طلیحہ بن خویلد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طلیحہ ابن خویلد اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو گئے اور دعوئ نبوت کر دیا ـ بہت سارے عرب قبائل نے فتنہ ارتداد میں اس کی نبوت کو قبول کر لیا کیونکہ وہ بنو اسد کے ایک مشہور جنگجو اور دلیر سردار کے طورپر جانا جاتا تھا ، طلیحہ نے لگ بھگ ستر ھزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ فتح کرنے کی مہم شروع کی ، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بطور خلیفہ قریش پر مشتمل اس کی بیخ کنی کے لئے ارسال کیا جس کے تین حصے کیئے گئے ،حضرت علیؓ،حضرت زبیر ابن العوام ؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو ہر ایک حصے کا کمانڈر بنایا ،، اس لشکر نے طلیحہ کی پیش قدمی تو روک لی، مگر اس کا لشکر بہت بڑا تھا لہذا خالد ابن ولید کو ان کی مدد کے لئے بھیجا گیا طلیحہ کو شکست ہوئی، اس کے لشکر میں شامل دیگر عرب قبائل نے توبہ کر کے دوبارہ اسلام قبول کر لیا، جبکہ طلیحہ پہلے شام فرار ہوا اور پھر شام کے فتح ہونے پر پلٹ کر دوبارہ اسلام قبول کر لیاـ طلیحہ نے ایران کے خلاف اسلامی لشکر کے ایک حصے کی قیادت کی جو اس کے قبیلے کے جنگجوؤں پر مشتمل تھا ، جبکہ لشکر کی قیادت سعد بن ابی وقاصؓ کے ہاتھ میں تھی ، نہاوند کی جبگ میں ایرانی شکست کا سب سے بڑا حصے دار طلیحہ تھا ،جس کی بہادری کی دھاک ایرانی لشکر پر بیٹھ گئ تھی ، وہ رات کے اندھیرے میں 12 کلومیٹر تن تنہا اکیلے ایرانی لشکرکے کیمپ میں گئے ، اور کچھ ایرانی قتل کر کے قیدی بھی ساتھ لے آئے ،، اسلام کی طرف سے ذو قصہ، قادسیہ اور جلولہ کی جنگوں میں شریک رہے اور آخری معرکے میں اللہ کی راہ میں شھادت پائی خلیفہ وقت حضرت عمرؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ نے ان کے بارے میں بہترین تعریفی کلمات فرمائے ـ

جنگ کا احوال[ترمیم]

حضرت ابوبکر نے خالد بن ولید کو پرچم دے کر بنواسد کے طلیحہ بن خویلد کی طرف بھیجا جس نے دعوئ نبوت کر کے غطفان، فزارہ، عبس اور ذبیان قبائل کو ساتھ ملا لیا تھا۔ بنو طے کے کچھ افراد نے اس کی حمایت کی اور مرتد ہو گئے جب کہ باقی اسلام پر قائم رہے۔ عدی بن حاتم طائی زکوٰۃ ادا کر مدینہ سے لوٹے تو اپنے قبیلے میں مرتد ہونے والوں کو اسلام کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ لوگ مان گئے تو انھوں نے خالد بن ولید سے تین دن کی مہلت لے کر طلیحہ کے لشکر میں موجود اپنے پانچ سو آدمیوں کو واپس بلا لیا۔ خدا کی قدرت کہ طلیحہ کو شبہ تک نہ ہوااور یہ آدمی جیش اسلامی کے سپاہی بن گئے۔ خالد کا ارادہ انسر جا کر قبیلہ جدیلہ سے جنگ کرنے کا تھا۔ عدی نے کہا، اگر طے قبیلہ پرندہ ہوتا تو جدیلہ اس کا پر بنتا۔ مجھے جدیلہ جانے دیں، ﷲ اس قبیلے کو بھی ارتداد پر توبہ کی توفیق دے گا۔ ایسا ہی ہوا جدیلہ کے ایک ہزار سوار مرتدین کے جتھے سے ٹوٹ کر مسلم فوج میں شامل ہو گئے۔ خالد نے اجا اور سلمیٰ پہاڑیوں کے دامن میں رک کر اپنی فوج کی ترتیب کو درست کیا۔ بزاخہ کے مقام پر ان کا طلیحہ سے مقابلہ ہوا۔ بنو فزارہ کے عیینہ بن حصن نے سپہ سالاری سنبھالی، سات سو فزاری اس کے ساتھ تھے۔ اس دوران میں طلیحہ کمبل اوڑھے وحی کا انتظار کرتا رہا۔ عیینہ جنگ سے تنگ آ گیا تو طلیحہ سے پوچھا، کیا جبرئیل آ گئے؟ اس نے کہا، نہیں۔ وہ پھر جنگ میں مصروف ہوا۔تیسری بار طلیحہ نے ایک مہمل وحی سنا دی، ادھراسلامی فوج کا دباؤ بڑھ چکا تھا۔عیینہ نے اپنی قوم کو پکارا، بنو فزارہ! طلیحہ کذاب ہے، بھاگ کر اپنی جانیں بچاؤ۔ طلیحہ نے ایک گھوڑے اور اپنی بیوی نوار کے لیے اونٹ کا انتظام کیا ہوا تھا، فوج سے یہ کہہ کر بھاگ کھڑا ہوا، تم بھی اپنی اور اہل و عیال کی جانیں بچاؤ۔ اس نے شام جا کر بنو کلب میں سکونت اختیار کر لی، اس کے اکثر حلقہ بگوش مرتدین توبہ کر کے مسلمان ہو گئے تو وہ بھی اسلام لے آیا ،عہد فاروقی میں اسے دوبارہ بیعت کا موقع ملا۔ خالد نے عیینہ اور طلیحہ کے دوسرے حلیف قرہ بن ہبیرہ کو گرفتار کر کے مدینہ بھیج دیا۔ انھوں نے حضرت ابوبکر کے سامنے توبہ کی اور بعد میں اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔"


حوالہ جات[ترمیم]