ضلع سدھنوتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سدھنوتی
ضلع
نقشہ آزاد کشمیر میں سدھنوتی ہرے نگ میں دیکھا جاسکتا ہے۔
نقشہ آزاد کشمیر میں سدھنوتی ہرے نگ میں دیکھا جاسکتا ہے۔
ملک پاکستانکے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر
ہیڈکوارٹر پلندری
رقبہ
 • کل 575 کلو میٹر2 (222 مربع میل)
منطقۂ وقت پ۔م۔و (UTC+5)
تحصیلوں کی تعداد 4
Map of سدھنوتی

سدھنوتی آزاد کشمیر کے آٹھ اضلاع میں سے ایک ہے یہ اسلام آباد، پاکستان کی دارالحکومت سے 90 کلومیٹر دور واقع ہے۔
یہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے ساتھ آزاد پتن سڑک کے ذریعے منسلک ہے

جغرافیائی اور علاقائی معلومات[ترمیم]

سدھنوتی کشمیر کی مغربی سرحد پر ضلع راولپنڈی سے متصل دریائے جہلم کے مشرقی کنارے کے ساتھ ساتھ دریائے پونچھ تک کا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ آزادکشمیر کے عین وسط میں ہے اس کے شمال میں پونچھ،باغ اور مظفر آباد کے اضلاع جبکہ جنوب میں کوٹلی میرپور اور بھمبر کے اضلاع ہیں اس طرح یہ آزادکشمیر کا وسطی ضلع ہے آزاد حکومت کے قیام پر اس کا صدر مقام پلندری میں بنایا گیا۔ جنگ بندی کے بعد جسے مظفر آباد منتقل کردیا گیا متحدہ ضلع پونچھ کا ہیڈکوارٹر بھی 1964تک یہیں رہا 1987میں ضلع پونچھ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا یعنی باغ کو الگ ضلع بنا دیا گیا۔ جس کے بعد اہل سندھوتی نے مطالبہ کیا کہ ضلع پونچھ کا صدر مقام سابقہ جگہ یعنی پلندری منتقل کیا جائے کیونکہ ضلعی صدر مقام راولا کوٹ منتقل ہونے کے باوجود کچھ دفاتر جن میں ڈسٹرکٹ ہیڈ آفیسر، ڈسٹرکٹ جیل پونچھ، ڈسٹرکٹ آرمڈ سروسز بورڈ شامل تھے۔ پلندری ہی میں تھے حکومت آزادکشمیر نے ضلعی ہیڈکوارٹر کی بحالی کا مطالبہ تو تسلیم نہیں کیا البتہ طویل عرصہ کے بعد سدھنوتی کو 1995میں الگ ضلع کا درجہ دیدیا گیا اس ضلع کا شماریاتی جائزہ اس طرح ہے:

  • رقبہ ← 575مربع کلو میٹر
  • آبادی ← 1999کی مردم شماری کے مطابق دو لاکھ انیس ہزار
  • سب ڈویژن ←ایک
  • نیابت ← تین بلوچ، تراڑ کھل، منگ
  • یونین کونسل ← چھے چھن(خان آباد) ، دھاردھرچھ، منگ، پتن شیر خان گوراہ، گڑالہ، نیریاں، بساڑی، کہالہ، جھنڈا بگلہ، پنتھل، بارل
  • اہم پیداوار← گندم، مکئی، لہسن، پیاز، آلو، خوبانی، سیب، ناشپاتی، آلو بخارا
  • سطح سمندر سے بلندی← تین ہزار سے سات ہزار فٹ
  • بلند ترین مقام ←ناگیشر بلندی تقریباً 7000فٹ

اہم سڑکیں[ترمیم]

آزاد پتن پلندری ہجیرہ روڈ، یہ ضلع پونچھ کی سب سے قدیم سڑک ہے۔ یہ سب سے پہلے 1920میں نکالی گئی۔ راولپنڈی اور گوجر خان سے پونچھ کے درمیان میں پیدل اور اونٹوں پر سفراسی راستے پر کیا جاتا تھا اور سامان پونچھ تک پہنچایا جاتا تھا۔ جنگ آزادی کے دوران میں اس سڑک کو بہت اہمیت حاصل رہی پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اسی سڑک کے ذریعے تراڑ کھل تک گئے۔ آزاد پتن سے پلندری کا فاصلہ 24کلو میٹر، پلندری سے تراڑ کھل 30کلو میٹر، تراڑ کھل سے ہجیرہ 19کلو میٹر ہے۔

آزاد پتن منگ روڈ[ترمیم]

