صلح حسن و معاویہ
صلح حسن کی خیالی عکاسی جس میں معاویہ اور حسن کو ہاتھ ملاتے دکھایا گیا ہے | |
| قسم | صلح نامہ |
|---|---|
| سیاق و سباق | فتنہ قتل عثمان |
| دستخط | 41ھ (661ء) |
| مقام | کوفہ |
| شرط | معاہدے کے مطابق معاویہ قرآن و سنت کے مطابق حکومت کریں گے اور اپنے بعد جانشین مقرر نہیں کریں گے۔ |
| فریق | حسن بن علی معاویہ بن ابی سفیان |
صلح حسن و معاویہ یا صلح حسن وہ سیاسی صلح نامہ تھا جو 661ء میں حسن بن علی اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان طے پایا۔ اس معاہدے کا مقصد پہلی خانہ جنگی (فتنۂ اوّل) کو ختم کرنا تھا جو کئی برس سے جاری تھی۔ اس معاہدے کے تحت حسن نے خلافت معاویہ کے حوالے کر دی اس شرط پر کہ وہ قرآن اور سنت کے مطابق حکومت کریں گے، اپنے بعد جانشین کے انتخاب کے لیے مشاورت کی جائے گی اور حسن کے ساتھیوں اور حامیوں کو کسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ [1][2] لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد مُعاویہ نے کھلے طور پر ان وعدوں کی پابندی نہیں کی۔ [1][3] حسن نے اس کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور مدینہ میں گوشہ نشین ہو گئے۔ [4][5][6][7] معاویہ کے دور میں حسن اور ان کے والد علی کے کئی معروف حامیوں کے خلاف سخت اقدامات بھی کیے گئے۔ [8][9][10]
تاریخی پس منظر
[ترمیم]661ء میں علی کے قتل کے بعد[11] ان کے بڑے بیٹے حسن کو کوفہ میں خلیفہ تسلیم کر لیا گیا۔ [12][13] شام کے گورنر معاویہ (جو اس سے پہلے علی کے ساتھ جنگ میں مصروف رہے تھے) نے حسن کی خلافت کو ماننے سے انکار کر دیا[1] اور ایک لشکر کے ساتھ کوفہ کی طرف پیش قدمی کی۔ [14][15] ساتھ ہی وہ خطوط کے ذریعے حسن پر دستبردار ہونے کا دباؤ بھی ڈالتے رہے۔ [13][1] اس کے جواب میں حسن نے عبید اللہ بن عباس کی قیادت میں ایک دستہ مقام مسکن بھیجا تاکہ معاویہ کی پیش قدمی روکی جا سکے، یہاں تک کہ وہ خود اپنی مرکزی فوج کے ساتھ پہنچیں۔ [16][17][13][18] اسی دوران حسن کو اپنے ہی لشکر میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، [19][20] جس کے پیچھے غالباً معاویہ کے کارندوں کا ہاتھ تھا۔ [21][22] مزید یہ کہ خوارج کے ایک فرد نے حسن پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ [13][20][23] اس واقعے سے ان کی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور بڑی تعداد میں سپاہی لشکر چھوڑ کر چلے گئے۔ [24][13][25] ادھر عبید اللہ بن عباس اور ان کے زیادہ تر سپاہی بھی معاویہ کی طرف سے رشوت ملنے پر منحرف ہو گئے۔ [26][27][28] جب حسن کو اس صورت حال کا علم ہوا تو انھوں نے عراقی سرداروں کی بے ثباتی اور کم ہمتی پر سخت ناراضی ظاہر کی۔ [29]
صُلْح نامہ
[ترمیم]ان حالات میں معاویہ نے اپنے نمائندے بھیجے اور یہ پیش کش کی کہ اگر حسن خلافت ان کے حوالے کر دیں تو مسلمانوں کا خون بہنے سے بچ جائے گا۔ اس کے بدلے میں انھوں نے حسن کو جان و مال کی ضمانت، مالی معاوضہ اور بعض دیگر شرائط ماننے پر آمادگی ظاہر کی۔ [30][21] حسن نے اصولی طور پر اس تجویز کو قبول کیا اور اپنے نمائندے معاویہ کے پاس بھیجے۔ بعد میں حسن نے تحریری طور پر اپنی شرائط لکھیں کہ حکومت قرآن اور سنت کے مطابق چلائی جائے گی، آئندہ خلیفہ کا انتخاب مشاورت سے ہوگا، عام لوگوں کو امن حاصل رہے گا اور حسن کے حامیوں کو معافی دی جائے گی۔ [1][2] ان کے خط کے گواہ دو نمائندے تھے جنھوں نے اسے معاویہ تک پہنچایا تھا۔[31] بالآخر حسن نے سات ماہ کی خلافت کے بعد اگست 661ء میں خلافت سے دستبرداری اختیار کر لی۔ [1][32][33] بعض لوگوں نے اس فیصلے پر تنقید کی مگر بہت سے مورخین کے نزدیک اہلِ کوفہ کی کمزور حمایت اور معاویہ کی عسکری برتری کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ [34][21][35][36] ان کے مطابق حسن کا مقصد مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم رکھنا، خونریزی سے بچنا اور سیاسی کشمکش کا خاتمہ تھا۔ [13][37]
صلح کی شرائط
[ترمیم]وچا والیری (متوفیہ 1989ء) کے نزدیک صلح سے متعلق بعض روایات آپس میں ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔ وہ ابتدائی مصادر میں مذکور متعدد شرائط کی فہرست پیش کرتی ہیں اور ان کی صحت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ ان میں یہ باتیں شامل ہیں کہ حسن کو ہر سال دس یا بیس لاکھ درہم دیے جائیں، کوفہ کے بیت المال سے ایک مرتبہ پچاس لاکھ درہم ادا کیے جائیں، فارس کے مختلف ناموں والے علاقوں کی سالانہ آمدنی حسن کو دی جائے، معاویہ کے بعد حسن کو جانشین بنایا جائے یا پھر ایک شوریٰ جانشین مقرر کرے اور وظیفوں میں بنو ہاشم کو بنو امیہ پر ترجیح دی جائے۔[13] حمید ماوانی کے مطابق ایک شرط یہ بھی ہو سکتی ہے کہ معاویہ مساجد میں علی پر لعنت کے رواج کو ختم کریں۔[38]
جعفری (متوفی 2019ء) بھی اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ معاہدے کی شرائط طبری (متوفی 923ء)، دینوری (متوفی 895ء)، ابن عبد البر اور ابن اثیر کے ہاں مختلف اور مبہم انداز میں بیان ہوئی ہیں جبکہ یعقوبی (متوفی 897ء/898ء) اور مسعودی (متوفی 956ء) ان شرائط کا سرے سے ذکر ہی نہیں کرتے۔ خاص طور پر جعفری کے نزدیک طبری کی روایت میں معاویہ کی جانب سے حسن کو مکمل اختیار دینا (carte blanche کارٹ بلانش) زمانی اعتبار سے محلِ اشکال ہے۔[39] طبری نے یہ بھی لکھا ہے کہ حسن کو کوفہ کے بیت المال سے پچاس لاکھ درہم دیے گئے[40][13] مگر جعفری اس کو رد کرتے ہیں کیونکہ اس وقت بیت المال پہلے ہی حسن کے قبضے میں تھا۔ مزید یہ کہ علی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بیت المال کو باقاعدگی سے خالی کر کے رقوم عوام میں تقسیم کر دیتے تھے۔[40][13] جعفری کے مطابق سب سے جامع بیان احمد بن اعثم کا ہے جو غالباً مدائنی (متوفی 843ء) سے ماخوذ ہے۔ اس روایت میں شرائط کو دو حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ وہ شرائط ہیں جو عبد اللہ بن نوفل نے (جو مَسکِن میں حسن کی طرف سے معاویہ سے مذاکرات کر رہے تھے) پیش کیں۔[ا] دوسرا حصہ وہ شرائط ہیں جو حسن نے مکمل اختیار ملنے کے بعد خود طے کیں۔[ب] جعفری کے نزدیک ان دونوں مجموعوں کو ملا کر وہ تمام شرائط سامنے آ جاتی ہیں جو ابتدائی مصادر میں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔[43]
