ضلع کڈپہ میں قدیم شعراء کا تذکرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کڈپہ میں قدیم شعرا کا تذکرہ سنہ 1710ء تا 1957ء ’’کڑپہ میں اردو‘‘ کے حوالے سے اگر تین سو سالہ ادبی تاریخ کا تحقیقی جائزہ لیتے ہوئے ضلع کڑپہ کے اردو شعرا کا تذکرہ کیا جائے تو کئی ادبا و شعرا کی خدمات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ضلع کڑپہ میں پچھلی چار صدیوں سے اردو زبان و ادب فروغ پاتے رہے ہیں۔

حضرت محمد ابن رضاؔ[ترمیم]

محمد ابن رضا ایک معتبر و معروف درباری شاعر تھے جو حاکم کڑپہ عبد النبی خان میانہ ابن عبد الرحیم خان میانہ کے دربارسے وابستہ رہے۔ نام سید محمد اور تخلص ابن رضا فرماتے تھے۔ قصیدۂ بردہ کو دکنی اردو میں ترجمہ کرنے کا شرف محمد ابن رضا کو حاصل ہوا۔ علاوہ ازیں شاہزادہ عبد الحمید خان میانہ کے لیے فارسی میں ’’شعیب الایمان‘‘ کے نام سے ایک رسالہ تصنیف کیا تھا جو نسخۂ لندن کی جلد میں شامل ہے۔

محمد حیدر ابن جعفرؔ[ترمیم]

نواب عبد الحمید خان میانہ کے درباری شاعر محمد حیدر ابن جعفر ایک منفرد مقام رکھتے تھے نام محمد حیدر اور تخلص ابن جعفر فرماتے تھے۔ انھوں نے ابن نشاطی کی معرکہ آرا مثنوی ’’پھول بن میں‘‘ تین سو اکتالیس اشعار کا اضافہ کیا ہے۔

حضرت میاں شہابؔ کڑپوی[ترمیم]

آپ ایک قادرالکلام شاعر تھے آپ نے حضرت سید یوسف بن سید یعقوب کی فارسی کتاب ’’مطلع الولادت‘‘ کا منظوم ترجمہ ’’فیض عام قدس‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ اس کے دو نسخے سالار جنگ میوزیم لائبریری میں ایک نسخہ انجمن ترقی اردو کراچی پاکستان میں ایک نسخہ کتب خانہ آصفیہ اور ایک نسخہ ایسٹ آرکالیوجی حیدرآباد میں موجود ہے۔

ولیؔ ویلوری[ترمیم]

ولی ویلوری کا ذکر کڑپہ کی ادبی تاریخ میں آتا ہے۔ ولی ویلوری کا نام میر ولی فیاض تھا اور عرفیت ولی ویلوری۔ ولی ویلوری سدھوٹ کے قیام کے دوران ایک ضخیم مثنوی ’’رتن پدم‘‘ جو چار ہزار ابیات پر مشتمل ہے تحریر کی۔

شاہ قدر عالمؔ[ترمیم]

شاہ قدر عالم قادری المتخلص قدر عالم متوکن سدھوٹ (ضلع کڑپہ) کی ایک معرکتہ الآرا یادگار مثنوی ’’فقہ محفوظ خانی‘‘ کتب خانہ آصفیہ حیدآباد میں موجود ہے۔

حضرت سید شاہ نور اللہ بادشاہ بخاری قادری نورؔ کڑپوی[ترمیم]

آپ ایک صاحب تصنیف، نثر نگار کے علاوہ فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے حضرت نور کا ایک مطبوعہ رسالہ مسمی ’’آداب المرشدین و آداب المریدین فی جناب المشائخ المجین و اصلین‘‘ گزرا ہے۔

حضرت شاہ کمالؔ دوم[ترمیم]

