے تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیا کرے، یہ نہ ہوسکے تو مہینہ میں ایک بار پڑھ لیا کرے، یہ بھی نہ ہوسکے تو سال بھر میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرے، اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو کم ازکم زندگی بھر میں ایک بار ضرور پڑھ لے۔ جمہور علما کے نزدیک یہ مستحب ہے۔ احمد بن حنبل کے اس سلسلہ میں دو قول ہیں، ایک قول کے مطابق وہ اسے غیر مستحب مانتے ہیں، کیونکہ یہ حدیث ان کے نزدیک ثابت نہیں۔ حالانکہ جمہور محققین کے نزدیک صلاة التسبيح کی حدیث ثابت ہے، ان لوگوں کے برخلاف جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں اور قاعدہ یہ ہے کہ اثبات مقدم ہے نفی پر اور جو جانتا ہے وہ دلیل ہے نہ جاننے والوں کے خلاف۔

صلاۃ التسبیح کی جماعت[ترمیم]

نمازِ تسبیح کیونکہ نوافل میں سے ہے۔ جب نوافل کی جماعت ثابت ہے تو نماز تسبیح کی جماعت بھی ثابت ہوگئی۔ لیکن نمازِ تسبیح اصل میں اکیلے کی نماز ہے، اور ابن عباس کو بھی انفرادی طور پر تعلیم کی گئی تھی۔ جماعت کا صرف جواز ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ابن عابدين (1423 هـ/ 2003م). رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ج2 كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، (مطلب في صلاة التسبيح. عالم الكتب. صفحات 471 وما بعدها. 28 جنوری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. ابو الحسن عبید اللہ مبارکوری، مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح 2/ 253
  3. المغني لابن قدامة، فصل: صلاة التسابيح، ج1 ص437