چنانچہ جعفری اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حسن کی حتمی شرائط یہ تھیں کہ معاویہ قرآن، سنت اور خلفائے راشدین کے طرزِ عمل کے مطابق حکومت کریں، لوگوں کی جان و مال محفوظ رہے اور معاویہ کے بعد جانشین کا تقرر شوریٰ کے ذریعے ہو۔[1] ان شرائط کی تائید میڈلنگ بھی کرتے ہیں[2] البتہ وہ یہ اضافہ کرتے ہیں کہ حسن نے اپنے صلح نامے میں کسی مالی مطالبے کا ذکر نہیں کیا اور اسی لیے معاویہ نے انھیں کوئی رقم ادا نہیں کی۔[44] یہ بات اموی دور کے راوی زُہری (متوفی 741ء/742ء) کی اس روایت کے خلاف ہے جسے طبری نے نقل کیا ہے [45] اور جس میں حسن کو مال کے بدلے خلافت چھوڑنے کا خواہش مند دکھایا گیا ہے۔ جعفری کے نزدیک زہری کی یہ روایت اموی پروپیگنڈے کا حصہ تھی جس کا مقصد شوریٰ، انتخاب یا نامزدگی کے بغیر معاویہ کی حکومت کو جائز ثابت کرنا تھا۔[46] چونکہ علی اور ان کے اہلِ خانہ نے 23ھ (644ء) میں عمر کے بعد قائم ہونے والی شوریٰ میں ابو بکر اور عمر کے طرزِ عمل کو قبول نہیں کیا تھا، اس لیے جعفری کا خیال ہے کہ خلفائے راشدین کی پیروی والی شق بعد کے سنی مصنفین نے شامل کی۔[47] جعفری کے مطابق معاویہ کا علی کے حامیوں کے لیے عام معافی پر آمادہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عثمان کے خون کا بدلہ دراصل محض ایک بہانہ تھا جس کے ذریعے معاویہ نے خلافت پر قبضہ کیا۔[33]
روایات
[ترمیم]ذیل میں حسن اور معاویہ کے درمیان ہونے والے صلح نامے کے مندرجات سے متعلق ابتدائی تاریخی روایات کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے:
- معاویہ اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ اللہ کی کتاب، رسول محمد کی سنت[48] اور خلفائے راشدین کے طریقۂ کار کے مطابق حکومت کریں۔[49][50]
- یہ کہ معاویہ کے بعد اقتدار دوبارہ حسن کو واپس دیا جائے گا[51][52][53][54][55] اور اگر کوئی ناگہانی صورت پیش آئے تو اقتدار حسین کے سپرد ہوگا۔[56] معاویہ کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اپنی خلافت کسی اور کے حوالے کریں۔[50][57][58]
- یہ کہ معاویہ علی پر لعنت بھیجنے کی رسم ترک کریں گے یہاں تک کہ نمازوں کی قنوت میں بھی[59] اور علی کا ذکر اچھے انداز کے سوا کسی اور طریقے سے نہیں کیا جائے گا۔[60][61]
- یہ کہ کوفہ کے بیت المال میں موجود پانچ ملین (درہم) اس معاہدے سے خارج ہوں گے یعنی اقتدار کی حوالگی میں یہ رقم شامل نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ معاویہ ہر سال حسین کو دس لاکھ درہم ادا کریں گے، عطیات اور وظائف میں بنی ہاشم کو بنی عبد شمس پر ترجیح دیں گے اور جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں امیر المؤمنین (علی) کے ساتھ مارے جانے والوں کے بیٹوں میں دس لاکھ درہم تقسیم کریں گے۔ یہ رقم دارابجرد کے خراج سے ادا کی جائے گی۔[62][63][64][65]
- یہ کہ تمام لوگ جہاں کہیں بھی ہوں، امن میں رہیں گے۔ علی کے ساتھیوں کو ہر جگہ امان دی جائے گی۔ معاویہ نہ کھلے طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر حسن، حسین یا آلِ محمد میں سے کسی کے ساتھ ظلم یا نقصان کا ارادہ کریں گے۔[50][60][61][64][66][67][68]
صلح کا انجام
