طنابی شمارندکاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
  • طناب = grid ---- (لفظ گـرڈ کے دیگر معنوں کے لیۓ الفاظ کی اس فہرست کو دیکھیۓ)۔
  • شمارندہ کاری = computing
  • اس طراز (technique) کو طنابی شمارندہ کاری (Grid computing) کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں متعدد شمارندوں (کمپیوٹروں) کو ایسے جوڑا یا مربوط کیا جاتا ہے کہ جیسے کسی بجلی کے نظام میں بجلی کو صارف تک تــاروں یا طنابوں کے زریعے جوڑ کر پہنچایا جاتا ہے۔

طنابی شمارندہ کاری (grid computing) دراصل ایک گذشتہ طراز (technique) بنـام منقسم شمارندہ کاری (distributed computing) کی ہی ایک ابھرتی ہوئی نئی اور روش جدیدہ (فیشن ایبل) شکل ہے۔ اس طراز کے پس پشت بنیادی خیال یہ کارفرما ہے کہ بہت بڑا کام ایک ہی جگہ کرنے کے بجاۓ اسکو منقسم کر کے الگ الگ کئی حصوں میں مکمل کرلیا جاۓ تو نسبتا سہل ہوتا ہے یعنی کوئی شمارندی برنامہ (computer program) ، کسی ایک بہت بڑے شمارندے (کمپیوٹر) پر کرنے کے بجاۓ اسے ایسے متعدد چھوٹے چھوٹے شمارندوں پر چلا کر کیا جاۓ جو کہ آپس میں کسی شراکہ (network) کے زریعے مربوط کۓ ہوۓ ہوں۔ باالفاظ دیگر یوں کہ لیں کہ دنیا میں بکھرے ہوئے شمارندوں کا جو جال ھے اسکو اس طرح استعمال میں لایا جائے کہ ایک بہت بڑا طاقتور ڈھانچہ یا تخیلاتی شمارندہ (کمپیوٹر) بن جائے اور اس ڈھانچے کو ایک فوقی شمارندے (super computer) کی جگہ پر استعمال میں لایا جا سکے۔ بنیادی تخیل سستے طریقے سے فوقی شمارندہ کاری (super computing) کی صلاحیت و طاقت حاصل کرنا ھے۔ دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں فارغ شمارندوں (کمپیوٹروں) کو زیادہ سے زیادہ تصرف میں لایا جا سکے۔


مختلف تعریفیں[ترمیم]

  • طنابی شمارندہ کاری، منقسم شمارندہ کاری کی ایک ایسی قسسم ہے جو وسائل کی مجاز سازی یا تجرید (Resource virtualization) کرتی ہے، بوقت ضرورت وسائل کی ترسیل، اور خدمات یا وسائل جو کہ مختلف خودمختار اداروں میں منقسم ہوں، کا مشترکہ استعمال ممکن بناتی ہے۔
  • مجاز سازی (Resource virtualization) کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ گویا ایک طرح کی وسائل کی تجرید ہوتی ہے، اسکی مدد سے وسائل کو ایک واقعاتی شے (جو کہ کسی مظہر یا واقعہ سے اپنے ہونے کی شہادت فراہم کرے) کی حیثیت میں استعمال کیا جاسکتا ہے یعنی باالفاظ دیگر، مـواد (یا وسیلہ) کسی بھی شمارندے تک حقیقت میں وہاں نہ ہوتے ہوۓ بھی (جسکو کسی اور جگہ بنایا گیا ہو) ایک شبیہ کی صورت میں یا مجازی صورت (virtual) میں وہاں استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسی وجہ سے اسکو مجازسازی کہتے ہیں۔
  • طنابی شمارندگی نام ہے مختلف خود مختار اداروں میں منقسم اور متحرک ماحول میں ایک منظم طریقے سے وسائل کا مشترکہ استعمال اور مسائل کا حل تلاش کرنا۔ [1]

مخزن[ترمیم]