یہ سڑک 1928میں تعمیر ہوئی اور ایک عرصہ تک راولا کوٹ سے راولپنڈی سفر کا واحد ذریعہ رہی۔ یہ سڑک آزاد پتن سے منگ، نکہ بازار، تھوراڑ، کس بازار اور ٹوپہ سے ہوتی ہوئی راولاکوٹ جاتی ہے۔ آزاد پتن سے منگ 24کلو میٹر، جبکہ منگ سے نکہ بازار 5کلو میٹر ہے۔

پلندری کوٹلی روڈ[ترمیم]

یہ بھی ضلع پونچھ کی قدیم ترین سڑکوں میں سے ایک ہے جہاں آزادی کے دوران یہ سڑک سدھنوتی اور کوٹلی کے درمیان میں رابطے کا بڑا ذریعہ تھی مجاہدین نے اسی سڑک پر ڈوگرہ فوج کا پیچھا کیا اور اسی سڑک پر اپنا دفاع قائم کیا، پلندری سے کوٹلی کا فاصلہ 45کلو میٹر ہے۔ اس سڑک پر ٹاہلیان، پنجیڑا اور سرساوہ اہم مقام ہیں۔

سرساوہ بلوچ تراڑ کھل روڈ[ترمیم]

تراڑ کھل سے ایک سڑک براستہ بلوچ، سرساوہ سہنسہ راولپنڈی تک جاتی ہے اس سڑک پر ٹنگی گلہ، قلعاں، بیٹھک بلوچ اہم مقامات ہیں۔

پلندری چھے چھن (خان آباد) آزاد پتن روڈ[ترمیم]

پلندری سے ایک سڑک براستہ چھے چھن آزاد پتن جاتی ہے، اس کی ایک شاخ براستہ ہولاڑ راولپنڈی جاتی ہے پلندری سے چھے چھن کا فاصلہ تیرہ کلو میٹر، چھے چھن سے آزاد پتن پندرہ کلو میٹر ہے چھے چھن سے ہولاڑ بارہ کلو میٹر ہے۔

پلندری آزاد پتن کلیاری روڈ[ترمیم]

آزاد پتن سے براستہ پتن شیر خان، کلیاری، ڈھلکوٹ مظفر آباد نئی سڑک تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے ذریعے پلندری سے مظفر آباد سفر آسان ہوگیا اس راستے سے پلندری سے مظفر آبا د 130کلو میٹر ہے۔

پلندری ٹنگی گلہ روڈ[ترمیم]

پلندری سے براستہ بیتراں ٹنگی گلہ سڑک تعمیر کی گئی ہے پلندری ٹنگی گلہ تک فاصلہ 22کلو میٹر ہے۔

اہم مقامات[ترمیم]

  • دیوان گوراہ: ہجیرہ راولپنڈی روڈ پر پلندری سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خوبصورت مقام ہے یہاں ایک بزرگ حضرت صاحب دین کا مزار ہے، یہاں بوائز اور گرلز ہائیاسکول قائم ہیں۔
  • چھے چھن(خان آباد): دریائے جہلم کے قریب ایک تاریخی قصبہ ہے بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان کا آبائی گاؤں ہے اس گاؤں کا نام ان کے نام سے منسوب (خان آباد) ہے پلندری سے ایک پختہ سڑک یہاں تک آتی ہے اور یہاں سے ایک راستہ ہولاڑ اور دوسرا آزاد پتن کو جاتا ہے۔
  • آزاد پتن: راولپنڈی اور سدھنوتی کی سرحد پر ایک چھوٹا قصبہ، یہاں پل تعمیر کیا گیا جس سے ٹریفک راولپنڈی تک جاتی ہے۔
  • دھاردھر چھ(افضل آباد): پلندری سے تین کلو میٹر کے فاصلے پلندری چھے چھن روڈ پر ایک خوبصورت گاؤں ہے۔
  • اسلام پورہ: پلندری بارل روڈ پر ایک قدیم اور تاریخی گاؤں ہے۔
  • بارل: تحریک آزادی کے حوالے سے ایک تاریخی مقام، یہاں ڈوگرہ عہد کا ایک قلعہ بھی موجود ہے۔ یہاں کے بہادر لوگوں نے جنگ آزادی میں پیش بہا قربانیاں دیں
  • پنتھل: بارل سے متصل ایک گائوں ہے کئی تعلیمی اور علمی شخصیات کا تعلق اس گاؤں سے ہے۔
  • ٹاہلیان: پلندری کوٹلی روڈ پر 15کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔
  • نالیاں: پلندری اور بلوچ کے درمیان میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ یہاں ایک انٹر کالج قائم کیا گیا ہے۔
  • بیتراں: پلندری سے سات کلو میٹر کے فاصلے پر ٹنگی گلہ روڈ پر ایک گاؤں، یہاں ایک ہائیاسکول قائم ہے۔
  • ٹنگی گلہ: تراڑ کھل بلوچ روڈ پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔
  • قلعاں: تحریک آزادی کے ایک ممتاز ہیرو کرنل منشا خان کا آبائی گاؤں، تراڑ کھل بلوچ روڈ پر واقع ہے۔
  • بیٹھک: تراڑ کھل بلوچ روڈ پر ایک چھوٹا قصبہ ہے۔
  • بساڑی: بیٹھک سے مشرق کی جانب پلندری پر ایک خوبصورت گاؤں ہے۔
  • رحیم آباد: بیٹھک اور بسازی کے درمیان میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔
  • پتن شیر خان: پلندری مظفر آباد روڈ پر ایک تاریخی مقام، بہاد آزادی کے ممتاز مجاہد کرنل شیر خان کا گاؤں اور انہی کے نام پر قائم ہے۔
  • "'کوٹ کوٹلی:"' یو سی گوراہ کے گاؤں کوٹ کوٹلی میں واقع ڈنہ ناگیشر کنکڈی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے

