مندرجات کا رخ کریں

صوبہ دہلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
صوبۂ دار الخلافہ دہلی
صوبۂ شاہ جہاں آباد[1]
1580ء–1857ء
مغلیہ سلطنت کے صوبہ شاہجہاں آباد کا مزین نقشہ جو تقریباً سنہ 1770ء میں ژاں باتِست ژوزِف زآں‌تی Jean Baptiste) Joseph Gentil) کے حکم پر تیار کیا گیا۔
مغلیہ سلطنت کے صوبہ شاہجہاں آباد کا مزین نقشہ جو تقریباً سنہ 1770ء میں ژاں باتِست ژوزِف زآں‌تی Jean Baptiste) Joseph Gentil) کے حکم پر تیار کیا گیا۔
دار الحکومتدہلی (دار الخلافہ)
حکومتذیلی تقسیم
صوبہ دار 
تاریخی دورابتدائی جدید دور
• Established
1580ء
21 ستمبر 1857ء
رقبہ
• 1601
66,797[2] مربع میل (173,000 کلومیٹر2)
ماقبل
مابعد
مغلیہ سلطنت
درانی سلطنت
سکھ جتھہ بندی
موجودہ حصہ

صوبۂ دہلی یا صوبۂ دار الخلافہ شاہ جہاں آباد[3] مغلیہ سلطنت کا صوبہ ہوا کرتا تھا۔ مغلیہ عہد میں خطۂ پنجاب تین صوبوں میں بٹا ہوا تھا: صوبہ لاہور، صوبہ ملتان اور صوبہ دہلی کے حصے۔[4][5][6][7]

دہلی مغلوں کے لیے ہمیشہ ایک اہم مقام رہی جہاں انھوں نے محلات اور قلعے تعمیر کیے۔ سب سے بڑھ کر پادشاہ شاہ جہاں نے اپنے مشہور معمارِ اعلیٰ استاد احمد لاہوری کو 1638ء سے 1649ء کے درمیان ایک فصیل بند شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا، جس میں لال قلعہ اور چاندنی چوک شامل تھے۔ دہلی مغلیہ سلطنت کے ابتدائی بارہ صوبوں میں سے ایک تھا جسے 1648ء میں شاہ جہاں آباد کا نام دیا گیا۔ اس کے ہمسایہ صوبے اودھ، آگرہ، اجمیر، ملتان اور لاہور تھے۔

دریا گنج دہلی کا ابتدائی چھاؤنی علاقہ تھا جہاں 1803ء کے بعد دہلی فوجی چھاؤنی (اُردُو) کی ایک مقامی رجمنٹ تعینات کی گئی، جو بعد میں رِج کے علاقے میں منتقل کر دی گئی۔ دریا گنج کے مشرق میں شہر کی فصیل کا راج گھاٹ دروازہ تھا جو دریائے جمن کے کنارے راج گھاٹ پر کھلتا تھا۔ پرانی دہلی کی پہلی تھوک منڈی 1840ء میں چاوڑی بازار میں ہارڈ ویئر مارکیٹ کے طور پر قائم ہوئی۔ اس کے بعد 1850ء میں خشک میوہ جات، مسالوں اور جڑی بوٹیوں کی تھوک منڈی کھاری باؤلی میں قائم ہوئی۔ دریا گنج کی ”پھول منڈی“ 1869ء میں وجود میں آئی اور آج بھی اگرچہ یہ جغرافیائی طور پر ایک چھوٹے علاقے کو محیط ہے مگر آبادی کے گنجان ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت برقرار ہے۔[8]

تاریخ

[ترمیم]

ہندوستان کے اوائلِ جدید دور کی پہچان سولھویں صدی سے اٹھارھویں صدی عیسوی تک مغلیہ سلطنت کے عروج سے ہوتی ہے۔ دہلی سلطنت کا تختہ الٹنے کے بعد مغل ابتدا میں آگرہ، سیکری اور لاہور سے حکومت کرتے رہے مگر شاہ جہاں کے دور 1648ء میں دہلی دوبارہ دار السلطنت بنی اور سلطنت کے انجام تک دار الخلافہ رہی۔ اس عرصے میں دہلی ادب و ثقافت کا مرکز بن چکی تھی۔ غالبؔ، دردؔ، داغؔ اور ذوقؔ جیسے شاعر یہیں رہے اور شاہی سرپرستی حاصل کرتے رہے۔ مغلوں نے دہلی میں کئی اہم عمارتیں بنوائیں جن میں ہمایوں کا مقبرہ، لال قلعہ اور جامع مسجد شامل ہیں۔

بابر اور ہمایوں (1526ء تا 1556ء)

[ترمیم]

