طفیل احمد جمالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
طفیل احمد جمالی
پیدائش طفیل احمد جمالی
1919ء
بنارس، برطانوی ہندوستان
وفات اگست 12، 1974(1974-08-12)ء
کراچی، پاکستان
آخری آرام گاہ سخی حسن قبرستان، کراچی
پیشہ صحافی، شاعر، ادیب، مزاح نگار
زبان اردو
قومیت Flag of پاکستان پاکستانی
نسل بلوچ
تعلیم بی اے
مادر علمی الہٰ آباد یونیورسٹی
اصناف ادارت، افسانہ
موضوع نظم، غزل، کالم، افسانہ، مزاح

طفیل احمد جمالی (پیدائش: 1919ء - 12 اگست، 1974ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور صحافی، شاعر، مزاح نگار اور ادیب تھے۔ انہوں نے انجام کراچی، نگار کراچی، مجید لاہوری کے جریدے نمکدان اور چین باتصویر (بیجنگ-China Pictorial) کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔

حالات زندگی[ترمیم]

طفیل احمد جمالی 1919ء کو بنارس، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ انہوں نے جامعہ الہٰ آباد سے بی اے کیا۔ ابتدا میں انہوں نے دہلی کے مختلف اخبارات کے لیے جز وقتی کام کیا، بعد ازاں منشور نامی اخبارسے وابستہ ہو گئے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ یہاں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے۔ جب میاں افتخار الدین نے امروز کو کراچی سے چراغ حسن حسرت کی ادارت میں شائع کیا تو طفیل احمد نے امروز میں پہلا درویش کے نام سے فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیا۔ ان کے ملکی حالات و سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی برائیوں پر ان کے فکاہیہ کالم بہت مشہور ہوئے۔ امروز کی کراچی سے بندش کے بعد انہوں نے فلموں کے لیے گیت اور مکالمے تحریر کیے[2]۔ ہمایوں مرزا نے اپنی فلم بڑے آدمی میں ان سے گانے لکھوائے جن کو گانے کے لیے ممبئی سے مبارک بیگم کو بلوایا گیا، خصوصاً گیت سن لو رنگیلے جوانو اور ایک غزل آسماں والے تیری دنیائے فانی دیکھ لی موت آساں ہو گئی بہت مشہو ہوئی۔ سلیم احمد کی فلم راز کے گانے بھی انہوں نے تحریر کیے تھے جس میں زبیدہ خانم کا گاناچھلک رہی ہیں مستیاں بہت مشہور ہوا۔[4]۔ اس کے علاوہ وہ نگار کراچی اور لیل و نہار کراچی سے وابستہ رہے۔ اسی دوران انہوں نے انجام کراچی اور چین با تصویر (بیجنگ) کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے۔[3]

اخبارات و جرائد کی ادارت[ترمیم]

  • نگار کراچی
  • نمکدان
  • انجام کراچی
  • چین با تصویر بیجنگ

وفات[ترمیم]

طفیل احمد جمالی 12 اگست، 1974ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]