مندرجات کا رخ کریں

صوبہ اوڑیسہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(صوبہ اڑیسہ سے رجوع مکرر)
سرکار اوڑیسہ
(1593ء–1605ء)
صوبۂ اوڑیسہ
(1605ء–1656ء)
1593ء–1751ء
صوبۂ بنگالہ کے ساتھ صوبۂ اوڑیسہ کا نقشہ
صوبۂ بنگالہ کے ساتھ صوبۂ اوڑیسہ کا نقشہ
دار الحکومتکٹک
تاریخی دورابتدائی جدید دور
• 
1593ء
• 
1751ء
ماقبل
مابعد
سلطنت اڑیسہ
صوبۂ بنگالہ
موجودہ حصہ

صوبۂ اوڑیسہ (فارسی: صوبۀ اوریسه‎) مغلیہ سلطنت کا صوبہ تھا۔ پہلے پہل صوبۂ بنگالہ کا حصہ ہوا کرتا تھا جہانگیر نے 1605ء میں اسے الگ صوبہ کا درجہ عطا کیا۔ 1656ء میں اسے ایک خصوصی درجے کے ساتھ صوبہ بنگالہ میں دوبارہ ملا دیا گیا۔

مغلوں کی حکومت سے قبل یہ ملک بنام ”سلطنتِ اڑیسہ“ قتلو خاں افغان کے تصرف میں تھا۔ اکبر نے راجہ مان سنگھ کو اس علاقے کی تسخیر کے لیے بھیجا۔ افغانوں نے مدتوں تک کئی مرتبہ ان سے جنگیں کیں، قتلو خاں کرلانی کا انتقال ہوا تو پشتونوں نے بالاتفاق ان کے بیٹے عیسٰی خان کو بادشاہ مقرر کیا اور ان کے مطیع ہو گئے۔ مدتوں جنگیں لڑی گئیں مگر وہ بنگال میں افغانوں کی شکست اور خصوصاً داؤد خاں کرلانی کے قتل سے نا امید ہو گئے اور بالآخر عاجز ہو کر اکبر کے نام کا خطبہ و سکہ تسلیم کیا چنانچہ 1002ھ (1593ء) میں اڑیسہ کا پورا علاقہ ساحل سمندر تک اکبر کی بادشاہت میں شامل ہو گیا۔[1] 1656ء میں صوبہ دار شاہ شجاع نے صوبہ بنگالہ کی سرکاروں کی از سرِ نو ترتیب کی اور اوڑیسہ کو بھی بنگالے میں شامل کر دیا۔ اس طرح صوبہ بنگالہ مجموعی طور پر 24 سرکار اور 781 محال پر مشتمل ہوا۔ ان 24 سرکاروں کی سالانہ مالگزاری 59، 84، 59،319 دام (یعنی 1،49،61،482-15-7 روپیہ) تھی جبکہ اوڑیسہ کی پانچ سرکاروں (99 محال سمیت) کی مالگزاری 12،57،32،638 دام تھی۔[2]

تاریخ

[ترمیم]

1590ء میں بنگال کے سلطان داؤد خاں کرلانی کے ایک منصب دار قتلو خاں لوحانی[3] (لوہانی یا نوحانی / نوہانی) نے خود مختاری کا اعلان کیا اور ’قتلو شاہ‘ کا لقب اختیار کیا۔ اس موقع پر بہار کے مغل صوبہ دار راجہ مان سنگھ نے ان کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔ مان سنگھ سے مقابلے سے قبل ہی قتلو شاہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ان کے فرزند نصیر خاں نے معمولی مزاحمت کے بعد مغل بالا دستی قبول کر لی اور 15 اگست 1590ء کو مان سنگھ کے حضور حاضر ہو کر وفاداری کا اظہار کیا۔ نصیر خاں کو اڑیسہ کا صوبہ دار مقرر کیا گیا اور ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت پوری اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ مغلوں کے سپرد کیا گیا۔ نصیر خاں دو سال تک مغلیہ سلطنت کے ساتھ وفادار رہے مگر اس کے بعد انھوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پوری کے جگن ناتھ مندر کا محاصرہ کر لیا۔ اس پر مان سنگھ نے ان پر چڑھائی کی اور 18 اپریل 1592ء کو موجودہ مدنی پور کے قریب ہونے والی جنگ میں انھیں فیصلہ کن شکست دی۔[4] 1593ء تک اوڑیسہ مکمل طور پر مغلیہ سلطنت کا حصہ بن گیا۔

عہدِ اکبری میں

[ترمیم]

