صہیون مخالفت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ضد صیہونیت سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
غزہ کی جنگ کے خلاف میلبورن میں احتجاج, 2009 ء
7 ستمبر 2006 میں ٹرافلگر اسکوائر, لندن. پر

صیہون مخالفت صیہونیت کی مخالفت ہے۔جدید دور میں یہ  اصطلاح سطحی طور پر یہود کی نسلی قومیت اور ان  یہودی سیاسی  تحاریک اور یہودی ثقافت کی مخالفت ہے جو  یہودی جنم بھومی اور  یہودی ریاست  کی حمایت کرتا ہے ان علاقوں (فلسطین ، کنعان  اور ارض مقدسہ ) میں جو تاریخی طور پر یہودی ریاست  میں رہی ہیں۔ضد صہیونی اسرائیل کی ریاست کی مخالفت کے طور پر بھی دیکھی جاتی ہے۔یہ اصطلاح مختلف مذہبی ، اخلاقی اور سیاسی نقاطِ نظر کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، لیکن ان کے ترغیب اور اظہار کی تنوع کافی حد تک مختلف ہے کیونکہ "صیہون مخالفت" کو یوں نہیں دیکھا جاسکتا کہ اس کا کوئی ایک واحد نظریہ یا ماخذ ہو ۔  کس طرح اس پر  فلسفیانہ تبادلہ خیال کیا جاتا ہے اور کس طرح یہ کسی  سیاسی یا سماجی مہم کے اندر رہ کر نافذ کیا جاتا ہے ان دونوں کے درمیان بھی فرق ہے ۔[1] بہت سے قابل ذکر یہودی اور غیر یہودی ذرائع  کی رائے ہے کہ ضد صہیونیت آج کل کی ضدسامیت کے لیے آڑ بن چکا ہے ، یہ ایک ایسی صورت  ہے کہ ناقدین جسے  اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو  خاموش کرنے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔جبکہ   دوسروں ناقدین   سٹیون م کوہن , برائن کلگ [2] اور  ٹوڈ گیٹلن ,ان میں کوئی باہمی تعلق نہیں دیکھتے۔

یہودی ضد-صہیونیت[ترمیم]

یہودی ضدصہیونیت اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ خود صہیونیت اور جنگ عظیم دوم سے قبل تک اسے   یہود کی عام   حمایت حاصل رہی  ۔ یہودی برادری ایک اکیلی متحد جماعت نہیں اور ضدصہیونیت کا جواب خود  یہودی لوگوں اورغیریہود کی جانب سے مختلف رہا ہے ۔ مختلف وجوہات کی بنا پر ضدصہیونیت بنیادی اور کلی دھڑوں میں سے دو اہم  صہیونی مخالف سیکولر یہود اور مذہبی یہود ہیں۔ صہیونیت کے سیکولر  اور مذہبی مخالفت کے وجوہات  آپس میں بہت مختلف ہیں۔ اسرائیلی ریاست کی مخالفت وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوئی ہے  اور  متعدد مذہبی ، نسلی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہوئی ہے ۔ ضد صہیونیت کا جواز  صہیونیت کی طرح آج تک  متنازع ہے ، بشمول  ضد سامیت اور ضد صہیونیت کے حالیہ متنازع تعلق کی وجہ سے بھی۔[3]  ضد صہیونیت کے مختلف اقسام کے دوسرے نظریات کے بارے میں بھی بحث اور تبادلہ خیال ہوتا رہا ہے ۔[4][5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Halpern, Gilad, host. "Left Handed Compliments ...." The Tel Aviv Review, TLV1 Podcasts. 17 November 2017. See discussion beginning at 22:33.
  2. Brian Klug, No, Zionism is not anti-semitism The Guardian 3 December 2003
  3. Wistrich، Robert S. (Fall 2004). "Anti-Zionism and Anti-Semitism". Jewish Political Studies Review 16 (3–4). http://old.jcpa.org/JCPA/Templates/ShowPage.asp?DRIT=3&DBID=1&LNGID=1&TMID=111&FID=625&PID=863&IID=1064&TTL=Anti-Zionism_and_Anti-Semitism۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 February 2007. 
  4. Said، Edward (November–December 2000). "America's Last Taboo". New Left Review II (6): 45–53. http://newleftreview.org/II/6/edward-said-america-s-last-taboo۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 February 2007. 
  5. Steven J. Zipperstein۔ "Historical Reflections on Contemporary Antisemitism"۔ بہ Derek J. Penslar؛ Michael R. Marrus؛ Janice Gross Stein۔ Contemporary antisemitism: Canada and the world۔ Toronto, Ontario: University of Toronto Press۔ صفحات 60–61۔ آئی ایس بی این 978-0-8020-3931-6۔ او سی ایل سی 56531591۔ ایل سی سی این 2005277647۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 فروری 2007۔
  6. Dror Feiler۔ "Letter sent to the European Monitoring Centre on Racism and Xenophobia concerning the Working Definition of Antisemitism"۔ European Jews for a Just Peace۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2007۔