طابہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

طابہ مدینہ منورہ کے بہت سے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کے معنی خوشبودارنفیس، طاہر ( پاک ) عمدہ اورمیٹھا ہے
مدینہ منورہ طابہ بھی کہتے ہیں حدیث مبارکہ میں ہے کہ بلا شک مجھے رب ذوالجلال نے حکم دیا ہے کہ میں اس شہر کا نام طابہ رکھوں ) اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے نزدیک مدینہ منورہ کا محبوب ترین نام طابہ تھا

  • جابر بن سمرہ ” سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کوفرماتے سنا کہ: اللہ تعالی نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔ طابہ کا مطلب نفیس، طاہر ( پاک ) عمدہ اورمیٹھا ہے طیب خوشبو کو بھی کہتے ہیں اس لیے طابہ کا ایک مطلب خوشبودار بھی ہے حضرت جابر ہی کی ایک روایت میں جو دوسرے راویان گرام کی وساطت۔ بیان کی گئی ہے کہاکیا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مدینہ کا نام طابہ رکھوں
  • ابوحمید الساعدی نے بیان کیا ہے کہ : جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو جونہی مدینہ ہماری نظروں کے سامنے نمودار ہوا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایایہ طابہ ہے، یہ جبل احد ہے جو ہم سے پیار کرتا ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں
  • ابن شبہ النمیری نے بھی ایک حدیث مبار کہ حضرت عبدالرحمن کے حوالے سے بیان کی ہے جس کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جوبھی مدینہ کو یثرب کہے گا اسے توبہ کرنی چاہئے اور تین مرتبہ استغفر اللہ کہنا چا ہے، یہ طابہ ہے، یہ طابہ ہے، یہ طابہ ہے
  • کیوں نہ ہو کہ وہی یثرب جوآمد رسول مقبول ﷺ سے پہلے فساد و تثریب کا گڑھ تھا قدم بوسی دانائے سبل ﷺ کے بعد فروغ دادی سیناء کی رفعتوں کو بھی اپنے پیچھے چھوڑ چکا تھا۔ نعلین مبار کہ اور پاپوش ختم الرسل ﷺ نے اس کی غبار راہ تک کو عرش کا ہم پا یہ کر دیا تھا اس کی گلی گلی رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے عطر بیز ہوئی۔ تھی ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ جب بھی حضور نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نظروں سے اوجھل ہوتے تو انہیں حضور والا شان جی کو تلاش کرنے میں اتنی دقت نہ ہوتی کیونکہ جس طرف آنحضرت ﷺ کا گزرہوتا تھا وہ راستے اور وہ ہوائیں بہت دیر تک معطر رہتیں اور صحابہ کرام اسی طرف کا رخ کرتے اور جا کر حضور پرنور کو پالیتے
  • يَا خَيْرَ مَنْ دُفِنَتْ فِي الْأَرْضِ أَعْظُمُهُ فَطَابَ مِنْ طِيْبِهِ الْأَبْقَاعُ وَالْأَکَمُ
  • نَفْسِي الْفِدَائُ لِقَبْرٍ أَنْتَ سَاکِنُهُ فِيْهِ الْعَفَافُ وَفِيْهِ الْجُوْدُ وَالْکَرَمُ
  • اے وہ بہترین (ہستیو!) جن کی مبارک استخوان اس (با برکت) زمین میں مدفون ہیں، پس ان (کے جسدِ اقدس) کی پاکیزہ خوشبو سے اس زمین کے ٹکڑے اور ٹیلے بھی معطر و پاکیزہ ہیں، (یا رسول اللہ!) میری جان اس روضہ اقدس پر فدا ہو جس میں آپ آرام فرما ہیں اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی) اس قبر انور میں (بھی اسی طرح) پاکدامنی اور جود و کرم کا سرچشمہ اور منبع ہیں (جیسے اپنی ظاہری حیاتِ طیبہ میں تھے)

“۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جستجوئے مدینہ صفحہ 96 عبد الحمید قادری اورینٹل پبلیکیشنز اردو بازار لاہور