پہلے مغل بادشاہ بابر (1526ء–1530ء) اور ہمایوں (1530ء–1540ء، دوبارہ 1556ء–1557ء) سلاطینِ دہلی کی طرح آگرہ سے حکومت کرتے تھے۔ سولھویں صدی عیسوی کے وسط میں مغل اقتدار میں خلل پیدا ہوا۔ شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر انھیں فارس بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ شیر شاہ نے دہلی کا چھٹا شہر تعمیر کروایا اور وہ قلعہ بنوایا جو آج پرانا قلعہ کہلاتا ہے، اگرچہ اس علاقے میں اس سے پہلے بھی بستی موجود تھی۔ 1545ء میں شیر شاہ کی موت کے بعد ان کے فرزند اسلام شاہ دہلی سے شمالی ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ پھر کچھ عرصے کے لیے ہمایوں نے کھوئی ہوئی شان دوبارہ پا لی؛ اسی اثنا میں 1553ء میں عادل شاہ سوری کے وزیر اعظم ہندو سپہ سالار اور وزیر ہیمو بقال نے سر اٹھایا۔

ہیمو نے بغاوتوں اور مغل افواج کے خلاف مجموعی طور پر 22 جنگیں جیتیں، جن میں آگرہ اور دہلی میں اکبر کی فوج کے خلاف دونوں فتوحات شامل تھیں۔ 7 اکتوبر 1556ء کو تغلق آباد کے قریب مغل فوج کو شکست دینے کے بعد انھوں نے دہلی کا تخت سنبھالا اور قدیم ہندوستانی لقب ”وکرم آدتیہ“ اختیار کیا۔ تاہم دوسرے معرکۂ پانی پت میں بیرم خاں کی قیادت میں مغل افواج سے شکست کھا گئے، جس کے بعد خطے میں مغل اقتدار دوبارہ بحال ہوا۔

اکبر سے اورنگ زیب تک (1556ء تا 1707ء)

[ترمیم]

تیسرے اور سب سے نمایاں مغل بادشاہ اکبر (1556ء–1605ء) نے آگرہ سے حکومت جاری رکھی جس سے دہلی کی سیاسی ساکھ کمزور پڑتی گئی۔

وسط سترھویں صدی عیسوی میں پادشاہ شاہ جہاں (1628ء–1658ء) نے دہلی کا ساتواں تاریخی شہر شاہ جہاں آباد تعمیر کروایا جو آج ’پرانی دہلی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔[9][6] لال قلعہ اور جامع مسجد اسی دور کی یادگاریں ہیں۔[10] 1638ء میں انھوں نے دار الخلافہ آگرہ سے دہلی منتقل کر دیا اور پھر دہلی ہی مغل اقتدار کا مرکز رہی۔

اورنگ زیب (1658ء–1707ء) نے 1658ء میں دہلی کے شالیمار باغ میں اپنی تاج پوشی کی تقریب منعقد کی اور اس سے اگلے سال دوبارہ اسی مقام پر تاج پوشی ہوئی۔

1680ء کے بعد مغل طاقت تیزی سے کمزور ہونے لگی جبکہ ہندو مرہٹہ سلطنت مضبوط ہو رہی تھی۔[11]

مغلوں کا زوال

[ترمیم]

مرہٹوں، جاٹوں، افغانوں اور سکھوں کی یلغار نے مغل اقتدار کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1737ء میں باجی راؤ اول ایک بڑی فوج کے ساتھ دہلی آئے اور دہلی کی پہلی لڑائی میں مغلوں کو شکست دی،[12][13] جس کے بعد مرہٹوں نے شہر کو خوب لوٹا۔ 1739ء میں نادر شاہ نے ایران سے حملہ کیا۔ کرنال کی بڑی جنگ صرف چند گھنٹوں میں جیت کر وہ دہلی میں داخل ہوئے اور دو دن تک قتل عام جاری رہا جس میں تیس ہزار سے زیادہ شہری مارے گئے۔ انھوں نے شہر اور شاہی خزانے کو لوٹ لیا اور تخت طاؤس، دریائے نور اور کوہِ نور جیسے قیمتی جواہرات بھی لے گئے۔ آخرکار بادشاہ محمد شاہ کو ان کے سامنے التجا کرنی پڑی جس کے بعد نادر شاہ ایران لوٹ گئے مگر مغلیہ سلطنت اپنی طاقت کھو چکی تھی اور پھر کبھی بحال نہ ہو سکی۔[14]

انتظامی تقسیم

[ترمیم]

صوبہ دہلی آٹھ (8) سرکاروں میں تقسیم کیا گیا تھا اور آئین اکبری (جلد دوم) کی رو سے ان کی تفصیل یوں ہے:[15]

