ضلع لسبیلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضلع لسبیلہ
ضلع
نقشہ بلوچستان میں لسبیلہ
نقشہ بلوچستان میں لسبیلہ
ملک پاکستان
صوبہ بلوچستان
ضلعی حیثیت جون 1954[1]
ہیڈکواٹر اوتھل
حکومت
 • ڈپٹی کمشنر مجیب الرحمن
 • کمشنر محمد ہاشم گلزئی
رقبہ
 • کل 12,574 کلو میٹر2 (4,855 مربع میل)
آبادی (2005 تخمینہ)
 • کل 312,917
 • کثافت 29.02/کلو میٹر2 (75.2/مربع میل)
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
تحصیلیں 9
ویب سائٹ سرکاری ویب سائٹ

ضلع لسبیلہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ایک ضلع ہے۔ اس کے مشہور علاقوں میں حب، سومیانی اور گڈانی شامل ہیں۔ 2005ء میں اس کی آبادی تقریباً 700000 کے لگ بھگ تھی۔ یہ گوادر اور کراچی کے درمیان واقع ہے۔ اس ضلعے کے مشرق میں کراچی جبکہ مغرب میں گوادر اہے۔ ضلعے کا جنوب حصہ سمندری ساحل سے لگا ہوا ہے اور شمال میں ضلع خضدار واقع ہے۔

لسبیلہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کا سب سے بڑا ضلع ہے، اس ضلع میں تحصیل حب،تحصیل لاکھڑا، تحصیل بیلا، تحصیل دریجی، تحصیل اوتھل شامل ہیں،حب کوئٹہ کے بعد بلوچستان کا سب سے بڑا شہر ہے، 1948ء کو والی ریاست جام غلام قادر نے لسبیلہ کا پاکستان سے الحاق کیا تھا، ان کے بیٹے جام میر محمد یوسف وفاقی وزیر نجکاری بھی رہے ہیں۔


لسبیلہ بلوچستان کا ساحلی ضلع ہے۔19 جون1965 کو یہ قلات ڈویژن سے علیحدہ ضلع بنا۔ اس کا نام ماخز لفظ لس جو سنسکرت میں بندوبست یا رہنا اور زندہ اور بیلا جس کا سنسکرت میں مطلب سمندر کا کناہ اور یہ ضلع کے پرنسپل شہر کا نام بھی ہے۔ بیلہ کا ضلع کا صدر مقام ہے۔ یہ ضلع 9تحصیلوں اور 21 یونین کونسلوں پر تقسیم ہے اور 12574 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

انتظامیہ[ترمیم]

ضلع لسبیلہ انتظامی طور پر چار تحصیلوں پر مزید تقسیم ہے جو کہ بیلیہ ، دریجی ، حب اور اوتھل ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

اس کا مرکزی دریا پورالی اور اسکی شاخیں وندر اور وریاب دریا دوسرے دریا پوہر اور ہنگول جو لسبیلہ میں داخل ہونے سے پہلے آواران میں شروع ہوتا ہے۔ اور لسبیلہ سے ہوتا ہوا اپنے رستے بحیرہ عرب میں چلا جاتا ہے۔ یہاں کی بڑی تعداد سندھی یا براہوی بولتی ہے۔ کچھ آبادی ایک زبان جسے لاس کہتے ہیں بولتی ہے جس کا ماخذ سندھی اور جڑگلی زبان ہے۔

تاریخ[ترمیم]

سکندرِاعظم لسبیلہ سے گزرے جب وہ شال مغربی انڈیا کو فتح کرنے کے بعد بیسبلون سے واپس جا رہے تھے۔ 711 عیسوی میں عرب جنرل محمد بن قاسم سندھ جاتے ہوئے لسبیلہ سے گزرے۔ضلع کا علاقہ پہلے برطانیہ انڈیا ( لس۔ بیلہ صدر مقام) کا حصہ تھا جو بعد میں پاکستان میں شامل ہوا۔

دلچسپ مقامات[ترمیم]

مزارات[ترمیم]

  • شاہ بلاول کا مزار
  • لاہوت لامکان
  • کمب کا مزار
  • شریں اور فرہاد
  • سسی اور پنوں
  • پیر فدا حسین
  • پیر موسیانی
  • پیر محیع الدین
  • مائی گوندرانی
  • ہنگلاج
  • پیر کونانا
  • پیر شاہ بخاری
  • پیر امیزان
  • پیر بخر
  • درگاہ بابا جمن شاہ ( اوتھل)

تاریخی عمارات اور آثارِ قدیمہ کی جگہیں بیلہ میں[ترمیم]

  • شاہ جمائی مسجد
  • جنرل محمد ابنِ ہارون کا مقبرہ
  • کرنل روبرٹ سنڈیمن کا مقبرہ
  • کھڑا پیر
  • سسی وارو۔ چاہرو (سسی سپرنگ) پاپونی ناکہ کے نزدیک کراچی سے 68 کلومیٹر باقر بوتھی چھوٹی ہڑاپہ سائیڈ لسبیلہ میدان کے شمال میں پہاری علاقہ میں
  • شہرِ رویان

تحصیلیں اور ذیلی تحصیلیں[ترمیم]

انتظامی طور پر اس کی تحصیلیں اور ذیلی تحصیلیں درج ذیل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]