[ترمیم]سپردگی کی تقریب میں معاویہ نے علانیہ طور پر حسن اور دیگر لوگوں سے کیے گئے اپنے پہلے وعدوں سے رجوع کر لیا[1][3] اور کہا کہ یہ وعدے صرف جنگ کو مختصر کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔[1] اس کے بعد حسن کوفہ سے مدینہ چلے گئے لیکن کچھ ہی عرصے بعد معاویہ کی طرف سے ان سے درخواست کی گئی کہ وہ کوفہ کے قریب خارجیوں کی بغاوت کو دبانے میں مدد کریں۔ حسن نے جواب میں لکھا کہ انھوں نے خلافت کا دعویٰ امن اور مفاہمت کی خاطر چھوڑا تھا نہ کہ اس لیے کہ وہ معاویہ کی طرف سے جنگ کریں۔[69][70][13] میڈلنگ کے نزدیک دونوں کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب معاویہ کو یہ احساس ہوا کہ حسن ان کی حکومت کی عملی حمایت نہیں کریں گے۔[1]
سیاست سے دستبرداری کے بعد حسن نے مدینہ میں گوشہ نشینی اختیار کر لی۔[71] صلح نامے کی پابندی کرتے ہوئے انھوں نے شیعہ گروہوں کی ان درخواستوں کو بھی رد کر دیا جن میں ان سے معاویہ کے خلاف قیادت سنبھالنے کا کہا گیا تھا۔[72][73] سنی مؤرخ بلاذری (متوفی 892ء) نے اپنی کتاب انساب میں لکھا ہے کہ حسن نے صلح کے مطابق ایران کے علاقوں فسا اور دارابجرد میں محصول وصول کرنے والے بھیجے تھے، مگر بصرہ کے گورنر نے (جو معاویہ کے اشارے پر تھا) لوگوں کو حسن کے خلاف بھڑکایا اور ان کے عاملوں کو ان دونوں علاقوں سے نکال دیا گیا۔ میڈلنگ اس روایت کو من گھڑت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حسن پہلے ہی خارجیوں کے خلاف معاویہ کے ساتھ لڑنے سے انکار کر چکے تھے۔ ان کے نزدیک حسن نے اپنے صلح نامے میں کوئی مالی شرط نہیں رکھی تھی، اس لیے معاویہ نے انھیں کوئی ادائیگی بھی نہیں کی۔[44]
حسن کی وفات 50ھ (670ء) میں ہوئی[1] اور ابتدائی مصادر تقریباً متفق ہیں کہ انھیں زہر دیا گیا تھا۔[1] عام طور پر اس قتل کا محرک معاویہ کو سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس طرح ان کے بیٹے یزید (د. 680ء–683ء) کی جانشینی کی راہ میں موجود ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی حالانکہ یزید کی نامزدگی حسن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے خلاف تھی۔[4][5][6][7][3] اپنے دورِ حکومت میں معاویہ نے علی کے نمایاں حامیوں کے خلاف کارروائیاں بھی کیں جن میں حجر بن عدی شامل ہیں، جو پیغمبر اسلام کے صحابی تھے اور 670ء میں قتل کیے گئے۔[9][10] اسی طرح معاویہ کے دور میں با جماعت نمازوں میں علی پر علانیہ سب و شتم کو باقاعدہ رواج دیا گیا۔[74][8]
حواشی
[ترمیم]- ↑ 1) یہ کہ معاویہ کی وفات کے بعد خلافت دوبارہ حسن کو واپس دی جائے گی۔ 2) یہ کہ حسن کو بیت المال سے ہر سال پچاس لاکھ درہم دیے جائیں گے۔ 3) یہ کہ دارابجرد کی سالانہ آمدنی حسن کو دی جائے گی۔ 4) یہ کہ لوگوں کے درمیان باہمی امن و امان کی ضمانت دی جائے گی۔[41]
- ↑ 1) یہ کہ معاویہ اللہ کی کتاب، نبی کی سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے کے مطابق حکومت کریں گے۔ 2) یہ کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو خلافت کے لیے نامزد نہیں کریں گے بلکہ یہ معاملہ شوریٰ کے سپرد ہوگا۔ 3) یہ کہ اللہ کی زمین میں جہاں کہیں بھی لوگ ہوں انھیں امن و امان کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا۔ 4) یہ کہ علی کے ساتھیوں اور ان کے پیروکاروں کی جان، مال، ان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو مکمل تحفظ اور امن کی ضمانت دی جائے گی۔ 5) یہ کہ حسن، ان کے بھائی حسین، یا آل محمد میں سے کسی کے خلاف خفیہ یا علانیہ کسی قسم کا نقصان یا خطرناک اقدام نہیں کیا جائے گا۔[42]
حوالہ جات
[ترمیم]پا ورقی
