صوبہ ملتان
صوبہ ملتان | |||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 1580–1849 | |||||||||
Elaborately illustrated map of the Multan Subah of the Mughal Empire, commissioned by Jean Baptiste Joseph Gentil, ca.1770 | |||||||||
| دار الحکومت | ملتان | ||||||||
| تاریخی دور | Early modern period | ||||||||
• | 1580 | ||||||||
• | 1849 | ||||||||
| رقبہ | |||||||||
• 1601 | 65,832[1] مربع میل (170,500 کلومیٹر2) | ||||||||
| |||||||||
| موجودہ حصہ | |||||||||
صوبہ دار الامان ملتان لاہور اور دہلی کے صوبوں کے ساتھ مغل سلطنت بارہ صوبوں میں سے ایک تھا، جو موجودہ سرائیکی وسیب جنوبی پنجاب خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا ، صوبہ قندھار اور فارسی صفوی سلطنت سے متصل تھا ۔ یہ مغلیہ سلطنت کے سب سے بڑے اور اہم صوبوں میں سے ایک تھا۔ اس صوبے کو 1752ء میں درانی سلطنت نے الحاق کر لیا، علی محمد خاکوانی اس کے پہلے درانی گورنر تھے۔ درانی سلطنت کے بعد یہ 1818ء میں سکھ سلطنت کا ایک صوبہ بنا یہاں تک کہ 1849ء میں سکھ سلطنت کو ختم کر کے اس پر انگریزوں نے قبضہ کیا اور بغاوت کی پاداش میں اس کی صوبائی حیثیت کو ختم کر کے اسے صوبہ پنجاب کی کمشنری بنا دیا گیا ۔
جغرافیہ
[ترمیم]صوبہ ملتان ، شمال میں صوبہ لاہور اور کابل صوبہ ، مغرب میں صفوی سلطنت اور کچھ عرصے کے لیے قندھار صوبہ ، مشرق میں اجمیر صوبہ اور دہلی صوبہ اور جنوب میں ٹھٹھہ صوبہ سے متصل تھا۔ ملتان کا صوبہ 1580ء میں مغل شہنشاہ اکبر کے بنائے گئے بارہ انتظامی صوبوں میں سے ایک تھا۔ ملتان شہر آئین اکبری کے مطابق صوبہ ملتان کے دار الحکومت کے طور پر کام کرتا تھا۔
معیشت
[ترمیم]
مغلیہ دور حکومت میں خطہ ملتان نے 200 سال تک امن کا لطف اٹھایا جب یہ شہر دارالامان کے نام سے مشہور ہوا۔ مغل دور میں ملتان زرعی پیداوار اور سوتی کپڑے کی تیاری کا ایک اہم مرکز تھا۔ ملتان میں مغل دور میں کرنسی ٹکسال ملتان بھی قائم تھا۔ یہ شہر اس وقت تک ایک اہم تجارتی مرکز رہا جب تک کہ مغل دور کے بعد 18ویں اور 19ویں صدی میں شہر کو بار بار حملوں سے تباہ نہیں کر دیا گیا۔ اس کے بعد ملتان کے بہت سے تاجر سندھ میں شکار پور چلے گئے اور 19ویں صدی تک پورے وسطی ایشیا تک پھیل گئے۔ مغل دور میں ملتان بہت سے تجارتی اداروں کے دفاتر کا مرکز تھا۔
صوبہ ملتان کی انتظامی تقسیم
[ترمیم]صوبہ ملتان کو درج ذیل تین انتظامی ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا تھا جنہیں سرکار کہا جاتا تھا۔سرکاروں کو پرگنہ (ذیلی اضلاع) میں تقسیم کیا گیا تھا۔
| فہرست انتظامی سرکار صوبہ ملتان 1601[note 1][2] | نام | رقبہ (sq. mi.) | محصول (سکے) |
|---|---|---|---|
| 1. | ملتان سرکار | 36,522 mi2 | 53,216,318 |
| 2. | دیپالپور سرکار | 7,930 mi2 | 78,562,285 |
| 3. | بکھر سرکار | 21,380 mi2 | 18,424,947 |
| کل صوبائی میزان | 65,832 mi2 | 150,203,550 | |
گورنروں کی فہرست
[ترمیم]مغلیہ دور
[ترمیم]- سید حامد بخاری (1580-1587 )
- صادق خان (1587-1590)
- محب علی خان (1590-1594)
- رستم مرزا ( 1594-1602)
- سید خان ( 1602-1605)
- مرزا غازی بیگ ( 1605-1606)
- تاشی بیگ ( 1606-1611)
- عبدالنبی ازبک (1611-1613)
- باقر خان نجم ثانی (1613-1620)
- خان جہاں لودی (1620-1624)
- آصف خان ( 1624-1631)
- قلیج خان تررانی (1631-1638)
- یوسف خان (1638-1639)
- نجابت خان (1639-1641)
- قلیج خان ترانی (1641-1642)
- سعید خان بہادر (1642-1643)
- مراد بخش (1643-1646)
- سعید خان بہادر (1646-1647)
- بہادر خان روہیلہ (1647-1649)
- اورنگزیب عالمگیر (1649-1653)
- دارا شکوہ (1653-1657)
- لشکر خان (1658)
- تربت خان (1658-1667)
- سیف خان (1667-1668)
- طاہر خان (1668-1669)
- لشکر خان (1669-1671)
- مبارز خان (1671-1672)
- خواجہ عابد خان (1672–1674)
- دلیر خان (1674-1676)
- محمد اعظم شاہ (1676-1678)
- محمد اکبر (1678-1687)
- میر عاشق (1687-1695)
- اللہ یار خان (1695-1696)
- عبد الصمد خان (1726-1737)
- زکریا خان (1737-1745)
- شاہ نواز خان (1745-1747)
- زاہد خان (1747-1748)
- کوڑا مل (1748–1751)
درانی سلطنت
[ترمیم]- علی محمد خاکوانی (1752-1758)
- آدینہ بیگ خان (مئی تا اکتوبر 1756ء) ، مغل سلطنت
- صالح محمد خان ( 1758-1759)، مغل سلطنت
- باپو جی ٹرمبیک (1759) ، مرہٹہ سلطنت
- علی محمد خان خاکوانی (1760–1761)
- عبد الکریم خان (1761)
- اللہ یار خان بامزئی (1761)
- علی محمد خان خاکوانی (1766–1767)
- شجاع خان (1767–1772)
- حاجی شریف خان، شریف بیک تکلُو (1772)
- دیوان سنگھ چاچوالیہ (1772–1780)، بھنگی سکھ گورنر
- مظفر خان سدوزئی (1780–1818)
سکھ سلطنت
[ترمیم]- سکھ دیال کھتری (1818ء - 1820ء)
- دیوان ساون مل چوپڑا (1820ء - 1844ء)
- دیوان مولراج چوپڑا (1844ء - 1849ء)
- ↑ Irfan Habib (1986). "Table I: Area and ʽJama of the Mughal Empire, c. 1601". An Atlas of the Mughal Empire: Political and Economic Maps with Detained Notes, Bibliography and Index (بزبان انگریزی). Oxford University Press. pp. xii–xiii. ISBN:978-0-19-560379-8.
- ↑