طالب ابن ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(طالب بن ابی طالب سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
طالب ابن ابی طالب
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 571  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 624 (52–53 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو طالب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمہ بنت اسد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی

طالب ابن ابی طالب ابوطالب کے بڑے بیٹے تھے۔ حضرت ابوطالب کوانہی کی وجہ سے ابوطالب کہا جاتا ہے۔

  • ان کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ملتیں۔ کچھ روایات کے مطابق ان کی وفات شرک کی حالت میں جنگِ بدر میں ہوئی۔[حوالہ درکار]۔
  • قریش حجفہ سے روانہ ہوئے طالب بن ابوطالب کا بعض قریشیوں کا تکرار ہوا انہوں نے کہا واللہ اے بنو ہاشم ہم خوب جانتے ہیں اگرچہ تم ہمارے ساتھ ہو مگر تمہاری تمنائیں محمد کے ساتھ ہیں یہ سن کر طالب اپنے رفقا کے ساتھ واپس ہو گیا اور کہا
  • لا هُمَّ إِمَّا يغزوَنَّ طَالِبْ
  • فِي عُصْبَةٍ محالفٍ مُحَارِبْ
  • فِي مِقْنَبٍ مِنْ هَذِهِ الْمَقَانِبْ
  • فَلْيَكُنِ الْمَسْلُوبُ غَيْرَ السَّالِبْ
  • وَلِيَكُنِ الْمَغْلُوبُ غَيْرَ الْغَالِبْ

یااللہ اگر طالب کسی حلیف یا حریف میں جنگ کرے ان فوجی دستوں میں سے کسی دستے میں تو وہ زرہ اتارنے والا قاتل نہ ہو بلکہ مقتول ہو وہ غالب نہ ہو بلکہ مغلوب ہو[1]

  • علامہ دیار بکری نے لکھا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ نے زبردستی طالب کو جنگ کے لیے گھسیٹا جبکہ وہ جانا نہیں چاہتے تھے۔۔[2] علامہ مسعودی نے لکھا ہے کہ کفارِ قریش نے طالب کو زبردستی جنگ کے میدان کی طرف لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ دوران میں سفر غائب ہو گئے پھر ان کی کوئی خبر نہ ملی مگر ان کے اس موقع پر اشعار مسعودی نے نقل کیے ہیں جن کا ترجمہ ہے: اے پروردگار یہ لوگ زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ تو ان کو شکست دے اور اس درجہ کمزور کر دے کہ یہ خود لوٹے جائیں اور کسی کو لوٹ نہ سکیں۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ ابن کثیر جلد 2 - صفحہ289 - ناشر : دار الاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان
  2. تاریخ خمیس از علامہ دیار بکری
  3. مروج الذہب از علامہ مسعودی بر حاشیہ کامل ابن اثیر جلد 5 صفحہ 176