جس طرح انٹرنٹ یا شکبہ بنیادی طور پر سائنس دانوں کی معلومات کے تبادلہ یا ان کے آپس میں تبادلہُ خیال کی خوائش کی وجہ سے معرض وجود میں آیا، اسی طرح طنابی شمارندہ کاری یا طناب کا ارتقا بھی سائنس دانوں ہی کا مرہون منت ھے۔ طنابی شمارندہ کاری کا ظہور اس لیے ہوا تاکہ مختلف خودمختار اداروں سے وابسطہ سائنس دان اپنی دریافتوں کے مواد کی بنیاد پر آپس میں اشتراک عمل کرتے ہوئے نئے نئے نتائج اخذ کر سکیں یا اخذ کرنے کی کوشش کر سکیں۔

طناب یا Grid کی اصطلاح 1990 کی دھائی کے وسط میں تراشی گئی جب سب سے پہلے اعلی علم اور طرزیات کیلئے ایک منقسم شمارندگی ڈھانچہ تجویز کیا گیا۔تب سے اب تک اس ڈھانچے کو بنانے اور وسیح کرنے کیلئے کافی کوششیں ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر اس کے صنعتی استعمال اور معیار بندی کیلئے طنابی شمارندگی کا بنیادی ڈھانچہ ابھی تک ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ [2]

مقاصد و خوائص[ترمیم]

طنابی شمارندہ کاری سے کم از کم مندرجہ ذیل مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

وسائل کے ضیاع کی روک تھام[ترمیم]

مختلف اداروں میں زیادہ تر وسائل کسی نہ کسی وجہ سے بیکار رہتے ہیں، خصوصا" میزی شمارندے (Desktop computers) نوے فیصد سے زیادہ فارغ ہرتے پیں۔ اور عام حالات میں تو معیل یا خدمتگار شمارندے (Server Computers) بھی فارغ ہی رہتے ہیں۔ طنابی ڈھانچہ وسائل کے اس طرح ضیاع پر قابو پانے اور ان کا استعمال بڑھانے میں مدد کرتا ھے۔ طنابی شمارندوں پر خصوصی انتظام مہیا کیا جاتا ھے جس کی مدد سے کوئی پروگرام یا مواد (Data) وہاں بحال (Deploy) کرکے اسکا اجرا (Execute) کیا جاسکے یعنی اسکو استعمال کیا جا سکتا ھے۔

متوازی عملیت کی افزائش[ترمیم]

متوازی عملیت یا Parallel processing کی اعلی صلاحیت طنابی شمارندگی کے منفرد خدوخال میں سے ایک ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی تحریک (innovation) یہ ہے کہ بعض اوقات مسائل کا حل یا الخوارزمیہ یا Algorithm (حوالہ) ۔ اس طرح عمل میں لایا جاتا ہے جس میں اصل عملیہ (Process) چھوٹے چھوٹے ذیلی عملیوں (sub processes) میں تقسیم کیا جا سکتا ھے اور ان کا متوازی اجرا ممکن ہوتا ہے۔ متوازی عملیت میں مختلف ذیلی عملیے ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ (parallel) مختلف شمارندوں پر رائج (execute) کئے جاتے ہیں اور اس طرح مجموعی کارکردگی میں خاطرخواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ تصوراتی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جتنے زیادہ شمارندے ہونگے متوازی عملیت سے مجموعی کارکردگی بھی اسی حساب سے بڑھ جائے گی، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلا:

  • ایک عملیے کو ایک خاص حد سے زیادہ ذیلی عملیوں میں تقسیم ہی نہیں کیا جا سکتا۔
  • اکثر اوقات ذیلی عملیوں کی ترویج و تکمیل ایک دوسرے کے حتمی یا ضمنی نتائج پر منحصر ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال کو تنافر یا (contention) کہتے ہیں۔ تنافر کی کئی اور وجوہات میں بین العملیہ پیغامات کی ترسیل میں تاخیر، ترسیلی ذریعے کا اختناق یا تنگ راہی (bottleneck)، آلات کی داخلی و خارجی اقدار (Input/Output Values) کے عرض شریط (bandwidth)، دستور ہمگاہی (Synchronization protocol)، اور فوری یا اضافی ضروریات کی وجہ سے اجرا میں تاخیر (latency in execution) شامل ہے۔
  • طنابی مصنعُ وسط ( middleware ) اور شرکہ کی اپنی اضافت (Overhead) بھی متوقع کارکردگی میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

