صوبہ بدخشاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صوبہ بدخشاں
صوبہ بدخشاں
Badakhshan
Kuran wa Munjan valley, looking to the south.png
 

Badakhshan in Afghanistan.svg
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1][2]
دارالحکومت باڈون،  ویکی ڈیٹا پر (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تقسیم اعلیٰ افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 38°00′00″N 71°00′00″E / 38.00000°N 71.00000°E / 38.00000; 71.00000
رقبہ 44059.0 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 3669 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 823000 (2006)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+04:30  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرکاری زبان دری فارسی،  ازبک زبان،  پشتو،  پامیر زبانیں  ویکی ڈیٹا پر (P37) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آیزو 3166-2 AF-BDS[3]  ویکی ڈیٹا پر (P300) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
اہم زبانیں دری, ازبک, پشتو, کرغیز, شغنانی, مونجانی, اشکاشمی, وخی
جیو رمز 1147745  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صوبہ بدخشاں (Badakhshan Province) (پشتو: بدخشان ولایت / دری: استان بدخشان) افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے ایک ہے۔

اس ((علاقے)) کا ذکر سب سے پہلے خشاریہ کے کتبہ میں ملتا ہے۔ اور اس کا نام اکوفہ Akofa آیا ہے جو ہخامنشیوں کے قبضے میں تھا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 15) سکندرکے حملے کے بعد غالباََ یہ آزاد ہو گیا تھا، کیوں کہ بعد میں اس کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ مگر یقیناََ کشن سلطنت میں شامل تھا کیوں کشن مملکت کی حدودیں پامیر کے پار تک تھیں۔ (دیکھیے، کشن خاندان) بدخشاں ایک پہاڑی علاقہ ہے کیوں کہ یہ دریائے سیحوں، زیادہ صحیح الفاظ میں اس دریا کے منبع یعنی پتچ کے بالائی حصوں میں اس کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ پانچویں صدی عیسویں میں یہ علاقے ہنوں کے قبضے میں تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں ترکوں نے ہنوں کی مملکت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ جیسا کے عربی اور چینی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربوں کی یلغار کے وقت تخارستان (زیادہ وسیع معنوں میں) کے فرمانرواکا ترکی لقب یبغو (عربی جیغوبہ) تھا اور دوسرے ممالک جن میں جن میں بدخشاں بھی شامل تھا اس کا باجگزار تھا۔ (بدخشاں۔ معارف اسلامیہ) عربوں نے بدخشاں کب فتح کیا اور وہاں اسلام کی اشاعت کیسے ہوئی پوری معلومات نہیں ہیں۔ طبری کے ہاں اس کا ذکر صرف ایک دفعہ آیا ہے کہ ’جیغوبہ کی مملکت میں کشمیر اور اس سے بھی دور دراز مقامات جنگیں ہوئیں‘۔ یعقوب کے نذدیک اس کا شہر جروم اسلامی سرحد پر تبت (براستہ دخان) کی تجارتی شاہراہ پر واقع تھا۔ الاصطخری کا کہنا ہے کہ یہ بدخشاں ابولفتح کی مملکت میں ہے۔ یہاں اشارہ بلاشبہ ابوافتح یقتلی کی طرف ہے۔ چھٹی صدی عیسوی سے بارہویں بارہویں صدی عیسوی تک یہ تخارستاں میں شامل تھا۔ بعد میں یہ خاندان غوری کی بامیان شاخ کے زیر حکومت آگیا۔ (بدخشاں۔ معارف اسلامیہ)

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ صوبہ بدخشاں في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2020ء. 
  2.   ویکی ڈیٹا پر (P982) کی خاصیت میں تبدیلی کریں "صفحہ صوبہ بدخشاں في ميوزك برينز.". MusicBrainz area ID. اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2020ء. 
  3. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.iso.org/files/live/sites/isoorg/files/archive/pdf/en/iso_3166-2_newsletter_ii-3_2011-12-13.pdf — عنوان : ISO 3166-2 Newsletter II-3 — اشاعت II-3 — صفحہ: 6 — ناشر: بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت
  4. "Statoids". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2013.