دلکش اور پر فزاء ماحول سیاحوں کے دلوں کو بہاتی ہے....

انتظامی ڈویژن[ترمیم]

سدھنوتی ڈسٹرکٹ چار تحصیل پلندری ، بلوچ، منگ اور تراڑ کھل میں تقسیم کیا گیا ہے۔پلندری ضلع ہیڈکوارٹر ہے۔ راولپنڈی سے 97 کلومیٹر فاصلے پر آزاد پتن کے ذریعے ہے۔ ضلع راولپنڈی سے 64 کلومیٹر میٹر میٹرک روڈ سے منسلک ہے۔
سدھنوتی1995 میں پونچھ ضلع سے نکالا تھا۔ یہ ضلع شمال کے پونچھ ڈسٹرکٹ، جنوب میں کوٹلی، اور مغرب میں پنجاب سے گزر رہا ہے۔
سدھنوتی ڈسٹرکٹ چار تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

آبادی[ترمیم]

سدھنوتی پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر کے دس اضلاع میں سے ایک ہے۔ سدھنوتی سابقہ ضلع پونچھ کی تحصیل پلندری پر مشتمل علاقہ جسے افغان النسل( سد ھن ) پٹھان قبائل کے نام پر سدھنوتی کا نام دے کر الگ ضلع کی حثیت دی گئی - ایک تاریخی اور باغی خطہ کے نام سے جانا جانے والا علاقہ ہے - جموں کشمیر کے آمر وں باد شاہوں کے خلاف عوامی بغاوتیں اسی خطہ سے اٹھی تھیں - یہاں نسلوں سے آباد سدھن قبائل افغانستان سے پاکستان کے سرحدی صوبے مردان صوابی بنوں اور وہاں سے راولپنڈی سے ہوتے ہوے پلندری آکر آباد ہوے یہاں سے کوٹلی باغ راولاکوٹ میں پھیلتے گئے آج بھی انکی شکل و صورت جسامت اور عادات رہن سہن ہٹ دھرمی اور باغی پن انہیں یوسف زئی کاکا زئی کرزئی اور دیگر پٹھان قبائل سے ملاتی ہے -
سدھنوتی کی آبادی 1998 کے تخمینہ کے مطابق 2 لاکھ 25 ہزار تھی جو آج لگ بھگ 3 لاکھ 25 ہزار ہے۔ 97فیصد دیہی ہے اور3فیصد شہری ہے۔ مرد51فیصد خواتین 49 فیصد اہم قبائل سدھن ،اعوان، قریشی ،کیانی، سید، عباسیوں، راجپوت ،ڈاراور دوسرے قبائل بھی یہاں آباد ہیں - دیگر علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو سدھنوتی میں روزگار کے لۓ رہتے ہیں۔ سالانہ ترقی کی شرح3فیصد ہے۔ سدھنوتی ضلع کے لوگوں میں مختلف قسم کے معیشت، زراعت، لائیوسٹری، پولٹری فارمنگ، گورنمنٹ سروس (سول اور فوجی دونوں)، اور کاروبار اور بیرون ملک مقصود بھی شامل ہیں۔

معیشت[ترمیم]