خدمات اور اداروں کی تجرید[ترمیم]

طناب کا ایک بہت ہی اہم خاصہ یہ ہے کہ یہ طناب اطراف عالم میں بکھرے ہوئے ہم جنس و غیر ہم جنس [3] وسائل یا شمارندوں کا ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیتا ہے جو کہ تجریدی سطح پر ایک ہی شمارندہ لگتا ہے جسے ہم ایک بہت بڑا مجازی شمارندہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ دنیا میں چاروں طرف منقسم ایسے وسائل ( یا شمارندوں)، خاص طور پر غیر ہم جنس وسائل کی موجودگی میں اس طرح کا مجازی ڈھانچہ تشکیل پا سکنا بہت مشکل کام ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کیلئے ہر طرح کے شمارندوں اور دوسرے شمارندی وسائل کو طنابی بنانے کیلئے ان کی مجاز سازی پر زور دیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی خیال ان وسائل کی تجریدیت کا حصول ہے۔ ایسی تجریدیت ، جس میں مختلف شمارندی وسائل کا مقامی انتظام اور عملیاتی طریقہ بیشک حقیقت میں آپس میں نہ ملتا ہو لیکن اعلی سطح پر ان سے ہمگاہی اور بالائی تعلقات کی تشکیل کا طریقہ ایک جیسا ہی ہو۔ اس طرح ایک عمیل کے نقطہُ نظر سے تمام شمارندی وسائل سے رابطہ کرنا اور خدمات کا تبادلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جب ہم یہاں وسائل کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد نہ صرف مجسم شمارندی آلات ہوتے ہیں بلکہ تجریدی سطح پر غیر مجسم مصنع ُ لطیف اور عملیئے بھی شامل ہوتے ہیں۔ [4]


مزید یہ کہ وسائل کی مجاز سازی اداروں کی مجازسازی کا سبب بنتی ہے۔ جب مختلف خود مختار اداروں میں منقسم وسائل آزادانہ طور پرایک ہی کام کرنے کے قابل ہو جائیں تو وہ آپس میں مل کر ایک مجازی ادارہ تشکیل دیتے ہیں۔ مجازی ادارہ جات میں شامل شمارندے آپس میں قابل اعتماد طریقے سے خدمات کا تبادلہ اور ایک دوسرے کے وسائل کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہدایات و مواد کا ہونے والا تبادلہ مستند ہوتا ہے جسے باہمی خوائش پر خفیہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔


مجازسازی کیلئے مختلف نئے دساتیر اور لائحہ عمل بنانے پر کام ہو رہا ہے ۔ ان دساتیر کا اطلاق کچھ اس طرح ہو رہا ہے یا ہو گا کہ مقامی سطح پر تو شاید پرانے دساتیر ہی کام کرتے رہیں گے لیکن بالائی سطح پر نئے دساتیر کو لاگو کر دیا جائے گا۔ [5] تاکہ مجازسازی اور تجریدیت ممکن ہو سکے۔


طنابی مجاز سازی کاایک بہت ہی منفرد اور اہم خاصہ یہ ہو گا کہ اس سے طنابی ڈھانچہ اور مصنع ُ وسط کی پیچیدگیاں صارفین اور عمیلوں سے پوشیدہ ہو جائیں گیں۔ اس طرح ایک غیر مرئی طناب (Invisible Grid) کا خواب شرمندہ ُ تعبیر ہو سکے گا۔

اضافی و فارغ وسائل تک رسائی[ترمیم]

طناب صرف شمارندگی طاقت یا مواد کے ذخیرے تک ھی محدود نہیں بلکہ یہ دوسرے بہت سے وسائل کیلئے بھی خاصی کشش رکھتاہے، وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی مجازی مشین بن جائے گا جس کے بہت سے مفید کل پرزے ہونگے اور اس کو نا صرف علم دان ہی استعمال کیا کریں گے بلکہ کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اس کے علاوہ ایسی شمارندہ کاری طاقت کا حصول بھی ممکن ہو جائے گا جو تنہا کوئی فوقی شمارندہ بھی فراہم نہیں کر سکے گا۔

وسائل کا متوازن استعمال[ترمیم]

