طالب آملی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
طالب آملی
طالب آملی

معلومات شخصیت
پیدائش 1585ء
آمل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1627ء
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  ریاضی دان،  خطاط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
متاثر نیما یوشیج

طالب آملی (پیدائش: 1585ء— وفات: 1627ء) فارسی کے مشہور شاعر تھے۔طالب آملی کا شمار گیارہویں صدی ہجری کے بزرگ فارسی شعراء میں ہوتا ہے۔طالب آملی کی شاعری سے بعد کے فارسی شعراء بھی متاثر ہوئے جن میں نیما یوشج اور ملک الشعراء محمد تقی بہار بھی شامل ہیں۔

سوانح[ترمیم]

طالب کی پیدائش 994ھ مطابق 1585ء میں آمل میں ہوئی۔طالب نے 1585ء سے 1602ء تک آمل میں زندگی بسر کی۔ 1602ء میں کاشان چلے گئے۔ 1602ء سے 1609ء تک کاشان، اصفہان، مشہد، مرو میں اقامت اختیار کی۔طالب نے اصفہان میں قیام کو اپنے اِس شعر میں بھی بیان کیا ہے:

بہ طرز تازه قسم یاد می‌کنم صائبکہ جای طالب آمل در اصفہان خالیست

1609ء میں مرو کے راستے قندھار سے ہوتے ہوئے لاہور ٹھہرے۔ 1029ھ مطابق 1619ء میں گجرات میں قیام کیا اور فتح پور سیکری پہنچ کر مغلیہ سلطنت کے دار الحکومت آگرہ پہنچے۔ اُس وقت مغل شہنشاہ جہانگیر تختِ سلطنت پر براجمان تھا۔ مغل دربار سے بہت جلد وابستگی قائم ہو گئی اور 1619ء میں اُسے ملک الشعراء کا خطاب تفویض ہوا۔[1]

خاندان[ترمیم]

طالب کے خاندان میں اُن کی بہن ستی النسا خانم کا پتا چلتا ہے، جن سے طالب کو اُنسیت تھی۔ ایک مثنوی طالبا اپنی اِسی بہن کے لیے لکھی تھی۔ یہ بہن طالب کے ہمراہ ہی 1619ء میں مغل سلطنت میں وارد ہوئیں تھیں۔ طالب کی وفات کے بعد طالب کی اولاد کو ستی النساء خانم نے ہی اپنی نگہداشت میں لے لیا تھا۔[2]

وفات[ترمیم]

طالب نے 42 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کیا۔ وارثوں میں اولاد چھوڑی جس کو اُن کی بہن ستی النساء خانم نے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ لاہور میں طالب آملی کا مقام تدفین اب موجود نہیں۔

شاعری[ترمیم]

طالب کی شاعری میں سوز و درد نمایاں ہے۔اِس لحاظ سے اُنہیں مغل شعراء میں سوز و درد کی کیفیت بیان کرنے والا نمایاں شاعر قرار دیا جاتا ہے۔طالب کی فارسی شاعری کا نمونہ یہ ہے:

پا بر دومین پایٰہ ٔ اوج عشراتم و اینک عدد فنم از آلاف زیاد است
بر ہندسہ و منطق و بر ہیئت و حکمت دستی است مرا کَش ید بیضا ز عباد است
در سلسلہ ٔ وصف خط این پس کہ ز کلکم ہر نقطہ سویدای دل اہل سواد است

فارسی شاعری کا مزید نمونہ یہ بھی ہے:

بہ طرز تازه قسم یاد می‌کنم صائبکہ جای طالب آمل در اصفہان خالیست

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طاہری شہاب: کلیات اشعار ملک الشعراء طالب آملی (دیوان طالب آملی)، مقدمہ، صفحہ 9۔ مطبوعہ کتابخانہ سنائی۔ تہران، 1967ء
  2. ڈاکٹر محمد ریاض: فارسی ادب کی مختصر ترین تاریخ، صفحہ 199۔ مطبوعہ لاہور، 1974ء