صلح حسن و معاویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سنہ 661ء میں علی کے قتل کے بعد حسن ابن علی نے خلافت سنبھال لی۔ اس وقت اہل بیت اور معاویہ بن ابو سفیان کے درمیان جنگ ہوئی تھی (دیکھیے جنگ صفین)۔ مزید خانہ جنگی سے بچنے کے لیے حسن ابن علی نے معاویہ کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔کیونکہ صلح جنگی ماحول یا  کسی جرم کی سزاء کی معافی پہ صلح ہوتی ہے۔دیگر صلح کا اصول ہے کی کسی معاملے کی غلطی پہ صلح یا معافی سے درگزر کیا جایا یا دیت دیکر صلح کی جائی امیر شام اور امام حسن کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی تھی البتہ معاہدہ ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت حسن نے خلافت کو معاویہ کے سپرد کر دیا مگر اس شرط پر کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کریں گے۔ حسن چاہتے تھے کہ معاویہ امت مسلمہ کو جانشین چننے کا موقع دیں۔[1][2][3]

پس منظر[ترمیم]

معاویہ بن ابو سفیان جزیرہ نما عرب کے علاقے شام (موجودہ سوریہ، لبنان، اردن اور فلسطین) کے گورنر تھے۔ جب علی ابن ابی طالب چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے تو معاویہ نے ان کی بیعت کرنے سے انکار دیا اور اسی وجہ سے نزاع برپا ہوا۔[4] بعد میں علی قتل کر دیے گئے اور لوگوں نے ان کے فرزند حسن کی بیعت کر لی، پھر معاویہ نے حسن پر حملہ کر دیا۔ نتیجاً حسن اور معاویہ کی فوجوں کے درمیان بار بار جھڑپیں ہوئیں اور کوئی دو ٹوک فیصلہ نہ ہو سکا۔[2]

معاویہ جس نے پہلے ہی حسن کے ساتھ مذاکرات شروع کردیے تھے اس نے اعلی سطحی قاصد بھیجے، جبکہ اس بات کا اعادہ کیا کہ حسن کو جانشین مقرر کریں گے جس کی گواہی ایک خط دیتی ہے اور جو کچھ ان کی خواہش ہو وہ اسے دیں گے۔ حسن نے پیشکش کو قبول کیا اور عمرو بن سلمہ الہمدانی اور اپنے سالے محمد ابن اشعث کو واپس اپنے مذاکرات کاروں کے طور پر معاویہ کے پاس بھیجا۔ پھر معاویہ نے خط لکھا کہ وہ حسن کے ساتھ امن اس بنیاد پر کر رہے ہیں کہ حسن اس کے بعد ان کے وارث ہوں گے۔ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ اسے نقصان پہنچانے کی خواہش نہ کریں گے۔ اور یہ کہ وہ 1,000,000 درہم خزانہ (بیت المال) سے سالانہ اس کا وظیفہ مقرر کریں گے، ساتھ ہی ساتھ فسا اور دارابگرد کی زمینوں کا ٹیکس بھی ادا کرتے رہے گے۔ جس کو وصول کرنے کے لیے حسن اپنے آدمی بھیجیں گے۔ یہ خط چار قاصدوں نے مورخہ اگست 661ء میں دیکھا۔[5][6]

جب حسن نے خط پڑھا تو فرمایا ”وہ میرے نفس کو اُس معاملے پر مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر مجھے اس کی طمع ہوتی تو میں کیا ان سے صلح کرتا۔“[7] پھر انہوں نے معاویہ کے بھانجے عبد اللہ بن حارث کو واضح ہدایات کے ساتھ ان کے پاس بھیجا۔ اور ان سے کہا کہ ”جا کر اپنے ماموں سے کہو کہ اگر وہ عوام الناس کے تحفظ کی ضمانت دیں تو میں ان سے صلح پر آمادہ ہوں۔“ تب معاویہ نے اپنی مہر لگا کر ایک کاغذ بھیجا کہ حسن اس پر جو چاہیں لکھ لیں۔[2][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Dwight M. Donaldson۔ The Shi'ite Religion: A History of Islam in Persia and Irak۔ BURLEIGH PRESS۔ صفحات 66–78۔
  2. ^ ا ب پ Syed Husain Mohammad Jafri (2002)۔ The Origins and Early Development of Shi’a Islam; Chapter 6۔ Oxford University Press۔ آئی ایس بی این 978-0195793871۔
  3. Shaykh Radi Aal-Yasin؛ Translated by Jasim al-Rasheed۔ Sulh al-Hasan (The Peace Treaty of al-Hasan (a))۔ Qum: Ansariyan Publications۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 دسمبر 2013۔
  4. "Alī ibn Abu Talib"۔ Encyclopædia Iranica۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-12-16۔
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Momen نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. ^ ا ب Madelung 1997، صفحہ۔ 322
  7. Wilferd Madelung۔ ḤASAN B. ʿALI B. ABI ṬĀLEB۔ Encyclopedia Iranica۔