طناب منقسم وسائل کو اس طرح اکٹھا یا مجتمع کرتا ہے کہ ایک بہت بڑا مجازی وسیلہ بن جاتا ہے۔ زریں طناب فارغ وسائل کا ایک حوض تشکیل پا جاتا ھے ، جس میں سے بوقت ضرورت برناموں کی ضروریات کے مطابق مناسب وسائل چن کر الاٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ اگر کسی شمارندے پر بوجھ بڑھ جائے تو اضافی بوجھ نسبتا کم بوجھ والے وسائل میں بانٹا جا سکتا ہے۔

طناب چونکہ مختلف ادارے مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں اسلیے ایک ادارے کا بار بوقت ضرورت دوسرے ادارے کے وسائل برداشت کر سکتے ہیں۔ یہ طناب کی ایک اور منفرد خصوصیت ہے جس میں ادارہ جاتی چوٹی اوقات کو بطریق احسن سنبھالا جا سکتا ھے۔

مزید یہ کہ وسائل کی کمی کی صورت میں ایک کم اہم کام کو موُخر کر کے انتہائی اہم کام کو پہلے نبٹایا جا سکتا ھے۔

منقسم عملدرآمدگی[ترمیم]

طناب متوازی عملیت کے ساتھ ساتھ منقسم شمارندگی اور منقسم مصنعُ لطیف کاری کو بھی فروغ دیتا ہے۔ یوں بہتر طریقے سے منقسم عملدرآمدگی عمل میں آتی ہے۔

قابلِ بھروسہ شمارندگی[ترمیم]

روائتی شمارندی نظامات میں بھروسگی کا حصول اضافی اجزاُ خصوصا مہنگے مصنعُ کثیف کے اجزاُ کا مرہون ِ منت ہے۔ طناب کی بنیاد ھی چونکہ اضافی شمارندی اجزاُ پر رکھی گئی ہے ۔ اسلیے بھروسگی کا حصول نسبتا سستے داموں ممکن ہو جاتا ہے۔ مجاز سازی اور اجزاٰ کی تجریدیت بھی قابلِ بھروسہ طنابی شمارندہ کاری کے حصول میں کافی معاون ثابت ہو تا ہے۔

فوقی نظامت[ترمیم]

وسائل کی مقامی نظامت کی طرح طنابی نظامت الوسائل غیر مرئی طناب کے حصول کیلئے بہت اہم ھے۔ مقصد یا نسب العین تو دونوں کا ایک ہی ھے یعنی زیرِ انتظام وسائل پر مکمل اختیار کا حصول، لیکن طنابی نظامت مقامی نظامت سے بہت مختف اور مشکل ھے۔ کیونکہ مقامی نظامت زیرِ انتظام وسائل پر کلی اختیار رکھتی ھے جبکہ طنابی نظامت کیلئے ایسا ممکن نہیں کیونکہ مختلف وسائل اپنی اپنی جگہ پر خود مختار ہوتے ہیں۔ مزید تفصیل کیلئے دیکھئے طنابی نظامت الوسائل۔

تخیلاتی ڈھانچہ[ترمیم]

طناب کا جدید رجحان اشیاُ یا نچلی سطع کی دستور سازی کی بجائے خدمات کی طرف (Service-Orientation) ھے۔ یعنی وسائل کو اشیاُ کی بجائے خدمات کے لبادے میں ڈھانپ کر پیش کیا جاتا ھے۔ اور یوں اشیاُ کی تجریدیت کی بجائے خدمات کی تجریدیت پر زور دیا جاتا ھے [4]

طناب کا تخیلاتی اور خدماتی ڈھانچہ مندرجہ ذیل تین مجازی سطعوں پر مشتمل ہوتا ہے

نمائندہ سطع[ترمیم]

