طلعت محمود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
طلعت محمود
Talat Mahmood 2016 postcard of India crop.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 24 فروری 1924  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 مئی 1998 (74 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنی زندگی
آلات موسیقی صوت  ویکی ڈیٹا پر (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ اداکار،  گلو کار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

طلعت محمود (پیدائش: 24 فروری 1924ء - وفات: 9 مئی، 1998ء)، ہندی فلموں کے لیجنڈ گلوکار، بطور اداکار راج لکشمی، تم اور میں، آرام، دلِ نادان، ڈاک بابو، وارث، رفتار، دیوالی کی رات، ایک گاؤں کی کہانی، لالہ رخ، سونے کی چڑیا اور مالک نامی فلموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ بطور گلوکار دیوداس، بوٹ پالش، حقیقت، ٹیکسی ڈرائیور، بابُل، سزا، ترانہ، نادان، مدہوش، سنگدل، داغ، انوکھی، فٹ پاتھ، بارہ دری، سجاتا، ایک پھول چار کانٹے، پریم پتر جیسی فلموں کے لیے گیت گائے۔ ان کے یادگار گیتوں میں ’جائیں تو جائیں کہاں ‘، ’جلتے ہیں جس کے لیے ‘، ’ اے غمِ دل کیا کروں ‘، ’پھر وہی شام وہی غم‘، ’پیار پر بس تو نہیں ‘، ’میرا پیار مجھے لوٹا دو ‘، ’ شامِ غم کی قسم ‘، ’حسن والوں کو‘، ’یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی ‘، ’تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی‘، ’تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی‘، ’میری یاد میں تم نہ آنسو بہانا‘، ’‘، ’اے میرے دل کہیں اور چل‘، ’سینے میں سلگتے ہیں ارمان، ‘، ’اتنا نہ مجھ سے تو پیار بڑھا‘، ’راہی متوالے ‘، ’زندگی دینے والے سُن‘، ’دیکھ لی تیری خدائی‘، ’ہم درد کے ماروں کا‘، ’اندھے جہاں کے اندھے راستے ‘، ’کوئی نہیں میرا اس دنیا میں ‘، ’ملتے ہی آنکھیں دل ہوا دیوانہ کسی کا‘، ’دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے ‘، ’نبے چین نظر بے تاب جگر‘، ’آئی جھومتی بہار‘، ’ہوکے مجبور مجھے اس نے بھلایا ہوگا‘، وغیرہ شامل ہیں۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

طلعت محمود کا جنم لکھنؤ، اترپردیش میں منظور محمود کے ہاں ہوا۔ طلعت نے چھوٹی سی عمر میں اپنی موسیقی کی صلاحیتیں دکھانا شروع کر دیں اور وہ ساری رات جاگ کر ہندوستان کے ممتاز کلاسیکی موسیقاروں کو سنتا تھا۔

مسلم خاندان سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس کی گلوکاری کو پزیرائی نہیں ملی بلکہ معیوب اسے سمجھا گیا۔ ایسے میں طلعت کو فلموں میں کام کرنے یا گھر بیٹھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ باوجود والدین کی شدید مخالف کے اس نے موسیقی کو چُنا لیکن اس کے انڈسٹری میں شہرت پانے کے کچھ سالوں بعد طلعت کے خاندان نے اس کو قبول کر لیا۔

خاندان[ترمیم]

طلعت نے کلکتہ کی ایک بنگالی مسیحی لڑکی ”لتیکا مُولک“ سے شادی کی، جو فلموں میں کام بھی کرتی تھی اور طلعت کی پرستار تھی۔ 20 فروری 1951ء کو لتیکا نے نام تبدیل کر کے نسرین کر لیا۔ طلعت کے دو بچے خالد (پیدائش 1953ء) اور سبینہ (پیدائش 1959ء) تھے۔

وفات[ترمیم]

طلعت محمود نے 9 مئی 1998ء کو ممبئی میں وفات پائی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]