مکیَ اور گندم کے لیے استحکام کی سطح کا زراعت سدھنوتی کے ارد گرد اور اس کے ارد گرد منعقد کی جاتی ہے۔ ٹماٹر اور پالک سمیت کچھ سبزیوں کی پودوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سدھنوتی کے لیے سب سے بڑی صنعت مقبول درختوں کی کٹائی ہے، جو کھیلوں کے سامان کی تیاری کے لۓ کھیتی اور پاکستان میں منتقل ہوتے ہیں۔ سدھنوتی میں کام کرنے والے 2 فلور ملز موجود ہیں۔ ملازمت کے لیے سرکاری ملازمت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ تاہم، آبادی کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک مقیم کارکنوں کی طرف سے ترسیل پر منحصر ہے جو آزاد کشمیر میں اپنے رشتہ داروں کو پیسے بھیجتا ہے۔موقع کی کمی کی وجہ سے، سدھنوتی کے زیادہ تر شہری دیگر ممالک میں روزگار حاصل کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔کوئی شک نہیں، سدھنوتی ثقافت سے بھرا ہوا ہے۔ اگر حکومت اس کی طرف توجہ کرتی ہے تو اس سے زیادہ ترقی ہوسکتی ہے۔

قبل پاکستان[ترمیم]

اپنے حقوق اور آزادیوں کے دفاع کی خاطر 1832 میں سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان نے اپنی زندہ کھالیں کھنچوائی - اس ظلم کے قصے بزرگوں کی زبانی پورے پونچھ کے عوام تک پہنچے اور دونوں شہدا کی یادگار اور قتل گاہ آج بھی موجود ہے - سردار سبز علی خان اور ملی خان کو ان کے گائوں منگ میں نمائش کے طور پر درختوں کے ساتھ لٹکایا گیااور اُن کے جسموں سے کھالیں کھینچ کر اُن میں بھُوسا بھر کر مجسمے بنائے گئے تاکہ لوگوں کو ایسی عبرت دلائی جائے کہ ان کی آئندہ نسلیں بھی بغاوت کا نہ سوچ سکیں۔گلاب سنگھ نے سازش کے ذریعے سردار شمس خان اور اُس کے بھتیجے راجولی خان کو شہید کرایا اور ان کے سرکاٹ کر لوہے کے پنجرے میں بند کرکے پونچھ کے ایک پہاڑی درے ادھ ڈھک کے مقام پر لٹکادئے، جہاں وہ کئی سالوں تک پڑے رہے۔سردار شمس خان کی شہادت کے بعد گلاب سنگھ نے پورے پونچھ پر آسانی سے تسلط جمالیا اور پھر وہ واپس جموں چلاگیا۔گلاب سنگھ جو 6 لاکھ فوج لے کر ریاست پونچھ پر حملہ آور ہوا تھا مہاراجہ کی فوج نے بچوں عورتوں کو قتل کیا جوانوں کو جنگی قیدی بنا کر لے گئے

14اگست 1947ء قیام پاکستان اور سدہنوتی میں پرچم کشائی[ترمیم]

برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں 14 اگست1947ء کو کامیابی سے ہم کنار ہوئی اور دنیا کے تقشے پرایک نئی اسلامی مملکت پاکستان کے نام سے ابھری۔ کشمیر کوباقی ریاستوں کی طرح کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کا حق تھا۔ کشمیر کی مسلم اکثریت پرامید تھی کہ ان کی ریاست پاکستان کے ساتھ شامل ہوگی اور سدہنوتی کے لوگ تو زیادہ امید تھے۔ کیونکہ یہ علاقہ پاکستانی علاقے سے بالکل متصل تھا۔ اسی وجہ سے سدہنوتی میں نئی مملکت کا اعلان ہوتے ہی لوگوں نے خوشی منائی اس موقع پر ہائیاسکول پلندری کے چند طلبا نے ایک جلوس نکالا، پاکستان کے حق میں نعرے لگاے اوراسکول کے سامنے والی عمارت میں مسلم لیگ کا جھنڈا لہرا کر برصضیر کے مسلمانو ں سے اظہار یک جہتی کیا۔ ان طلبا میں سردار شاہ پال خان، سرور خان اور دیگر طلبا شامل تھے قیام پاکستان کے بعد یہ اولین پاکستانی پرچم تھا جوکشمیر کے مسلمانو ن کی امیدتھی

سدہنوتی اور سیاحت[ترمیم]