آپ ایک فطری اور وہبی شاعر تھے بلا مبالغہ ہزاروں اشعار آپ کے نوک قلم سے تخلیق پائے ہیں۔ آپ کے اشعار کا موضوع تصوف و احسان ہے۔ حضرت ٹیپو سلطانؒ شہید نے آپ کو بجاطور پر ’’جامئی دکن‘‘ کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ شاہ کمال نے قصیدہ، مثنوی، غزل، رباعی، مخمس اور مستزاد وغیرہ اصناف سخن میں نہ صرف طبع آزمائی کی بلکہ ان کے دامن کو حقائق و معارف سے مالا مال کر دیا آپ نے اپنی شاعری میں ہندی، فارسی، عربی الفاظ کے استھ سنسکرت کے الفاظ بھی برمحل استعمال کیے ہیں۔

حضرت لامعؔ کڑپوی[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی حضرت سید علی شاہ بخاری قادری، لامع تخلص فرماتے تھے۔ آپ نے اپنی اٹھارہ سال کی قلیل عمر میں اچھی شاعری کی آپ کے اشعار میں عرفان و آگہی روشن ہیں۔

حضرت شاہ جمالؔ (ثانی) کڑپوی[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی سید شاہ جمال الدین بادشاہ بخاری قادری اور تخلص جمال (ثانی) تھا۔ آپ کی زبان سہل و ممتنع ہے۔

حضرت بے رنگؔ کڑپوی[ترمیم]

آپ کا نام حضرت سید شاہ محمد حسینی شاہ میر بادشاہ بخاری قادری (دوم) اور تخلص بے رنگ فرماتے تھے۔ آپ کی شاعری کی خصوصیت ندرت خیال ہے۔

حضرت عبد ؔ کڑپوی[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی سید عبد القادر بخاری عرفیت قادر باشاہ اور تخلص عبد تھا آپ سلجھے ہوئے شعر کہتے تھے۔

حضرت افضلؔ کڑپوی[ترمیم]

حضرت سید شاہ مراد علی عرف علی مراد شاہ بخاری اور تخلص افضل کڑپوی فرماتے تھے۔

حضرت خواجہ مخدومؔ کڑپوی[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی حضرت سید شاہ مخدوم اللہ محمد محمدالحسینی چشتی القادری معروف بہ خواجہ سید شاہ مخدوم اللہ (اول) تھا۔ آپ خانوادہ عارفین کے چشم و چراغ، عالم و فاضل، صوفی صاحب دل عارف بے بدل اور ادیب و شاعر تھے۔

حضرت شہمیرؔ (ثالث) کڑپوی[ترمیم]

نام سید شاہ عبد الحق بخاری قادری، عرف شہمیر بادشاہ اور تخلص شہمیر فرماتے تھے آپ مشہور شاعر وا دیب تھے۔ ذوقِ سلیم کی فطری رہنمائی اور طبیعت کی موزونی نے آپ کو اپنے دور کے قابلِ ذکر شعرا میں ممتاز مقام بخشا تھا۔

حضرت عریاںؔ کڑپوی[ترمیم]

عریاں کا نام غلام غوث خان اور تخلص عریاں تھا آپ صاحب دیوان شاعر تھے تمام شاعری عشق مجازی کی حامل ہے۔

حضرت ضیاؔ کڑپوی[ترمیم]

ضیا کڑپوی کا پورا نام حضرت مولانا مولوی ذو الفقار علی خان سوریا زائی (سوم) اور تخلص ضیا کڑپوی تھا۔

جناب ادیبؔ کڑپوی[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی لعل خان اور تخلص ادیب تھا۔ آپ ایک باکمال شاعر تھے آستانۂ مخدوم الہٰی سے آپ کو ’’ادیب الکلام‘‘ کے لقب سے سرفراز کیا گیا۔ مذکورہ تفصیلات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ شہر کڑپہ میں قدیم دور ہی سے ایک ادبی ماحول رہا ہے جہاں پر کئی شعرا اور مصنفین نے اپنی صلاحیتوں اور ہنر و کمال کا ادبی شکل میں مظاہرہ کیا۔

یہ مضمون ‘‘ شعرائے کڈپہ کی غزلوں میں جدید رجحانات “ سے لیا گیا ہے مقالہ نگار “ امام قاسم ساقی