مندرجات کا رخ کریں

طواف (اصطلاح)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

طواف (انگریزی: Circumambulation) ایک مذہبی رسم ہے جس میں کسی مقدس شے، مقام یا شخصیت کے گرد چکر لگائے جاتے ہیں۔[1] یہ عمل دنیا کے متعدد مذاہب اور ثقافتوں میں پایا جاتا ہے اور اس کی جڑیں قدیم زمانے تک پہنچتی ہیں۔ طواف کی یہ رسم مختلف تہذیبوں میں مختلف ناموں سے جانی جاتی ہے، لیکن اس کا بنیادی تصور تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔

ما قبل اسلام عرب میں طواف

[ترمیم]

ما قبل اسلام عرب میں طواف کی رسم مختلف مقدس مقامات پر ادا کی جاتی تھی۔[2] خانہ کعبہ کے گرد طواف اس دور کی سب سے اہم مذہبی رسومات میں سے ایک تھی۔ عرب کے مختلف قبائل مکہ میں واقع کعبہ کے علاوہ دیگر مقامی بتوں اور مقدس پتھروں کے گرد بھی طواف کرتے تھے۔ ان مقدس پتھروں کو "انصاب" کہا جاتا تھا اور ان کے گرد چکر لگانا عبادت کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ طواف عام طور پر ننگے پاؤں کیا جاتا تھا اور بعض اوقات خاص قسم کے لباس میں اس رسم کو ادا کیا جاتا تھا۔ ما قبل اسلام دور میں طواف کے دوران خاص قسم کے کلمات پڑھے جاتے تھے جو بعد میں اسلامی دور میں تلبیہ کی شکل اختیار کر گئے۔

مختلف مذاہب میں طواف

[ترمیم]

طواف کی رسم صرف عربوں تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ دنیا کے متعدد مذاہب میں پائی جاتی ہے۔[3] بدھ مت میں اسٹوپا کے گرد طواف ایک اہم مذہبی عمل ہے۔ ہندو مت میں مندروں اور مقدس مقامات کے گرد طواف کیا جاتا ہے، جسے "پرادکشنا" کہا جاتا ہے۔ سکھ مت میں گردوارہ کے گرد چکر لگانا مذہبی رسومات کا حصہ ہے۔ مسیحیت میں بعض مقدس مقامات پر صلیب کے گرد یا چرچ کے اندر مخصوص راستے پر طواف کی رسم موجود ہے۔ یہودیت میں بھی بعض مذہبی تقریبات کے دوران طواف کی رسم ادا کی جاتی ہے۔

اسلامی دور میں طواف

[ترمیم]

اسلام میں طواف کو حج اور عمرہ کی اہم ترین رسومات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔[4] خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا حج اور عمرہ دونوں کے لیے ضروری ہے۔ اسلامی طواف کا آغاز حجر اسود کے سامنے سے ہوتا ہے اور یہ کعبہ کے گرد سات چکر پر مشتمل ہوتا ہے۔ طواف کے دوران خاص دعائیں اور اذکار پڑھے جاتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق طواف کی یہ رسم درحقیقت فرشتوں، حضرت آدم اور دیگر انبیا کی سنت کا تسلسل ہے۔ اسلام نے ما قبل اسلام کے دور میں موجود طواف کی رسم کو باقی رکھا، لیکن اسے شرک اور بت پرستی کے تمام عناصر سے پاک کر کے خالص توحید پر مبنی بنا دیا۔

نفسیاتی اور روحانی پہلو

[ترمیم]

طواف کے نفسیاتی اور روحانی پہلوؤں پر ماہرین نے غور کیا ہے۔[5] دائروی حرکت کو روحانی ترقی اور کمال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ طواف کے دوران مرکز کی طرف مسلسل رخ رکھنا خدا کی یکسوئی اور توحید کی علامت ہے۔ یہ عمل انسان کو مادی دنیا کی مصروفیات سے ہٹ کر روحانی مرکز کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ طواف کی جسمانی حرکت اور ذہنی یکسوئی کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے، جو مراقبے اور ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔ مختلف ثقافتوں میں طواف کو روحانی پاکیزگی، توبہ اور نئے سرے سے آغاز کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Mircea Eliade (1987)۔ The Encyclopedia of Religion۔ Macmillan۔ ج 3۔ ص 512۔ ISBN:978-0-02-909480-8
  2. Hisham Ibn al-Kalbi (2015)۔ Book of Idols۔ Princeton University Press۔ ص 25۔ ISBN:978-1-4008-7679-2
  3. Jonathan Z. Smith (1995)۔ The HarperCollins Dictionary of Religion۔ HarperSanFrancisco۔ ص 250۔ ISBN:978-0-06-067515-8
  4. Francis E. Peters (1994)۔ The Hajj: The Muslim Pilgrimage to Mecca and the Holy Places۔ Princeton University Press۔ ص 23۔ ISBN:978-0-691-02120-7 {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: checksum (معاونت)
  5. Victor Turner (1969)۔ The Ritual Process: Structure and Anti-Structure۔ Aldine Publishing۔ ص 95۔ ISBN:978-0-202-01190-4 {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: checksum (معاونت)