مندرجات کا رخ کریں

صلح کالتابیلوتا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
صلحِ کالتابیلوتا
{{{image_alt}}}
کالتابیلوتا میں مادریچے کا کمپلیکس جس کے قریب وہ قلعہ واقع تھا جہاں معاہدے پر دستخط ہوئے
قسمصلح نامہ
سیاق و سباقصقلی ویسپرس کی جنگ
دستخط31 اگست 1302ء
مقامکالتابیلوتا
ثالثپوپ بونیفیس ہشتم
اصل
دستخط کنندگان
دستخط کنندگانناپولی کا چارلس دوم

صلح نامہ کالتابیلوتا (Peace of Caltabellotta) 31 اگست 1302ء کو طے پانے والا معاہدہ تھا۔ [1] یہ اُن معاہدوں کی ایک کڑی تھی جن میں معاہدۂ تاراسکون اور اناگنی شامل تھے اور جن کا مقصد بحیرۂ روم، خصوصاً صقلیہ اور جنوبی اطالیہ (میدزوجورنو) میں بالادستی کے لیے آل انجو اور آل بارسلونا کے درمیان جاری صقلی ویسپرس کی جنگ کا خاتمہ تھا۔

اس معاہدے کے تحت پرانی مملکتِ صقلیہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا: جزیرہ نما حصہ اور برّی حصہ۔ جزیرے کو جسے مملکتِ تریناکریا کہا گیا، فریڈرک سوم کے حوالے کیا گیا جو پہلے ہی اس پر حکومت کر رہے تھے[2] جبکہ برّی حصہ (جسے اُس زمانے میں بھی مملکتِ صقلیہ کہا جاتا تھا مگر جدید تحقیق میں مملکتِ ناپولی کہا جاتا ہے) چارلس دوم کے پاس رہا۔ اس طرح یہ معاہدہ دراصل ایک غیر مستحکم مگر قائم صورت حال کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔

معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ فریڈرک کی وفات کے بعد تریناکریا انجو خاندان کو منتقل ہو جائے گا تاہم اس دوران چارلس، فریڈرک کو 100،000 اونس سونا بطور خراج ادا کرتا رہے گا۔ [2] اس کے بدلے فریڈرک نے کلابریا اور برّ عظیم کے دیگر علاقوں میں اپنی تمام ملکیتیں چھوڑ دیں اور چارلس کے بیٹے فلپ (شہزادۂ تارانتو) کو شہر چفالُو کی قید سے رہا کر دیا۔ [3] مزید یہ کہ چارلس کی بیٹی ایلینور کی شادی فریڈرک سے طے کی گئی۔

اس معاہدے کے نتائج کے طور پر راجر دے فلور اور اس کی کاتالان کمپنی کے المغاور سپاہیوں کو نئی ملازمت تلاش کرنا پڑی چنانچہ انھوں نے بازنطینی شہنشاہ اندرونیقوس دوم پالایولوگوس کی خدمت اختیار کر لی۔ [4] برنات دے روکا فورٹ (جو مغاور تھا) نے کلابریا میں موجود اپنے دو قلعے معاوضہ واپس ملنے تک چارلس کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا اور بالآخر 1309ء میں چارلس کے جانشین رابرٹ کے زیر حراست ایک زیر زمین قید خانے میں اس کی موت واقع ہوئی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ Jacoby 2015, p. 154
  2. 1 2 Gillespie 2016, p. 115
  3. ↑ Nicol 1994, p. 29
  4. ↑ Jacoby 2015, p. 154-155

مآخذ

[ترمیم]
  • Alexander Gillespie (2016). The Causes of War: Volume II: 1000 CE to 1400 CE (بزبان انگریزی). Hart Publishing. Vol. II.
  • David Jacoby (2015). "The Catalan Company in the East: The Evolution of an Itinerant Army (1303-1311)". In Gregory I. Halfond (مرتب). The Medieval Way of War: Studies in Medieval Military History in Honor of Bernard S. Bachrach (بزبان انگریزی). Ashgate Publishing.
  • Donald M. Nicol [انگریزی میں] (1994). The Byzantine Lady: Ten Portraits, 1250–1500 (بزبان انگریزی). Cambridge and New York: Cambridge University Press. ISBN:0-521-45531-6.