مندرجات کا رخ کریں

ضلع مغربی چمپارن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

بھارتی ریاست بہار کے 38 اضلاع میں سے ایک ضلع-اس ضلع کا قیام 8 نومبر 1972ء میں عمل میں آیا۔ پہلے یہ ضلع متحدہ چمپارن کا حصہ تھا لیکن مغربی چمپارن کے قیام سے دو چمپارن وجود میں آئے جن میں سے ایک ضلع کا نام مشرقی چمپارن اور دوسرے ضلع کا نام مغربی چمپارن ہے۔آج مغربی چمپارن میں 18 بلاک ہیں اور تین سب ڈویژن ہیں۔ مغربی چمپارن کی آبادی تقریباً 39؍لاکھ ہے اور اس میں لگ بھگ 1483 گاؤں ہیں۔ضلع کا رقبہ تقریبا 5228 اسکوائر کلومیٹر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بہار کا سب سے بڑا ضلع ہے۔مغربی چمپارن میں 315 پنچایتیں ہیں اور اس ضلع میں ریلوے لائن کی لمبائی 220 کیلو میٹر ہے۔

مغربی چمپارن کا ہیڈکوارٹر بیتیا میں ہے۔ بیتیا کے تعلق سے کہاجاتا ہے کہ اس کا نام ’’بینت‘‘ یعنی بانس سے پڑا ہے جو اس علاقہ میں بکثرت پایا جاتا ہے۔بیتیا پٹنہ سے 210 کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے

چوہدی:

شمال میں نیپال کے پہاڑی علاقے واقع ہیں۔

جنوب میں گوپال گنج اور مشرقی چمپارن کے کچھ علاقے ہیں۔

مشرق میں مشرقی چمپارن ہے۔

مغرب میں پڈرونا اور اتر پردیش کا دیوریاضلع ہے۔

اس ضلع کی سرحدیں چونکہ نیپال سے ملتی ہیں اس وجہ سے اس ضلع کو عالمی اہمیت حاصل ہے۔چار مقامات پر اس ضلع کی سرحد ملک نیپال سے کھلی ہوئی ہے:بگہا، گوناہا، میناٹانڈ اور سکٹا۔

تعلیم:

یہ ضلع بہار کے غریب ترین اضلاع میں سے ایک ہے اور یہاں تعلیمی فی صد بھی بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غربت کی وجہ سے لوگ اسکولوں اور مدرسوں کا رخ بہت کم کرتے ہیں بلکہ جیسے ہی تھوڑا ہوش سنبھالتے ہیں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کمانے کے مقصد سے جاتے ہیں ۔ تعلیمی فی صد 39.63%ہے۔ضلع میں کل 1340 پرائمری اسکول ہیں اور 284 میڈل اسکول ہیں۔ 68 ہائی اسکول ہیں جس میں مائناریٹی اسکولس بھی شامل ہیں۔ اس ضلع میں کانسٹی ٹیونٹ کالجز تین ہیں اور انڈسٹیریئل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ایک عدد ہے۔ عصری تعلیمی لحاظ سے یہ علاقہ کمزور سمجھا جاتا ہے لیکن اسلامی تعلیمی لحاظ سے یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب ہے

چنانچہ سرزمین چمپارن کی تاریخ پر مختصر تقریر "مجاہد الاسلام متعلم دار العلوم دیوبند" کے حوالے سے یہاں نقل کیا جاتا ہے

بحوالہ ماہنامہ الریاض دار العلوم دیوبند

آج میں اس خطہ زمیں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جس کی مٹی فقط مٹی نہیں ؛ بل کہ تحریکوں کی زرخیزی ، ادب کی لطافت ، ثقافت تہذیب اور علم کی روشنی سے سیراب ایک تاریخی شعور ہے۔

جی ہاں ! میں بات کر رہا ہوں سر زمین چمپارن کی ، جو محتاج تعارف نہیں بل کہ خود ایک تعارف ہے۔

جب علمائے دیوبند راستے کی قرب و بعد سے بے فکر ، طمانیت قلب و جگر سے مستعی، پریشانی افکار و خیالات سے بے نیاز اور خطرات و وساوس کی گرفت سے بے پروا ہوکر ، آزادی ہند کے لیے کبھی عرب وتر کی، تو کبھی روس و افغان کی بادیہ پیمائی کر رہے تھے ، تو اس وقت عالم اسلام کا ایک عظیم سپوت ، شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند مولانا ابوالمحاسن سجاد نے قیام امارت شرعیہ اور آزادی ہند کی جدوجہد کے لیے جس سرز میں کو اپنا مرکز ومحو بنایا، وہ سرز میں سر زمین چمپارن تھی۔ 1857ء کی شکست کے بعد جب علمائے کرام نے ہندوستانی ہندو مسلم کو ایک مقصد اور ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے گاندھی کے ساتھ ملایا، اس وقت بھی گاندھی نے اپنی تحریک کی ابتدا کے لیے جس علاقہ کو منتخب کیا وہ سرز میں بھی سر زمین چمپارن تھی 1917ء کی ملک گیر تحریک چمپارن ستیا گر یعنی ترک موالات در حقیقت انگریزی کے لیے پیغام موت تھی ، تو وہی ہندوستانی ہندو مسلم عوام کے اندر بیداری کی پہلی لہر، ایک نئے دور کا آغاز اور یہ پیغام تھی : اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

یہی پر بس نہیں ؛ بل کہ سر زمین چمپارن اپنی آغوش میں ایسی تاریخی چیزوں کو لیے ہوئے ہے جو بہار بہار کے لیے باعثِ فخر ہے ۔ چنانچہ اس کے سینے میں مدرسہ اسلامیہ سمرا اور تجوید القرآن کی خیروا کی قرآنی فضا ہے تو وہی دار العلوم الاسلامیہ مفتی نگر مجہولیا اور مدرسہ منبع العلوم مادھو پور کی دینی علمی اور مدنی تحریک کی عظمت ورفعت پوشیدہ ہے، قرآن کی حفاظت حفاظ کی صداقت اس سرزمین کے وجودو پیار کا صدقہ ہے۔ گویا سرزمینِ چمپارن قرآن کا گہوارہ، حفاظ کا منارہ، عزت وافتخار کا عنوان ہے کیوں کہ : یہی وہ سرزمین ہے جس نے شیخ التفسیر دار العلوم دیوبند مولا ناریاض الحق کو جنم دیا

یہی وہ سرزمین ہے جس نے مولا نا عبد الستار شیخ الحدیث بنگلہ دیش کو جنم دیا 

یہی وہ سرزمین ہے جس نے مولانا محمد مصطفی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء کو جنم دیا یہی وہ سرزمین ہے جس نے مولا نا صیح الدین بانی مدرسه منبع العلوم مادھو پور کو جنم دیا

یہی وہ سرزمین ہے جس نے جانسین قاضی مجاہد الاسلام مولا نا محمد مفتی جنید ندوی قاسمی کو جنم دیا 

ہاں ہاں ! یہ وہی افراد ہیں جن کے بارے میں شاعر کہتا ہے ؟

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

سر زمین چمپارن کی ایک درخشاں تاریخ ہے، اس کے جاہ وجلال اور عظمت و شوکت کے پرچم صدیوں سے بلند ہیں علم و حکمت کی میدانوں میں بڑھتی اور اقوام عالم کے سامنے ترقی کے منازل طے کرتی رہی ہے۔

اس خاک دل نشیں سے چمٹے ہوئے وہ جاری

چین و عرب میں جن سے ہوئی تھی آب یاری