سنہ 1601ء میں صوبۂ دہلی کے سرکاروں کی فہرست(ا)[15]
نمبر شمار نام رقبہ (مربع میل) مالیہ/ریونیو (دام)
دہلی سرکار 7،962 مربع‌میل 123،012،596
بداؤن سرکار 5،628 مربع‌میل 34،817،063
کمون سرکار 18،846 مربع‌میل 45،437،700
سنبھل سرکار 5،585 مربع‌میل 66،941،431
سہارنپور سرکار 3،480 مربع‌میل 87،839،859
ریواڑی سرکار 1,201 مربع‌میل 28,807,718
حصار فیروزہ سرکسر 12،445 مربع‌میل 52،554،905
سرہند سرکار 11،650 مربع‌میل 160،790،549
کل برائے صوبہ: 66،797 مربع‌میل 600،201،821

یہ سرکار 232 پرگنوں میں تقسیم تھے۔ مثلاً سرہند سرکار 28 پرگنوں پر مشتمل جمن ستلج دوآب تک پھیلا ہوا تھا۔[16][15]

آب و ہوا

[ترمیم]

یہ صوبہ داخل اقلیم سوم تھا۔ دریائے گنگ اور جمن کے سرچشمے اسی صوبے میں تھے۔ اس صوبے کی آب و ہوا معتدل تھی اور برسات میں اکثر زمین سیلاب ہو جاتی تھی اور بعض مقام میں تین فصلیں پیدائش غلے کی ہوتی تھیں۔[17]

حواشی

[ترمیم]
  • ا: سرکار کے رقبوں کا تعین 1595–1596ء اور 1601ء کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ محاصل کی جو رقومات درج ہیں وہ ”جمع“ یا ”نقدی“ کے سرکاری تخمینے ہیں، جیسا کہ ”آئینِ اکبری“ میں درج ہے۔ البتہ یہ محاصل علاقائی نرخوں کے فرق کو مدنظر نہیں رکھتے۔ جمع کی رقم دام (تانبے کے سکے) میں دی گئی ہے۔ آئینِ اکبری کے زمانے میں ایک روپیہ چالیس دام کے برابر تھا۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Surendra Nath Sinha (1974). Subah of Allahabad Under the Great Mughals, 1580-1707 (بزبان انگریزی). Jamia Millia Islamia. p. 95. ISBN:978-0-88386-603-0.
  2. Irfan Habib (1986). "Table I: Area and ʽJama of the Mughal Empire, c. 1601". An Atlas of the Mughal Empire: Political and Economic Maps with Detained Notes, Bibliography and Index (بزبان انگریزی). Oxford University Press. pp. xii–xiii. ISBN:978-0-19-560379-8.
  3. غلام امام خاں ترین حیدرآبادی (1869)۔ تاریخِ خورشید جاہی۔ مطبع خورشیدیہ۔ ص 18{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: سال اور تاریخ (link)
  4. Tripta Wahi (2013). Irrigation, State and Society in Pre-colonial India (بزبان انگریزی). Nehru Memorial Museum and Library. p. 3. ISBN:9789383650002.
  5. "Red Fort Complex". UNESCO World Heritage Centre (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2018-07-04. Retrieved 2018-12-11.
  6. ^ ا ب Gordon Risley Hearn (1906). The Seven Cities of Delhi (بزبان انگریزی). London: W. Thacker. pp. 134–173.
  7. Abhinay Rathore. "History of Rajputs in India". Rajput Provinces of India (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-10-03.
  8. Ashok Kumar Jain (2009). Urban transport: planning and management (بزبان انگریزی). APH Publishing. pp. 166, 176. ISBN:978-81-313-0441-9. Archived from the original on 2023-04-03. Retrieved 2020-10-17.
  9. UNESCO World Heritage Centre. "Delhi – A Heritage City". UNESCO World Heritage Centre (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2018-04-24. Retrieved 2018-12-11.
  10. "Red Fort Complex". UNESCO World Heritage Centre (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2018-07-04. Retrieved 2018-12-11.
  11. Amelia Thomas (2008). Rajasthan, Delhi, and Agra (بزبان انگریزی). Lonely Planet. ISBN:978-1-74104-690-8.
  12. Jaswant Lal Mehta (1 Jan 2005). "Advanced Study in the History of Modern India 1707-1813" (بزبان انگریزی). Sterling Publishers Pvt. Ltd – via Google Books.
  13. S. N. Sen (20 Nov 2006). "History Modern India" (بزبان انگریزی). New Age International – via Google Books.
  14. Jagmohan (2005). Soul and Structure of Governance in India (بزبان انگریزی). Allied Publishers. ISBN:9788177648317. Retrieved 2014-06-02.
  15. ^ ا ب پ Irfan Habib (1986). An Atlas of the Mughal Empire: Political and Economic Maps with Detailed Notes, Bibliography and Index (بزبان انگریزی) (reprint ed.). New Delhi: Oxford University Press. pp. sheets 0A and 4A, pages VII–VIII, 8–13.
  16. H. S. Panag (4 Jul 2017). "The razing of Sirhind". Times of India (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-03-16.
  17. کمال الدین حیدر (1879)۔ تاریخ اودھ۔ لکھنؤ: مطبع منشی نول کشور۔ ج 2۔ ص 422