خوردہ کے راجا رام چندر دیو نے اکبر کی بالادستی تسلیم کر لی تھی۔[3] اکبر نے مقامی سرداروں کے معاملات میں زیادہ مداخلت نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اکبر کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جہانگیر بادشاہ بنے اور انھوں نے ایک مختلف طرز حکمرانی اختیار کیا۔ ان کے دور میں اوڑیسہ کو ایک الگ صوبہ بنا کر وہاں گورنر (صوبہ دار) مقرر کیا گیا جو مغل شہنشاہ کے نام پر حکومت چلاتا تھا۔

عہدِ جہانگیری میں

[ترمیم]

1606ء میں قاسم خاں کو اوڑیسہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اس مدت میں خوردہ کے راجا پُرُشوتَّم دیو پر مغل لشکر نے کیشو داس کی قیادت میں حملہ کیا۔ وہ شکست کھا گئے اور صلح کے لیے اپنی بہن اور بیٹی جہیز سمیت مغلوں کے حوالے کرنی پڑی۔[3]

1611ء میں راجا ٹوڈرمل کے بیٹے کلیان مَل صوبہ دار مقرر ہوئے۔ انھوں نے بھی پرشوتّم دیو کو شکست دی اور انھیں اپنی بیٹی مغلیہ حرم میں بھیجنی پڑی۔[3] 1617ء میں کلیان کو دربار واپس بلا لیا گیا۔

اسی سال مکرم خاں صوبہ دار (گورنر) بنائے گئے۔ انھوں نے بھی پرشوتّم دیو پر حملے کی کوشش کی مگر پرشوتّم دیو خوردہ سے بھاگ نکلے۔ 1621ء میں احمد بیگ کو گورنر بنایا گیا۔ پرشوتّم دیو 1622ء میں جلا وطنی میں وفات پا گئے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے سنگھ دیو حکمران بنے۔ مدل پنجی (مندر کے تاریخ نامہ) کے مطابق شہزادہ خرم (بعد ازاں شہنشاہ شاہ جہاں) 1623ء میں اپنی بغاوت کے فوراً بعد اوڑیسہ پدھارے تھے۔[5] مرزا احمد بیگ 1628ء تک گورنر رہے۔

عہدِ شاہ جہاں میں

[ترمیم]

1628ء میں شاہ جہاں بادشاہ بنے اور محمد باقر خاں کو اوڑیسہ کا صوبہ دار (گورنر) مقرر کیا گیا۔ انھوں نے اپنی عملداری گولکنڈہ تک بڑھا دی۔ 1632ء میں محمد باقر خاں کو واپس بلا لیا گیا۔ اسی دور میں شاہ شجاع کو بنگالہ کا صوبہ دار (1639ء–1660ء) بنایا گیا اور 1645ء سے ان کا نائب زمان طہرانى اوڑیسہ کا صوبہ دار رہا۔[3] اوڑیسہ شاہجہانی دور میں اکبر کے سابق پندرہ صوبوں میں پہلا شامل ہونے والا نیا صوبہ تھا۔ اس کا صدر مقام کٹک تھا اور اس کی سرحدیں بہار، بنگال اور گولکنڈہ سے ملتی تھیں۔ 1647ء میں نرسنگھ دیو کو مغل جرنیل فتح خاں نے قتل کر دیا۔[5]

عہدِ اورنگ زیب میں

[ترمیم]

1658ء میں شاہ جہاں علیل پڑے اور دارا شکوہ ولی عہد کی حیثیت سے حکومت سنبھالی جس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور 1659ء میں اورنگ زیب فاتح بن کر تخت نشین ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد کو نظر بند کر لیا جو بالآخر 1666ء میں نظر بندی ہی میں وفات پا گئے۔ اس سیاسی انتشار کے دور میں اوڑیسہ کے کئی مقامی سرداروں نے خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا۔ اورنگ زیب کے دور میں خانِ دُوراں کو 1660ء سے 1667ء تک گورنر مقرر کیا گیا۔ انھوں نے متعدد بغاوتیں کچلیں اور خوردہ کے حکمران مکند دیو اول کو تابع بنا لیا۔[3]

نوابِ بنگال کا دور حکومت

[ترمیم]
مرشد قلی خان کے زیر اقتدار

1707ء میں اورنگ زیب کا انتقال ہوا اور مغلوں کی گرفت اڑیسہ پر کمزور ہونے لگی۔ 1714ء میں مرشد قلی خاں کو اوڑیسہ کا گورنر مقرر کیا گیا اور 1717ء میں وہ نوابِ بنگال بھی بنا دیے گئے۔ انھوم نے رسمی طور پر مغل بادشاہ کی وفاداری کا حلف اٹھایا لیکن عملی طور پر وہ خود مختار حکمراں تھے۔ انھوں نے آمدنی بڑھانے اور نئی جاگیریں قائم کرنے کے لیے کئی انتظامی اقدامات کیے۔ 1727ء میں ان کی وفات کے بعد ان کے داماد شجاع الدین محمد خاں نے تخت سنبھالا۔ وہ پہلے اوڑیسہ میں مرشد کے نائب رہ چکے تھے۔ ان کے دور میں اوڑیسہ کے کئی علاقے ہمسایہ مملکتوں کے قبضے میں چلے گئے۔[3]