سدہنوتی راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ سے مشرق میں دریائے جہلم کے کنارے واقع تین ہزار سے سات ہزار فٹ پہاڑوں پر مشتمل خوب صورت علاقہ سے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان میں چھوٹی چھوٹی وادیاں اس حسن کو دوبالا کرتی ہیں سیاحتی اعتبار سے کئی خوب صورت مقامات ہیں یہ علاقہ مری کے بالمقابل جنوب مشرق میں واقع ہے اس علاقے کے چند اہم مقامات جوسیاحون کے لیے ہر کشش ہیں اور جہاں کچھ سہولتیں موجود ہیں ان کا تز کرہ کیا جاتا ہے۔

پلندری[ترمیم]

ریسٹ ہاوس پلندری

سدہنوتی کا مر کز مقام، راولپنڈی سے 93کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے سطح سمندر سے ساڈھے چار ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک نہایت پر فضا مقامات ہے۔ موسمی اعتبار سے یہ آزارکشمیر کا سب سے بہترین مقام ہے کیونکہ یہاں نہ تو بہت بلند مقامات کی طرک شدید سردی ہوتی ہے اور نہ ہی زیریں علاقوں کی طرح گرمیوں میں شدید گرمی، یہاں کا موسم سال کا بشیر حصہ معتدل رہتا ہے پلندری کی وادی تقریباً چار مربع کلومیٹر ہے۔ یہاںکے لیے بنیادی سہولیات ریسٹ ہاوس، ہوٹل، ہسپتال وغیرہ موجود ہیں اور دیگر ضروریات بھی دستیاب ہیں شہر کے مشرق میں تاریخی مقام جو رانی بلاس پوری کی باولی کے نام سے مشہور ہیں، فن تعمیر کا شاہکار ہیں محکمہ سیاحت کی عدم توجمی کے باوجود قدیم زمانے کی یہ تاریخی عمارت آج بھی قابل دید ہے پلندری راولپنڈی اسلام آباد سے آزادکشمیر کا قریب ترین مقام ہونے کی وجہ سے سیاحوں ک لیے ایک موزوں مقام ہے۔

قلعہ بارل[ترمیم]

