صور اسرافیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

صورِ اسرافیل اُس چیخ کا نام ہے جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آجائے گی ،

صور اسرافیل کیا ہے[ترمیم]

ایک شخص کے سوال پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صور ایک نر سنگا ہے [1] حضور ﷺ سے صور کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا قرن ینفخ فیہ یہ ایک سینگ کی شکل و صورت کی چیز ہے جس میں قیامت کے دن پھونک ماری جائے گی۔ اس سینگ کا باریک حصہ اسرافیل نے منہ میں لے رکھا ہے اور منتظر ہے کہ کب اللہ کا حکم ہو تو وہ اس میں پھونک مارے۔ [2]
پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن (نر سنگا) ہے اور مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے۔
اُس ہمہ گیر زلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سےدہشت زدہ ہوکردودھ پلانے والی مائیں اپنےدودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے، اُس چیخ اور زلزلہ کی شدّت دم دبدم بڑھتی چلی جائے گی جس سے تمام انسان اور جانور مرنے شروع ہوجائیں گے یہاں تک کہ زمین و آسمان میں کوئی جاندار زندہ نہ بچے گا ، زمین پھٹ پڑے گی ، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اُڑتے پھریں گے ، ستارے اور سیارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرپڑیں گے، آفتاب کی روشنی فنا اور پورا عالَم تیرہ و تار (تاریک)ہوجائے گا، آسمانوں کے پرخچے اُڑجائیں گے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند امام احمد
  2. مسلم ص 406 ج 2 و بخاری ص 735 ج 2
  3. علاماتِ قیامت اور نزولِ مسیح ،مفتی محمد رفیع عثمانی:142،