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 Madelung 2003
- 1 2 3 Madelung 1997, pp. 322-3
- 1 2 3 Tabatabai 1977, p. 48
- 1 2 Momen 1985, p. 28
- 1 2 Jafri 1979, p. 158
- 1 2 Donaldson 1933, pp. 75-8
- 1 2 Madelung 1997, p. 331
- 1 2 Tabatabai 1977, p. 49
- 1 2 Madelung 1997, p. 334-5, 337
- 1 2 Jafri 1979, p. 165
- ↑ Wellhausen 1927, p. 102–103
- ↑ Wellhausen 1901, p. 18
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 Veccia Vaglieri 1971
- ↑ Jafri 1979, p. 134
- ↑ Madelung 1997, p. 317
- ↑ Madelung 1997, p. 318
- ↑ Jafri 1979, p. 142
- ↑ Anthony 2013, p. 229
- ↑ Jafri 1979, p. 143
- 1 2 Donaldson 1933, p. 69
- 1 2 3 Momen 1985, p. 27
- ↑ Jafri 1979, pp. 93-4, 100
- ↑ Madelung 1997, p. 319
- ↑ Jafri 1979, p. 145
- ↑ Wellhausen 1927, pp. 106-7
- ↑ Lalani 2000, p. 4
- ↑ Madelung 1997, p. 320
- ↑ Wellhausen 1927, p. 106
- ↑ Jafri 1979, pp. 146-7
- ↑ Madelung 1997, p. 322
- ↑ Madelung 1997, p. 323
- ↑ Donaldson 1933, pp. 66–78
- 1 2 Jafri 1979, p. 153
- ↑ McHugo 2018, p. 102
- ↑ Jafri 1979, pp. 109-10
- ↑ Dakake 2008, pp. 74-5
- ↑ Jafri 1979, pp. 154-5
- ↑ Mavani 2013, p. 118
- ↑ Jafri 1979, pp. 105-8
- 1 2 Jafri 1979, p. 149
- ↑ Jafri 1979, pp. 150-1
- ↑ Jafri 1979, p. 151
- ↑ Jafri 1979, pp. 150-2
- 1 2 Madelung 1997, p. 328
- ↑ Madelung 1997, pp. 329-30
- ↑ Jafri 1979, pp. 141-2
- ↑ Jafri 1979, p. 152
- ↑ ابن أبي الحديد۔ شرح نهج البلاغة (بزبان عربی)۔ ج 4۔ ص 6
- ↑ ابن عقيل۔ النصائح الكافية لمن يتولى معاوية (بزبان عربی)۔ ص 156
- 1 2 3 المجلسي۔ بحار الأنوار (بزبان عربی)۔ ج 10۔ ص 115
- ↑ Jalāl al-Dīn al-Khuḍayrī al-Suyūṭī (3 Jun 2014). History of the Caliphs:Tarikh Al-Khulafa (بزبان انگریزی). CreateSpace Independent Publishing Platform (June 3, 2014). p. 194. ISBN:978-1499770056.
- ↑ ابن كثير۔ البداية والنهاية (بزبان عربی)۔ ج 8۔ ص 41
- ↑ أحمد شهاب الدين العسقلاني۔ الإصابة في تمييز الصحابة (بزبان عربی)۔ ج 2۔ ص 12, 13
- ↑ ابن قتيبة الدينوري۔ الإمامة والسياسة۔ ص 150
- ↑ فريد وجدي۔ دائرة معارف القرن العشرين (بزبان عربی)۔ ج 3۔ ص 443
- ↑ ابن عنبة۔ عمدة الطّالب في أنساب آل أبي طالب (بزبان عربی)۔ ص 52
- ↑ ابن أبي الحديد۔ شرح نهج البلاغة۔ ج 4۔ ص 8
- ↑ ابن الصباغ۔ الفصول المهمة في معرفة أحوال الأئمة (بزبان عربی)
- ↑ محسن الأمين العاملي۔ أعيان الشيعة (بزبان عربی)۔ ج 4۔ ص 43
- 1 2 أبو الفرج الأصفهاني۔ مقاتل الطالبيين (بزبان عربی)۔ ص 26
- 1 2 ابن أبي الحديد۔ شرح نهج البلاغة (بزبان عربی)۔ ج 4۔ ص 15
- ↑ ابن قتيبة الدينوري۔ الإمامة والسياسة (بزبان عربی)۔ ص 200
- ↑ al-Tabarī (Jan 1988). The History of al-Tabari (بزبان انگریزی). SUNY Press (August 1, 1987). Vol. 6. p. 92. ISBN:978-0887067075.
- 1 2 ابن بابويه۔ علل الشرائع (بزبان عربی)۔ ص 81
- ↑ ابن كثير۔ البداية والنهاية (بزبان عربی)۔ ج 8۔ ص 14
- ↑ al-Tabarī (Jan 1988). The History of al-Tabari (بزبان انگریزی). SUNY Press (August 1, 1987). Vol. 6. p. 97. ISBN:978-0887067075.