یہ اعلیٰ بالائی سطع ھے جو بیرونی دنیا کیلے سطح البین (Interface) کے طور پر پیش کی جاتی ھے اور معیلین و صارفین طنابی خدمات کے حصول کیلے اسی سطع سے رابطہ کرتے ہیں۔ یوں یہ سطع طناب کے داخلی دروازے کے طور پر کام کرتی ھے۔اس سطع کی خدمات کو زیادہ سے زیادہ قبول صورت اور عام فہم بنانے کیلئے اس وقت کئی تحقیقاتی ادارے اور جامعیات کام کر رہی ہیں ۔ [6] [7] [8] [9] [10] ان تعقیقات کا مرکزی زور اور تخیل اس بات پر ھے کہ کام اور کام کے بہاوُ یعنی کار رواں Workflow کی پیشکش طناب پر اجراُ کیلئے اسی طرح کی جائے جیسا کہ موجودہ شمارندوں پر کی جاتی ھے، یعنی ان کی نچلی سطع کی تفصیل میں جائے بغیر۔

سطح مصنعُ وسط[ترمیم]

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ھے یہ ایسی خدمات پر مشتمل ہے جو وسیط الوسط کے طور پر طناب کے استعمال کو عام صارفین کیلئے سہل بناتی ہیں۔ ان خدمات میں (۱) طنابی نظامتِ وسائل[11] [12] جو کہ صافین کی ضروریات اور حاصل وسائل کے درمیان تقابلے کیلئے رابطے کا کام سرانجام دیتی ھے اور بوقتِ ضرورت وسائل کی فراہمی ممکن بناتی ھے، (2) وسائل میں جدول سازی [11]، یعنی ضرورت کے مطابق مناسب وسائل کا چناوُ اور خدمات کا حصول، اور (3) وسائل کے چناوُ کے بعد کام کا مطلوبہ وسائل پر اجراُ کرکے تکمیل تک نگرانی کا کام سر انجام دینے والی خدمت سرِ فہرست ھے۔ [؟]

بنیادی سطح[ترمیم]

یہ سطح طناب کی بنیادی خدمات فراہم کرتی ہے اور اس سطع کی خدمات مجسم وسائل اور شرکہ کے ساتھ بنیادی شرکی قوائد کی مدد سے بلا واسطہ روابط قائم کر سکتی ہیں۔ ان بنیادی خدمات میں مقامی نظامتِ وسیلہ [13] طنابی اطلاعات، [14] طنابی مواد کی ترسیل [15] اور طنابی حفاظتی [16] خدمات شامل ہیں۔

طناب کی اہم اقسام[ترمیم]

  • شمارندہ کار طناب جیسا کہ نام سے ظاہر ھے ایسا طناب شمارندگی دوست ہوتا ھے اور اس کے کام میں مواد کی پیداوار یا ترسیل کی بجائے شمارندگی کا تناسب زیادہ ہو تا ھے۔ * موادی طناب

شمارندہ کار طناب کے برعکس اس میں شمارندگی کی نسبت مواد کی پیداوار اور ترسیل و فراہمی زیادہ ہوتی ھے۔ * کاروباری طناب طناب کی پہلی دو قسمیں بنیادی طور پر محققین کے کام آتی ہیں جبکہ کاروباری طناب کاروباری طبقہ کی ضروریات کو اہمیت دیتا ھے اور بالواستہ طناب کے ثمرات کو عام آدمی تک پہنچانے کا وعدہ کرتا ھے۔ [؟]

معراج فن 2006[ترمیم]

طنابی شمارندہ کاری کے فروغ کیلئے کئی تحقیقاتی ادارے اور کاروباری طبقہ کوششیں کر رہا ھے۔ حلقہ علمِ عظیم انتہائی متحرک انداز میں ترقیاتی ماحول، کارکردگی میں اضافہ اور نگرانی میں بہتری کیلیے کام کر رہا ھے۔ زیادہ توجہ طنابی مصنعِ وسط کی پائداری کے حصول اور اس کی پیچیدگیوں کو چھپانے پر دی جا رہی ھے۔

گلوبس ([17] Globus) طنابی ارتقاُ کی تیسری منزل پر پہنچ چکا ھے۔ جالی خدمات (Web Services) کے ارتقاُ نے طنابی خدمات (Grid Service) پر بہت اثر ڈالا ھےاور سال ۲۰۰۴ سے طنابی ڈھانچے کی بنیاد دراصل جالی خدماتی وسائل کے ایک جدید دستور پر اٹھائی گئی ھے۔ [18]

معیار بندی[ترمیم]

