مندرجات کا رخ کریں

صوبہ حیدرآباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(صوبۂ حیدرآباد سے رجوع مکرر)
صوبۂ حیدرآباد
صوبہ گولکنڈہ، دار الجہاد
1687ء–1724ء/1740ء
دار الحکومتحیدرآباد
تاریخ 
1687ء
1724ء
• Disestablished
1724ء/1740ء
رقبہ
• 1707ء
109,362[1] مربع میل (283,250 کلومیٹر2)
ماقبل
مابعد
سلطنت گولکنڈہ
ریاست حیدرآباد
موجودہ حصہبھارت

صوبۂ حیدرآباد[2] (یا صوبۂ گولکنڈہ) مغلیہ سلطنت کا وہ صوبہ تھا جو برصغیر کے مشرقی دکن کے خطے پر مشتمل تھا۔ یہ 1687ء میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے دور میں اُس وقت قائم ہوا جب مغلوں نے سلطنتِ گولکنڈہ کے آخری حاکم اور ان کی فوج کے خلاف نبر آزمائی کی اور گولکنڈے کا آٹھ ماہ طویل محاصرہ کر کے اسے مغلیہ سلطنت میں شامل کر لیا۔ اٹھارھویں صدی عیسوی میں جب مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی تو یہ صوبہ بتدریج مرکز سے الگ ہونا شروع ہوا اور بالآخر نظام الملک کے زیرِ انتظام دکن کی ایک خود مختار ریاست کی شکل اختیار کر گیا۔

اورنگزیب نے گولکنڈے کے انضمام کے بعد اس خطے کو باضابطہ طور پر ”دار الجہاد“ کا لقب دیا تھا۔

پس منظر

[ترمیم]

صوبہ حیدرآباد کی بنیاد دراصل مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں رکھی گئی، جب 1636ء میں سلطنتِ گولکنڈہ (جس پر قطب شاہی خاندان حکومت کرتا تھا) سے ایک معاہدۂ اطاعت طے پایا جس کے تحت گولکنڈہ مغلوں کا باج گزار بن گیا۔ یہ دکن میں مغلیہ اقتدار کو مضبوط کرنے کی ایک بڑی مہم کا حصہ تھا؛ سلطنتِ احمد نگر اسی دور میں مغلیہ سلطنت میں شامل ہو چکی تھی اور سلطنتِ بیجاپور بھی مغل دباؤ کا سامنا کر رہی تھی۔ اگلے کئی عشروں تک شاہ جہاں نے اس باج گزار تعلق کو برقرار رکھا اگرچہ دربار میں یہ رائے بھی موجود تھی کہ دکن کی سلطنتوں کو مکمل طور پر ضم کیا جائے۔ شاہ جہاں کے سپوت اور مستقبل کے شہنشاہ اورنگ زیب اس حکمت عملی کے مُصَمَّم حامی تھے۔ 1656ء کے واقعات کے نتیجے میں انھوں نے گولکنڈہ پر حملہ کیا لیکن شاہ جہاں نے ایک امن معاہدے کے بعد اس اقدام کو روک دیا۔ بعد ازاں جب اورنگ زیب تخت نشین ہوئے تو انھوں نے دوبارہ گولکنڈہ پر چڑھائی کی جو 1687ء میں آٹھ ماہ کے محاصرے کے بعد مغلیہ فتح پر ختم ہوئی اور یوں گولکنڈہ مکمل طور پر مغلیہ سلطنت میں شامل ہو گیا۔ یہ دکن میں مغلیہ حکمتِ عملی کا آخری مرحلہ تھا اور اورنگ زیب کے دیرینہ منصوبے کی تکمیل بھی۔[2]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Irfan Habib (1986). "Table II: Areas of the Deccan Ṣūbahs, 1707". An Atlas of the Mughal Empire: Political and Economic Maps with Detained Notes, Bibliography and Index (بزبان انگریزی). Oxford University Press. pp. xii–xiii. ISBN:978-0-19-560379-8.
  2. ^ ا ب J. F. Richards (1975b). "The Hyderabad Karnatik, 1687-1707". Modern Asian Studies (بزبان انگریزی). 9 (2): 241–260. DOI:10.1017/S0026749X00004996. ISSN:0026-749X. JSTOR:311962. S2CID:142989123.