- ↑ ابن الأثير۔ الكامل في التاريخ (بزبان عربی)۔ ج 3۔ ص 166
- ↑ ابن عقيل۔ النصائح الكافية لمن يتولى معاوية (بزبان عربی)۔ ص 115
- ↑ Madelung 1997, pp. 324-5
- ↑ Jafri 1979, pp. 157, 158
- ↑ Hulmes 2013, p. 218
- ↑ Momen 1985, pp. 27, 28
- ↑ Jafri 1979, p. 157
- ↑ (Madelung 1997, p. 334)
ماخذ
[ترمیم]- Julius Wellhausen (1927). The Arab Kingdom and Its Fall (بزبان انگریزی). Translated by Margaret Graham Weir. Calcutta: University of Calcutta. OCLC:752790641.
- Julius Wellhausen (1901). Die religiös-politischen Oppositionsparteien im alten Islam (بزبان جرمن). Berlin: Weidmannsche Buchhandlung. OCLC:453206240.
- L. Veccia Vaglieri (1971). "(Al)-Ḥasan b. ʿAlï b. Abï Ṭālib". In B. Lewis; V. L. Ménage [انگریزی میں]; Ch. Pellat & J. Schacht (مرتبین). The Encyclopaedia of Islam, Second Edition. Volume III: H–Iram (بزبان انگریزی). Leiden: E. J. Brill. pp. 240–243. OCLC:495469525.
- Wilferd Madelung (1997). The Succession to Muhammad: A Study of the Early Caliphate (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. ISBN:0-521-64696-0.
- Sean W. Anthony (2013). "Ali b. Abi Talib". In Gerhard Bowering (مرتب). The Princeton encyclopedia of Islamic political thought (بزبان انگریزی). Princeton University Press. pp. 30–31.
- Arzina R. Lalani (2000). Early Shi'i Thought: The Teachings of Imam Muhammad Al-Baqir (بزبان انگریزی). I. B. Tauris. ISBN:978-1860644344.
- Maria Massi Dakake [انگریزی میں] (2008). Seyyed Hossein Nasr (مرتب). The Charismatic Community: Shi'ite Identity in Early Islam (بزبان انگریزی). SUNY Press. ISBN:978-0-7914-7033-6.
- Hamid Mavani (2013). Religious Authority and Political Thought in Twelver Shi'ism: From Ali to Post-Khomeini (بزبان انگریزی). Routledge. ISBN:9780415624404.
- S. M. Jafri (1979). Origins and Early Development of Shi'a Islam (بزبان انگریزی). London and New York: Longman. ISBN:9780582780804.
- Moojan Momen (1985). An introduction to Shi'i Islam (بزبان انگریزی). Yale University Press. ISBN:9780853982005.
- M. Hinds (2021). "Muawiya I". Encyclopaedia of Islam (بزبان انگریزی) (Second ed.). Brill Reference Online.
- Wilferd Madelung (2003). "Hasan b. Ali b. Abi Taleb". Encyclopaedia Iranica (بزبان انگریزی). Vol. XII/1. pp. 26–28.
- Nicole Burke; Mitchell Golas; Cyrus L. Raafat; Aliyar Mousavi (2016). "A forensic hypothesis for the mystery of al-Hasan's death in the 7th century: Mercury(I) chloride intoxication". Medicine, Science, and the Law (بزبان انگریزی). 56 (3): 167–171. DOI:10.1177/0025802415601456. ISSN:0025-8024. PMC:4923806. PMID:26377933.
- Radi Aal-Yasin; Translated by Jasim al-Rasheed. Sulh al-Hasan (The Peace Treaty of al-Hasan (a)) (بزبان انگریزی). Qum: Ansariyan Publications. Retrieved 2013-12-30.
- Edward D. A. Hulmes (2013). "Al-Hasan Ibn 'Ali Ibn Abi Talib (c. AD 625-690)". In Ian Richard Netton (مرتب). Encyclopædia of Islamic Civilisation and Religion (بزبان انگریزی). Routledge. pp. 218–219. ISBN:978-0700715886.
- Dwight M. Donaldson (1933). The Shi'ite Religion: A History of Islam in Persia and Irak (بزبان انگریزی). Burleigh Press.
- Sayyid Muhammad Husayn Tabatabai (1977). Shi'ite Islam (بزبان انگریزی). Translated by Seyyed Hossein Nasr. SUNY press. ISBN:0-87395-390-8.
- John McHugo (2018). A Concise History of Sunnis and Shi'is (بزبان انگریزی). Georgetown University Press. ISBN:9781626165885.