صوم داؤدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

صوم داؤدی جس کو " افضل الصیام "، " سب سے اچھا روزہ " قرار دیا گیا، کہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ہو۔ سب سے افضل روزہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن بے روزہ رہے حضرت داؤد (علیہ السلام) اسی طرح نفلی روزے رکھتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ شَطْرَ الدَّهَرِ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا (یعنی داؤد (علیہ السلام) کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں) اور ایک روایت ہے۔ لا افضل من ذلک [1] یعنی اس روزے سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داؤد (علیہ السلام) والے روزے ہیں اور سب سے پسندیدہ نماز بھی داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے وہ پہلی آدھی رات تک سوتے تہائی رات نماز پڑھتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے (اسی کو صوم داؤدی کہتے ہیں) [2] صوم داؤدی کی اجازت عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرے بارے میں یہ بتایا گیا کہ میں نے قسم کھائی ہے زندگی بھر دن کو روزہ رکھنے کی اور رات کو عبادت کرنے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کیا تم ہی کہتے ہو کہ واللہ میں زندگی بھر دن کو روزہ رکھوں گا اور رات کو عبادت کروں گا تو میں نے عرض کیا ہاں میں نے ایسا کہا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں اس کی طاقت نہیں لہذا (کبھی) روزہ رکھو اور (کبھی) چھوڑ دو اور (کبھی) رات کو عبادت کرو اور (کبھی آرام سے ) سو جاؤ اور ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی کا دس گنا اجر ملتا ہے (تو مہینا میں تین روزے تیس کے برابر ہوئے) اور یہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہوجائیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک دون روزہ رکھو اور دو دن چھوڑ دو میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھو اور یہ صوم داؤدی ہے یہ سب سے معتدل قسم کا روزہ ہے میں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس اس سے زیادہ میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔ (یعنی ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزہ رکھ لیتے تھے)[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری کتاب الصوم باب صوم داؤد
  2. سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 683
  3. صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 680