شجاع الدین کے دور میں

1727ء میں شجاع الدین کے بیٹے تقی خاں کو گورنر مقرر کیا گیا۔ انھوں نے رام چندر دیو دوم کے ساتھ جنگ چھیڑی، انھیں قید کیا اور اسلام قبول کروایا۔[5][6] رام چندر دیو نے ایک بار پوری میں رتھ یاترا دیکھنے کے لیے حاضری دی جس پر تقی خان ناخوش ہوئے لہذا انھوں نے خوردہ پر چڑھائی کی اور رام چندر دیو فرار ہو گئے۔ تقی خاں نے بھاگیرتھی کمار (رام چندر دیو دوم کے بیٹے) کو بادشاہ مقرر کیا۔ 1734ء میں تقی خاں کا انتقال ہوا۔ ان کے زمانے میں اوڑیسہ میں کئی اسلامی عمارتیں تعمیر ہوئیں۔[3]

تقی خاں کے بعد مرشد قلی خاں دوم (المعروف رستم جنگ) نے حکومت سنبھالی جو شجاع الدین کے نائب ناظم (ڈپٹی گورنر) اور داماد تھے۔ انھوں نے پوری میں عبادت کی اجازت دی اور کہا جاتا ہے کہ رام چندر دیو دوم کے قبولِ اسلام کے بعد انھوں نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دی۔ انھوں نے 1736ء میں پدمنابھ دیو کو خوردہ کا راجا بنایا لیکن 1739ء میں انھیں ہٹا کر بیرکیشری دیو (رام چندر دیو دوم کے بیٹے) کو تخت پر بٹھا دیا۔ اسی سال شجاع الدین کا انتقال ہوا اور ان کی جگہ ان کا بیٹا سرفراز خاں نواب بنے۔ گیریہ کی لڑائی میں سرفراز خاں مارے گئے اور علی وردی خاں نے اقتدار سنبھال لیا۔ رستم جنگ نے علی وردی خان کے خلاف لشکر کشی کی مگر شکست کھائی۔ علی وردی خاں مقبول حکمران نہ تھے۔[3]

مرہٹوں کا حملہ اور اوڑیسہ کا زوال

1742ء سے مرہٹوں نے رستم جنگ اور ان کے اتحادیوں کی مدد سے علی وردی خان کے علاقوں پر حملے شروع کیے۔[7] یہ حملے برق رفتار اور چھاپا مار طرز کے تھے، جنھیں برگی حملے کہا جاتا تھا۔ علی وردی خاں ان حملوں کو نہ روک سکے اور 1751ء میں اس نے اوڑیسہ رگھوجی بھونسلے اول کے حوالے کر دیا۔

اسی زمانے میں کئی مرتبہ جگن ناتھ اور دیگر دیوتاؤں کی مورتیاں مندر سے باہر نکال کر چھپا دی گئیں تاکہ وہ توڑ پھوڑ اور بے حرمتی سے محفوظ رہیں۔[3][5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. خان روشن خان (1980)۔ تذکرہ پٹھانوں کی اصلیت اور ان کی تاریخ۔ کراچی: ایجوکیشنل پریس۔ ص 319
  2. "Sarkar". Banglapedia (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-11-30.
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ Mohammed Yamin (1 Jul 2009). Impact of Islam on Orissan Culture (بزبان انگریزی). Readworthy. pp. 34–40. ISBN:978-81-89973-96-4. Retrieved 2013-02-10.
  4. The Cambridge History of India (بزبان انگریزی). CUP Archive. 1958. p. 660. GGKEY:96PECZLGTT6. Retrieved 2013-02-10.
  5. ^ ا ب پ ت Narayan Miśra (1 Jan 2007). Annals and Antiquities of the Temple of Jagannātha (بزبان انگریزی). Sarup & Sons. p. 156. ISBN:978-81-7625-747-3. Retrieved 2013-02-10.
  6. John R. McLane (25 Jul 2002). Land and Local Kingship in Eighteenth-Century Bengal (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. p. 174. ISBN:978-0-521-52654-8. Retrieved 2013-02-10.
  7. Nitish K Sengupta (1 Jan 2011). Land of Two Rivers: A History of Bengal from the Mahabharata to Mujib (بزبان انگریزی). Penguin Books India. p. 158. ISBN:978-0-14-341678-4. Retrieved 2013-02-10.