طاہر تونسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سابقہ شرف دہندہ (P511) ویکی ڈیٹا پر
طاہر تونسوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1948 (عمر 70–71 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تونسہ،  ضلع ڈیرہ غازی خان،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محقق،  شاعر،  ادبی تنقید نگار،  پروفیسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  سرائیکی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تحقیق،  ادبی تنقید،  غزل،  سوانح،  سرائیکی ادب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ بہاؤ الدین زکریا،  یونیورسٹی آف سرگودھا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

پروفیسر ڈاکٹر طاہر تونسوی اردو اور سرائیکی کے ممتاز محقق، ادیب، شاعر، نقاد اور پروفیسر ہیں۔ ان کا اصل نام حفیظ الرحمٰن طاہر ہے۔ 1948ء میں تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان، پاکستان میں ملک خدا بخش محمود کے گھر پیدا ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان سے میٹرک، گورنمنٹ کالج ملتان سے انٹرمیڈیٹ اور اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے (اردو) کیا۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی زیرِ نگرانی جامعہ پنجاب سے سید مسعود حسن رضوی- احوال و آثار کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1974ء میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور مختلف کالجوں میں تعینات رہے۔ ملتان تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور ملتان ڈویژن کے ڈائریکٹر ایجوکیشن بھی رہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور، بہاء الدین زکریا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ اردو سے بھی وابستہ رہے۔ان کی مطبوعہ تصانیف میں ملتان میں اردو شاعری، اقبال اور مشاہیر، مسعودحسن رضوی ادیب: کتابیات، مسعود حسن رضوی ادیب: حیات اور کارنامے، ڈاکٹر فرمان فتح پوری - احوال و آثار، طنز و مزاح: تاریخ تنقید اتخاب، تجزیے، دنیائے ادب کا عرش، شجر سایہ دار صحرا کا، ہم سفر بگولوں کا، رجحانات، حیاتِ اقبال، تذکرہ کتابوں کا، فیض احمد فیض: تنقیدی مطالعہ، شاعرِ خوشنوا: فیض احمد فیض، اقبال اور سید سلیمان ندوی، تحقیق و تنقید: منظرنامہ، جہان ِ تخلیق کا شہاب، وہ میرا محسن وہ تیرا شاعر، نصاب تعلیم اور اکیسویں صدی، جہت ساز قلم کار: ڈاکٹر سلیم اختر، خواجہ غلام فرید - شخصیت اور فن، عکس فرید، سرائیکی کتابیات آغاز تا 1993ء، اقبال اور عظیم شخصیات، اقبال شناسی اور نخلستان، اقبال اور پاکستانی ادب، اقبال اور مشاہیر، ہم سخن فہم ہیں اور سرائیکی ادب، ریت تے روایت شامل ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل لاہور، 2019ء، ص 197