بارل قلعہ

پلندری آزاد کشمير سے بارہ ميل جنوب کی طرف دو بڑے نالوں کی درميان اونچی گھاٹی پر ايک عمر رسيدہ اور خستہ حال عمارت جو قلعہ بارل کے نام سے مشہور ہے، زمانے کی مسلسل بے اعتنائيوں کے باوجود اپنی مثال آپ ہے۔ يہ عمارت تقريبا” پونے دو سو سال قبل تعمیر ہوئ- تیرھویں صدی میں کشمير پر مسلم سلاطين کی حکومت کا آغاز ہوا اور سو برس تک مغل حاکم رہے۔ ستر برس تک پٹھان اور 1819ء سے1845 تک سکھوں کا عمل دخل رہا جبکہ 1846 سے 1947 تک ڈوگرہ خاندان نے اس سر زمين پر اپنے ظلم و تشدد کا بازار گرم رکھا۔ ان حکومتوں کے دوران يہاں کے کئی علاقے آزاد رہے جن میں علاقہ پونچھ (سابق) سر فہرست ہے- آزاد قباءل کی زندگی پرسکون، خوشحال اور فارغ البال تھی- یہ لوگ اپنی طرز زندگی کا ايک عميق اور منفرد فلسفہ رکھتے تھے۔ بيرونی تسلط کو کبھی قبول نہ کرتے تھے۔ جب سری سکھ حکمران نے یہ چاہا کہ پوری رياست پر ان کا قبضہ رہے تو انہوں نے يہاں کے آزاد حکمرانوں کی آزادی سلب کرنے کی غرض سے حملہ کر ديا مگر آزاد قبائل نے متحد ہو کر کفر کو پاک سر زمين سے بھاگنے پر مجبور کر ديا ۔ يہ قلعہ جو بارل کے وسط ميں واقع ہے۔ ايک سو برس تک ڈوگراہ بربريت کا مرکذ رہا ہے۔ اس کے مشرق ميں کوہالہ، مغرب ميں اٹکورہ، شمال ميں پلندری اور جنوب ميں سہنسہ و اقع ہيں۔ اس کا سنگ بنياد 1837 ميں مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور ميں رکھا گيا۔ اسکی تعمير ايک آنہ يوميہ کی مزدوری پر عمل ميں آ‎‎ئی۔ اسکے پتھر سہر نالہ (جو ڈيڑھ ميل کی دوری پرہے) سے لاۓ گۓ۔ عوام علاقہ عمارت کی جاۓ وقوعہ سے مذکورہ نالے تک ايک لمبی قطار بناتے اور پتھروں کو حرکت ديتے رہتے۔ يہ سلسلہ صبح تا شام جاری رہتا حتی کہ عمارت ميں صرف ہونے والےتمام پتھر اسی طریقہ سے لاۓ گۓ ۔علاوازيں سرخی اور چونا پنيالی(جو پانچ میل کی دوری پر ہے) سے لايا گيا۔ ڈوگرہ سا مراج نے مقامی آبادی کو ہراساں کرنے اور ہميشہ کے لۓ اپنا مطيع و فرمانبردار بنانے کی غرض اس قدر مظالم ڈھا‎‎ئے کے قلعہ کی تعمير کی ابتدا ميں ايک مقامی مسلمان کو قلعے کے بڑے دروازے کے سامنے والے ستون کے نيچے زندہ دفن کر ديا گيا تاکہ لوگ آزادی کی سی انمول نعمت کو ذہن میں نہ لا سکیں قلعہ کی تعمير ميں جو پتھر استعمال ہوۓ ہیں وہ مختلف سا‎‎‎ئيز کے ہيں جن ميں سب سے چھوٹا پتھر “4”7 اور سب سے بڑا “12”7 کا ہے البتہ ايک پتھر کی لمبا‎‎‎‎ئ 96 انچ ہے يہ پتھر بڑے دروازس سے داخل ہوتے ہو‎‎ئے با‎‎‌‌ئيں طرف کے دروازے ميں نصب ہے قلعے کی اندرونی ديواريں 22‎ انچ چوڑی ہيں جبکہ باہر کی ديوار 38 انچ چوڑی ہے جس ميں چاروں بندوںکوں اور ہلکی توپوں سے فا‎‎ئير کرنے کی جگہيں موجود ہيں۔ قلعے کی تکميل اس کی تاريخ آغاز سے لے کر مسلسل کام کے باوجود 1839 ميں ہو‎ئی ۔ ڈوگرا سا مراج کے قدم اکھڑتے ہی وہی قتل گاہ خاص و عام بچوں کی ايک تربيت گاہ ميں بدل گئی۔ 1947 سے 1957 تک اس قلعے سے مڈل سکول کا کام ليا گيا۔ کيونکہ سکول کيلۓ کوئی دوسری عمارت موجود نہ تھی۔ يہ عمارت جو آج کل اپنی بے بسی اور کسمپرسی پر سرگر يہ کناں ہے دو ہال اور اٹھارہ کمروں پر مشتمل ہے۔ اس کے وسط ميں ايک کنواں جو سنتے ہيں کہ بہت گہرا ہوا کرتا تھا، اب مٹی اور پتھروں سے بھر چکا ہے۔ عصر حاضر ميں اس قلعے کے اندر جس کی عمارت تين کنال کے رقبے ميں پھيلی ہوئی ہے۔ شہتوت، ہاڑی، جنگلی اناروں کے علاوہ بے شمار قسم کی خود رو جڑی بوٹياں اگی ہو‏ئی ہيں۔ کچھ ديواريں حالت رکوع ميں ہيں اور کچھ گريباں چاک ہيں۔ چھت گويا تھی ہی نہيں۔ اے کاش کوئی اس بے چارگی و کسمپرسی پر چارہ گری کا بيڑا اٹھاتا۔ قلعہ بارل آج بھی منتظر ہے کسی ايسی آنکھ کا جس کے دريچے ماضی کی عظمت رفتہ کی ديوار پر کھلتے ہيں۔

تراکھل[ترمیم]

پلندری سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک نہایت خوب صورت اور تاریخی مقام سے سطح سمندر سے 7500فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں ریسٹ ہاوس، ہوٹل، اور دیگر ضرویات دستیاب ہیں تراڑکھل قصبے کے گردونواح میں دیوی کلی، جنڈالی، بجوسہ، نیریاں جیسے خوبصورت مقامات ہیں۔

دیوی گلی[ترمیم]

ضلع سدہنوتی اور پونچھ کی سر حد پرتراڈکھل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اس علاقے کا سب سے خوب صورت مقام دیوی گلی ہے۔ تراڈکھل سے ہجیرہ روڈ پر ایک پختہ سٹرک دیوی گلی کو جاتی ہے یہ مقام اپنی خوب صورت میں بے مثال ہے۔

منگ[ترمیم]

1832ء کی جدوجہد کا مرکز اور تاریخی قصبہ ہے وہ تاریخی درخت موجود ہے جس سے لٹکا کر مجاہدوں کی کھالیں اتاری گیں۔

جسہ پیر[ترمیم]