عالمی طنایی تنظیم ([19]GGF) جسکا حال ہی میں صنعتی طنابی اتحاد (EGA) کے ساتھ ادغام ہوا ھے [20] طنابی معیار بندی کیلیے مخصوص ادارہ ہے جوکہ طنابی دساتیر کی معیار بندی جالی خدماتی دساتیر کے مطابق کر رہا ھے۔ اس ادغام سے ایک نئ تنظیم OGF وجود میں آئی ھے جو کھلی معیار بندی کی اصول پر طناب کو فروغ دے گی۔ GGF ابتدائی طور پر حلقہُ محقیقن کی نمائندگی کر رہا تھا جبکہ EGA کاروباری طبقہ اور طناب کے صنعتی استعمال کے فروغ کیلیے کام لر رہا تھا۔ ان دونوں تنظیموں کا ادغام اس بات کی دلیل ھے کہ طناب کا ثمر عام آدمی تک پہنچانے کیلیے ہونے والی سرگرمیوں کو تیز کر دیا گیا ھے۔

برقیاتی طناب سے مماثلت[ترمیم]

طناب یا Grid کی اصطلاح برقیاتی طناب کے پسِ منظر میں تراشی گئی ھے۔ بنیادی تخیل یہ ھے کہ جس طرح بجلی ایک یوٹیلیٹی کی طرح گھر گھر میں میسر ھے بلکل اسی طرح شمارندگی بھی ہر ایک کی چوکھٹ پر موجود ہو۔ جیسے ہی آپ برقی کنکشن لے کر اپنے گھریلو آلات کا تعلق اس سے قائم کرتے ہیں تو برقی طاقت آپ کو حاصل ہو جاتی ھے، آپ کو اس سے غرض نہیں ہو تی کہ حاصل ہونے والی برقی طاقت کیسے اور کہاں پیدا ہوئی اور کیسے آپ تک پہنچی۔ بلکل یہی تخیل طنابی شمارندگی کے پیچھے بھی نظر آتا ھے۔ آپ سستا سا ذاتی شمارندہ خرید کر لائیں، شبکہ یا انٹرنیٹ سے رابطہ کرکے اپنی ضرورت و قوتِ خرید کے مطابق شمارندگی طاقت حاصل کریں اس تفصیل میں جائے بغیر کہ دنیا میں کونسا شمارندہ کب، کہاں، اور کیسے آپ کی خدمت سرانجام دے رہا ھے۔

ٰشمارندہ کاری سب کیلئےٰ کا خواب جو احباب نے دیکھا اسے شرمندہُ تعبیر کرنے کیلئے شائد ابھی بہت کچھ کرنا باقی ھے۔ لیکن بہت جلد یہ خواب شرمندہُ تعبیر ہونے والا ھے۔

طناب اور جال محیط عالم[ترمیم]

طناب کا تخیل جال محیط علم (world wide web) کی ترقی کا ہی مرہونِ منت ھے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ھے کہ سن ۲۰۰۴ سے طنابی دساتیر کو جالی دساتیر کے مطابق ڈھالہ گیا ھے اور دونوں طرزیات WSRF کی شکل میں مدغم ہو چکی ہیں۔ [18] اس طرح توقع ھے کہ طناب مستقبل قریب میں جال کے نیچے چھپ جائے گا اور یوں غیر مرئی طناب معرضِ وجود میں آئے جائے گا جسکی پچیدگیاں عام صارفین سے ڈھکی چھپی ہونگی۔

طناب اور ھمتا بہ ھمتا شمارندہ کاری[ترمیم]

