ضلع چترال بالا
| ضلع چترال بالا ضلع چترال بالا | |
|---|---|
| خیبر پختونخوا کے اضلاع of خیبر پختونخوا | |
| ضلع چترال بالا | |
ضلع چترال بالا کا محل وقوع | |
| ملک | |
| پاکستان کی انتظامی تقسیم | |
| پاکستان کے ڈویژن | مالاکنڈ ڈویژن |
| قیام | 2018 |
| صدر مراکز | بونی |
| حکومت | |
| • قسم | District Administration |
| • Deputy Commissioner | N/A |
| • District Police Officer | N/A |
| • District Health Officer | N/A |
| رقبہ | |
| • کل | 8,392 کلومیٹر2 (3,240 میل مربع) |
| آبادی (خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء)[1] | |
| • کل | 169,240 |
| • کثافت | 20/کلومیٹر2 (52/میل مربع) |
| منطقۂ وقت | پاکستان میں وقت (UTC+5) |
| Numbers of خیبر پختونخوا کی تحصیلیں | 2 |
| ویب سائٹ | www.khyberpakhtunkhwa.gov.pk |
ضلع چترال بالا پاکستان کا ایک آباد مقام جو مالاکنڈ ڈویژن میں واقع ہے۔
تفصیلات
[ترمیم]ضلع چترال بالا کا رقبہ 8,392 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی مجموعی آبادی 169,240 افراد پر مشتمل ہے۔ یہ ضلع اپنی جغرافیائی اہمیت، ثقافتی تنوع، لسانی ورثے اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے پسِ منظر میں نہیں بلکہ ایک نمایاں علاقائی شناخت رکھتا ہے۔ چترال بالا کو 2018ء میں انتظامی طور پر پرانے ضلع چترال کو دو حصوں میں تقسیم کرکے تشکیل دیا گیا، جن میں چترال بالا اور چترال خاص (لوئر چترال) شامل ہیں۔
جغرافیہ
[ترمیم]چترال بالا سطحِ سمندر سے بلندی پر واقع ایک پہاڑی اور سرد علاقہ ہے جو ہندوکش کی بلند چوٹیوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہاں کی آب و ہوا زیادہ تر سرد اور خشک ہے، جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت اکثر نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے۔ وادیوں، گلیشیئرز اور تنگ درّوں پر مشتمل اس علاقے کی جغرافیائی ساخت قدرتی خوبصورتی سے بھرپور ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقوں کی دلکشی کا حصہ ہے۔
زبان اور ثقافت
[ترمیم]چترال بالا کا ثقافتی منظر نامہ نہایت منفرد اور متنوع ہے۔ یہاں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کھوار ہے، جو اس خطے کی قدیم تہذیب کی نمائندہ زبان سمجھی جاتی ہے۔ مقامی موسیقی، لباس، رقص اور تہوار اس علاقے کی الگ تاریخ اور روایات کا اظہار کرتے ہیں۔ خصوصاً چترال کا روایتی نغمہ اور ستار یہاں کی شناخت کا حصہ ہے۔
یہ علاقہ مذہبی اور لسانی ہم آہنگی کا بھی مرکز رہا ہے۔ یہاں مختلف برادریاں صدیوں سے باہمی احترام اور رواداری کے ساتھ رہتی آئی ہیں، جو اسے امن اور برداشت کی سرزمین کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
معیشت
[ترمیم]ضلع کی معیشت زیادہ تر زراعت، مویشی بانی اور موسمی سیاحت پر منحصر ہے۔ یہاں کے لوگ گندم، جو، آلو اور خشک میوہ جات پیدا کرتے ہیں۔ سیاحت بھی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، کیونکہ چترال بالا اپنی قدرتی خوبصورتی، تاریخی ورثہ اور پُرامن ماحول کے باعث ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہے۔
اہم مقامات
[ترمیم]کوہِ ہندوکش، گرم چشمے، تاریخی قلعے، قدیم درے اور پہاڑی دریا اس ضلع کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مقامات سٹریٹیجک اور دفاعی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔[2]
حوالہ جات
[ترمیم]
|
|