راولپنڈی راولاکوٹ روڈ پر آزاد پتن سے24 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک تاریخی مقام ہے۔ یہاں قریب ہی جسہ پیر کی ایک تاریخی پہاڈی ہے جو ایک خوب صورت تفر یحی مقام ہے۔

ناگیشر[ترمیم]

پلندری سے مشرق کی جانب تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر 7000فٹ کی بلندی پر ایک خوب صورت مقام ہے۔ پلندری تراڈکھل روڈ سے ایک کچی سٹرک یہاں تک جاتی ہے۔ یہ سدہنوتی کا بلند ترین مقام ہے اگر یہاں مناسب سہولتیں مہیا کی جائیں تو یہ ایک خوب صورت تفریحی مقام بن سکتا ہے۔

جونجال ہل[ترمیم]

پلندری سے تقریباً18 کلومیٹر کے فاصلے پر تراڈکھل روڈ پر ایک خوب صورت مقام ہے 1947ء میں یہاں کچھ عرصہ کے لیے آزاد حکومت کے دفاتر بھی کام کرتے رہے۔ یخ بستہ چشموں اور بیاڈ کے درختوں کے درمیان یہ ایک خوب صورت مقام ہے۔ اس کا زکر قدرت اللہ شہاب نے شہاب نا مے میں بھی کیاہے۔

بلوچ[ترمیم]

تراڑکھل سے سنہسہ روڈ پر ایک خوبصورت قصبہ ہے۔

پوٹھی میر خان[ترمیم]

تراڑکھل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر نیریاں شریف کا مشہور مقام ہے۔ یہاں مشہور بزرگ محی الدین غزنوی کا مزار ہے اور یہیں ان سے منسوب یونیوسٹی قائم ہے مزار یونیوسٹی کی عمارت بھی قابل دیدہیں۔

مرشدآباد[ترمیم]

تراڑکھل نیریاں ردڈ پر یہ بھی ایک خوبصورت مقام ہے، یہ سارا علاقہ انتہائی خوبصورت ہے ضرورت ہے کہ یہاں سیاحوں کے لیے سہولیات مہیا کی جائیںاور سیاحت کو ترقی دی جائے

چاربیاڑ[ترمیم]

تراڈکھل بلوچ روڈ پر بیٹھک کے قصبے سے مشرق کی جانب ایک خوبصورت پہاڈی سلہلہ ہے اس میں چار بیاڈ کا خوبصورت مقام ہے۔ یہاں سے مقبوضہ پونچھ کے بیشتر علاقوں کا نظارہ نہایت خوبصورت ہے۔ ان چند مقامات کے علاوہ بھی سدہنوتی کے کردونواح میں خوبصورت علاقے ہیں جو سیاحتی اعتبار سے پر کشش ہیں ان میں افضل آباد ٹاور، اسلام پورہ، بارل، ٹنگی گلہ، قلعاں، بیٹھک، بلوچ کے علاقے پر کشش مقامات ہیں ضرورت اس امرکی ہے ان مقامات پر سہولتیں مہیا کی جائیں اور سیاحت کے حوالے سے مناسب معلومات مہیا کی جائیں تاکہ مقامی اور غیرمقامی سطح پر سیاحت کو فروغ حاصل ہو سکے۔

تعلیم و درجہ[ترمیم]

کیڈٹ کالج پلندری اور محی الدین یونیورسٹی نیریاں اہم تعلیمی ادارے ہیں۔
تعلیم میں سدھنوتی پاکستان کے کل اضلا ع میں 49 نمبر پر ہے ۔ یہاں خواندگی کی شرح کم و بیش 79 فیصد ہے ۔
سد ھنوتی علاقہ ایک پسماندہ علاقہ ہے آج سے سو سال پہلے یہاں تعلیم اور تعلم کا کوئی تصور نہیں تھا یہاں کوئی سکول یا تعلیمی ادارہ موجود نہیں تھا پہلی جنگ عظیم کے دوران میں جب یہاں کے لوگ انگریز فوج میں بھرتی ہوئے تو یہاں کچھ شعوربیدار ہونے لگا اسی دور میں یہاں پرائمریاسکول کا آغاز ہوا جسے جلدہی مڈل کا درجہ مل گیا۔1932ء میں اس ہائی کا درجہ ملا یہ پونچھ شہر کے بعد ریاست پونچھ کا پہلہ ہائی سکول تھا

کیڈٹ کالج ،پلندری[ترمیم]

کیڈٹ کالج ،پلندری
محی الدین اسلامی یونیورسٹی، نیریاں
خان محمد خان گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج، پلندری

پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر سدہنوتی کے عمائدین کا ایک وفد خانصاب کرنل خان محمد خان کی سرکردگی میں ہندوستان میں انگریز افواج کے کمانڈرانچیف، فیلڈ مارشل آکنیلک سے ملا اور ریاست پونچھ کے فوجیوں کی خدمات اوراس حوالے سے حکومت ہند کی طرف سے کیے گئے اعلانات کے حوالے سے بعض مطالبات میں ایک مطا لبہ یہ بھی تھا کہ سدہنوتی کے مرکزی مقام پلندری میں ملٹری کالج جہلم کی طرز پرایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے۔ لیکن یہ مطالبے آئینی جدوجہد کا شگار ہوگیے
کرنل ایم نقی خان کی گزارش پر 1974میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقارعلی بھٹوپلندری کے دورہ پر تشریف لائے تو ایک بار بھر یہ مطالبہ ان کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے ایک جلسہ عام میں پلندری کے مقام پر کیڈٹ کالج قائم کرنے کااعلان کیا۔ کیڈٹ کالج پلندری کے لیے ابھی ابتدائی امور ہی طے پائے تھے کہ ان کی حکومت ختم ہو گئی اور اس طرح یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑگیا۔ اس منصوبہ کو تعطل میں رکھنے کی کوشش کی لیکن اس وقت کرنل ایم نقی خان یہاں سے اسمبلی ممبر تھے انہوں نے دفتری امور کے حوالے سے سرگرمی سے کام کیا اور ادارے کے قیام کے سلسلے میں نہایت محنت سے کام کیا دفتری رکاوٹوں کو دور کرنے میں بھرپور کوششیں کیں اور بالآخر 1990ء میں اس کالج کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیراعظم آزادکشمیر سردار سکندر حیات خان نے رکھا۔
1992ء میں اس ادارے کی تعمیر کا آغاز ہوا اس دوران میں بھی کئی رکاوٹیں حائل رہیں اور کہیں 1998ء میں جاکر اہل سد ھنوتی کے نصف صدی کے مطالبے کی علمی شکل سامنے آئی اور یہاں تدریس کا باقاعدہ آغاز ہوا اس ادارے نے مختصر عرصے میں اپنا مقام پیدا کرلیا ہے۔ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کے لیے اس ادارہ میں نشستیں مختص ہیں اس ادارے نے اس علاقے کے طلبا کو بھی معیاری تعلیم کا موقع مہیا کیا ہے یہ آزادکشمیر کا پہلا کیڈٹ کالج ہے۔

محی الدین اسلامی یونیورسٹی، نیریاں[ترمیم]

سد ھنوتی میں تراڑکھل کے نزدیک ایک مشہور بزرگ محی الدی غزنوی کا مزار ہے جو تبلیغ اسلام کی غرض سے غزئی سے یہان تشریف لائے تھے۔ ان کے خلیفہ پر علا الدین صدیقی نے یہان ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ یونیورسٹی جس کا مین کیمپس نیریاں میں ہے اور اس کی شاخیں دیگر جگہوں پر بھی ہیں جدید علوم کی تدریس میں سر گرم عمل ہے۔ اگرچہ اسے قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن یہ ترقی کی طرف گامزن ہے اور مستقبل میں یہاں کے طلبا کی تعلیمی ضروریات کو پورا کر نے میں مددگار ہوگی۔

خان محمد خان گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج، پلندری[ترمیم]

آزادی کے وقت موجودہ آزادکشمیر میں ایک ہی کالج تھا جو میرپور میں قائم تھا آزادی کے بعد جلد ہی مظفرآباد اور راولاکوٹ میں کالج قائم کیے گیے ان تین کالجوں کے بعد 1962ء میں کوٹلی اور باغ اور پھر پلندری میں کالج قائم ہو 1974ء میں اسے ڈگری کا درجہ دیا گیااور پھر 2010ء میں پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دیا گیا اس نے علاقے میں تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیاآج اس ادارے سے فارغ ہونے والے طلبہ زندگی کے مختلف میدانون، افواج پاکستان، سیاست، معیشت، تعلیم، صحت، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، پلندری[ترمیم]

1980ء میں گرلز ہائی اسکول کو ترقی دے کر انٹر کالج قائم کیاگیااور اب ڈگری کالج قائم ہے ۔ یہ تعلیمی اداردہ سدہنوتی میں خواتین کی تعلیمی ضروریات کو پورا کر رہاہے۔

حوالہ جات[ترمیم]