صوبہ لغمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صوبہ لغمان
لغمان شریف
صوبہ
صوبہ لغمان
صوبہ لغمان
افغانستان کے نقشے پر صوبہ لغمان
افغانستان کے نقشے پر صوبہ لغمان
ملک Flag of Afghanistan.svg افغانستان
پایہ تخت مهترلام
حکومت
 • گورنر فضل اللہ مجددی
رقبہ
 • کل 3,843 کلو میٹر2 (1,484 مربع میل)
آبادی (2012)
 • کل 424,100
 • کثافت 110/کلو میٹر2 (290/مربع میل)
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+04:30
آیزو 3166 رمز AF-LAG
اہم زبانیں پشتو زبان
دری

لغمان - افغانستان کا ایک صوبہ (انگریزی: Laghman، پشتو/فارسی: لغمان) افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ افغانستان کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس صوبے کا انتظامی صدر مقام مہتر لام ہے۔ اس صوبہ کے کئی ضلعے ہیں جن میں علی نگر، علی شانگ، دولت شاہ، مہترلام اور کرغائی شامل ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

بدھا دور[ترمیم]

سکندر اعظم کے حملے کے وقت یہ علاقہ لامپاکا کہلاتا تھا۔ ساتویں صدی میں مشہور چینی سیاح ژیانگ ژینگ اس علاقے میں سفر کے دوران تشریف لائے اور ان کی تصانیف میں چند لوگ بدھ مت جبکہ اس علاقے جس کو لغمان کہا جاتا ہے کے زیادہ تر آبادی ہندو مت کی پیروکار تھی۔ ان کے مطابق اس وقت لغمان جس کو لمپا بھی کہا جاتا تھا اس میں دس سے زائد بدھ عبادت گاہیں تعمیر ہوئی تھیں۔

اسلامی دور[ترمیم]

علاقہ افغان میں اسلام کی آمد کے بعد غزنوی قبائل جن کے سالاری ابو منصور کے حوالے تھی نے یہاں لغمان میں ہندو شاہی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی۔ اس وقت ہندو شاہی کے بادشاہ جے پالا تھے اور تقریباً ایک لاکھ فوج اس کی صوابدید پر تھی۔ بعد میں مغل دور حکومت میں لغمان کو صوبہ کابل کا خود مختار ضلع تسلیم کیا گیا۔
کابل میوزیم میں موجود دستاویزات اور ملنے والے آثار کے مطابق لغمان ہندوستان سے پلام ہرا کی جانب قدیم تجارتی گزرگاہ تھی۔
سویت جنگ کے دوران اور اس کے بعد افغان جنگجوؤں کی آپسی جھڑپوں میں یہاں کی تقریباً عمارات اور تجارتی مراکز تباہ ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ سویت دور میں یہاں زرعی املاک، نہری نظام اور زمینیں تباہ کر دی گئیں تھیں۔

سیاست اور حالیہ واقعات[ترمیم]

لطف اللہ مشعل صوبہ لغمان کے حالیہ گورنر ہیں۔ اس صوبہ کے سابق گورنر شاہ محمود صافی تھے، جن کی جگہ گلاب منگل کو تعینات کیا گیا، ان پر ہونے والے طالبان کے پے درپے حملوں کے بعد انھوں نے استعفیٰ دے دیا، تبھی لطف اللہ مشعل نے صوبہ لغمان کے گورنر کی حیثیت سے ذمہ داریاں مارچ 2008ء میں سنبھالیں۔
20 جون 2005ء کو صوبہ لغمان سے تین پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا، جو تعمیر نو کے سلسلے میں دورے پر موجود امریکی سفیر زلمے خلیل زاد پر قاتلانہ حملے میں ملوث تھے۔ ان اشخاص کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔
فروری 2006ء میں ضلع مہترلام میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ضلع کی تقریباً آبادی نے شرکت کی۔ یہ مظاہرہ ہالینڈ کے اخبار میں شائع ہونے والے کارٹون کے ٍ خلاف منعقد کیا گیا تھا۔ لغمان افغانستان میں پہلا صوبہ تھا جہاں متنازع کارٹون کے خلاف مظاہرہ منعقد ہوا، پورے عالم اسلام میں ان کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کیا تھا۔
20 اپریل 2007ء کو اتحادی افواج نے افغانی طالبان کے مشہور زمانہ کمانڈر گل حق پرست کو جاں بحق کر دیا، گل حق پرست گلبدین حکمت یار کے قریبی ساتھی بھی تصور کیے جاتے تھے۔ اس وقت کے گورنر گلاب منگل نے اخباری بیان میں حق پرست کی موت کو خوش آئند قرار دیا اور صوبے کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہونے سے تشبیہ دی۔
24 اپریل 2007ء کو لغمان میں چھ افغان جاسوس افسر ایک گاڑی میں ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔ خبروں کے مطابق ان میں سے ایک افسر کو اغواء کی گیا تھا جس کو بعد میں ذبح کر دیا گیا۔
2 ستمبر 2009ء ایک خودکش دھماکے میں 23 افراد جاں بحق ہو گئے جس میں افغان جاسوس ادارے کے سربراہ بھی شامل تھے۔

معیشت[ترمیم]

صوبہ لغمان میں وہ علاقے جو علی نگر اور علی شانگ دریاؤں کے کنارے واقع ہیں، زرعی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔ صوبہ لغمان میں زرعی زمین انتہائی زرخیز ہے اور یہاں پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار بڑی مقدار میں شامل ہے۔ یہاں کی دوسری فصلوں میں چاول، گندم اور کپاس شامل ہیں جبکہ آبادی کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔
صوبہ لغمان میں قیمتی پتھر کی کانیں بھی دریافت ہوئی ہیں، جو زیادہ تر صوبہ کے شمالی علاقوں میں واقع ہیں۔

طرز معاشرت[ترمیم]

یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ پشتون ہیں جو تقریباً کل آبادی کا %58 ہیں- %33 فیصد آبادی پاشی اور نورستانی ہیں جبکہ %21 فیصد یہاں تاجک قبائل آباد ہیں۔ تقریباً آبادی سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