دونوں منقسم شمارندہ کاری کی تقریبا ایک جیسی قسمیں ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے فائدہ بھی اٹھا سکتیں ہیں۔ تحفظ، انتقال اختیارات ، بین الادارتی تعلقات، ادارہ جاتی مجازسازی، تجریدی ادارہ جاتی معیارات، تجریدی تعلقات میں شفافیت (transparency), معیاری خدمت کے حصول کیلئے مذاکرات وغیرہ طنابی خواص ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس p2p خود مختاری، متحرک تعلقات، اپنائیت یا مطابقت (adaptability) اور مقیاسیت (scalability) وغیرہ میں بہتری کا دعوہ کرتا ھے ۔ دونوں طرزیات ایک دوسرے سے کافی کچھ نہ صرف سیکھ سکتی ہیں بلکہ ہو سکتا ھے کہ آگے چل کر مدغم بھی ہو جائیں، کیونکہ طناب مائل بہ خدمت ھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Ian Foster and Carl kesseman
  2. ^ Foster, I. and Kesselman, C. 2004. The Grid in a nutshell. In Grid Resource Management: State of the Art and Future Trends, J. Nabrzyski, J. M. Schopf, and J. Weglarz, Eds. Kluwer Academic Publishers, Norwell, MA, 3-13.
  3. ^ (Homogeneous and Heterogeneous) = ہم جنس و غیر ہم جنس
  4. ^ 4.0 4.1 The Anatomy of the Grid: Enabling Scalable Virtual Organizations. I. Foster, C. Kesselman, S. Tuecke. International J. Supercomputer Applications, 15(3), 2001. Defines Grid computing and the associated research field, proposes a Grid architecture, and discusses the relationships between Grid technologies and other contemporary technologies.
  5. ^ اس کیلے ملاحظہ فرمائیں Global/Open Grid Forum www.ogf.org
  6. ^ Jia Yu and Rajkumar Buyya, A Novel Architecture for Realizing Grid Workflow using Tuple Spaces, Proceeding of Fifth IEEE/ACM International Workshop on Grid Computing, Pittsburgh, PA, November 2004.
  7. ^ Sriram Krishnan, Patrick Wagstrom and Gregor von Laszewski. GSFL: A Workflow Framework for Grid Services (Draft), Argonne National Laboratory, July 2002.
  8. ^ P. Avery, I. Foster, GriPhyN Annual Report for 2003- 2004, Technical report 2004-70, August 2004.
  9. ^ J. Frey. Condor DAGMan: Handling Inter-Job Dependencies, 2002.
  10. ^ FAHRINGER, T., PRODAN, R., DUAN, R., HOFER, J., NADEEM, F., NERIERI, F., PODLIPNIG, S., QIN, J., SIDDIQUI, M., TRUONG, H.-L., VILLAZON, A., AND WIECZOREK, M. Askalon: A development and grid computing environment for scientific workflows. Workflows for eScience, Scientific Workflows for Grids.
  11. ^ 11.0 11.1 Jarek Nabrzyski, Jennifer M. Schopf, and Jan Weglarz, Grid Resource Management: State of the Art and Future Trends. Kluwer
  12. ^ Mumtaz Siddiqui and Thomas Fahringer. 2005. GridARM: Askalon s Grid Resource Management System. In Advances in Grid Computing - EGC 2005 - Revised Selected Papers, Springer Berlin / Heidelberg, ISBN 3-540-26918-5, vol. 3470 of Lecture Notes in Computer Science, 122 131.
  13. ^ Karl Czajkowski, Ian Foster, Nick Karonis, Stuart Martin, Warren Smith, and Steven Tuecke. A Resource Management Architecture for Metacomputing Systems. In Dror G. Feitelson and Larry Rudolph, editors, Job Scheduling Strategies for Parallel Processing, pages 62{82. Springer Verlag, 1998. Lect. Notes Comput. Sci. vol. 1459.
  14. ^ K. Czajkowski, S. Fitzgerald, I. Foster, and C. Kesselman. Grid Information Services for Distributed Resource Sharing. In Tenth IEEE International Symposium on High- Performance Distributed Computing(HPDC-10). IEEE Press, 2001.
  15. ^ Bill Allcock, Joe Bester, John Bresnahan, Ann L. Chervenak, Ian Foster, Carl Kesselman, Sam Meder, Veronika Nefedova, Darcy Quesnel, and Steven Tuecke. Data management and transfer in high-performance computational grid environments. Parallel Computing, 28(5):749{771, May 2002.
  16. ^ Ian Foster, Carl Kesselman, Gene Tsudik, and Steven Tuecke. A Security Archi- tecture for Computational Grids. In Fifth ACM Conference on Computers and Communications Security, November 1998.
  17. ^ http://www.globus.org
  18. ^ 18.0 18.1 Web Services Resource Framework http://ww.globus.org/wsrf
  19. ^ http://www.ggf.org
  20. ^ http://www.ggf.org/Announcement/ggf_announce_merge.php