طوعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
طوعہ
معلومات شخصیت
رہائش کوفہ
مذہب اسلام
شریک حیات اسید بن مالک حضرمی
اولاد بلال
عملی زندگی
پیشہ اشعث بن قیس کندی کی باندی (بعد میں آزاد کر دی گئی)
وجہ شہرت میزبانِ مسلم بن عقیل

طوعہ (عربی: طوعة) کوفہ کی رہنے والی اشعث بن قیس کی باندی تھی، انھوں نے جب طوعہ کو آزاد کر دیا تو اسید بن مالک سے نکاح کر لیا اور ان سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا۔ طوعہ ایک عام مسلمان باندی تھیں، تاریخ اسلام میں ان کی شہرت حسین بن علی کے سفیر مسلم بن عقیل کی کوفہ میں مدد اور پناہ دینے کی وجہ سے ہے، جب اہل کوفہ نے انھیں دھوکا دے دیا تھا، طوعہ نے انھیں اپنے گھر میں پناہ دی اور ہر ممکن مدد کی، اس طرح اس مسلم باندی کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

ذاتی زندگی سے متعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں ہو سکی سوائے اس کے کہ طوعہ ایک عام خاتون اور باندی تھیں، مسلمان تھیں، اشعث بن قیس کی ملکیت میں تھیں انھوں نے آزاد کر دیا تھا، اس کے بعد اسید بن مالک حضرمی سے شادی ہوئی، ان سے ایک اولاد بھی ہوئی جس کا نام بلال تھا۔[1] [2]

مسلم بن عقیل سے ملاقات[ترمیم]

اہل کوفہ کے اصرار پر حسین بن علی نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو وہاں کے حالات کا معاینہ کرنے کے لیے بھیجا۔ لیکن کوفہ میں اموی گورنر کا تیور سخت ہو گیا اور محبین چُھپنے لگے۔ بہر حال مسلم بن عقیل مغرب کے وقت کوفہ پہنچے، نماز سے فارغ ہوئے، دیکھا کہ لوگ سب منتشر ہو کر چلے گئے، باہر نکل کر دیکھا وہاں بھی کوئی موجود نہیں تھا۔ کوفہ کی گلیوں میں ٹہلنے لگے اور پناہ ڈھونڈنے لگے، تھک کر ایک گھر کے سایہ میں بیٹھ گئے، وہی گھر طوعہ کا تھا۔ طوعہ نے جب اپنے بیٹے کی راہ دیکھنے لیے دروازہ کھولا تو وہاں ایک مسلم مسافر کو پایا۔ تعارف و تعریف پوچھنا چاہی تو انھوں نے بتایا: "ایک اجنبی مسافر ہوں، تھکن سے نڈھال ہو کر بیٹھ گیا ہوں." پیاس کی وجہ سے پانی مانگا، خاتون نے پانی پیش کیا، اور تعارف پر اصرار کرنے لگی، تب مسلم بن عقیل نے حقیقت واقعہ سے مطلع کیا، اور گھر میں پناہ دینے کی درخواست کی۔ لیکن طوعہ کا لڑکا بلال اموی حامی اور مخبر تھا، اسے جب واقعہ معلوم ہوا تو انعام کی لالچ میں صبح جا کر کوفہ کے گورنر ابن زیاد کو بتا دیا۔ اس نے محمد بن اشعث کو ایک فوج کے ساتھ روانہ کیا، فوج نے گھر کا محاصرہ کر کے مسلم بن عقیل کو گرفتار کر لیا اور انھیں "قصر امارت" لایا۔

طوعہ اور مسلم بن عقیل کی گفتگو[ترمیم]

مسلم بن عقیل کو طوعہ نے دروازہ کے پاس کھڑا دیکھا، انھوں نے طوعہ کو سلام کیا، سلام کا جواب دیا، پوچھا: کون ہو؟ کیا کام ہے؟ جناب مسلم نے کہا: پینے کے لیے پانی مل سکتا ہے؟ پانی کا پیالہ پیش کیا اور گھر میں چلی گئی، واپس آکر دیکھا پھر وہیں کھڑا ہوا پایا۔ پوچھا: پانی نہیں پیا؟ فرمایا: پی لیا۔ طوعہ نے کہا: پھر اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ، جناب مسلم خاموش رہے، پھر طوعہ نے واپس جانے کہا۔ پھر خاموش رہے، طوعہ نے کہا: اللہ کے بندے کیا معاملہ ہے؟ اٹھو اور گھر جاؤ ! اللہ تمھیں عافیت سے رکھے، اس طرح تمھارا یہاں میرے دروازے پر بیٹھنا مناسب نہیں ہے، میں اس کی اجازت نہیں دے سکتی۔ جناب مسلم کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کی بندی! میرا اس شہر میں نہ کوئی گھر ہے نہ خاندان، کیا تم میرے ساتھ بھلائی کر سکتی ہو؟ شاید میں بعد میں اس کا بدلہ عطا کر دوں۔ طوعہ نے کہا: کیا معاملہ ہے؟ فرمایا: میرا نام مسلم بن عقیل ہے، ان لوگوں نے مجھ سے جھوٹ بولا اور مجھے دھوکا دیا ہے۔ کہا: آپ مسلم بن عقیل ہیں؟ کہا جی ہاں! پھر وہ اپنے گھر میں لے گئیں، کھانا پیش کیا، لیکن انھوں نے نہیں کھایا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الطبري، تاريخ الرسل و الملوك، ج5، ص371
  2. ابن الأثير،الكامل في التاريخ، ج3،ص349
  3. أحمد بن محمد، مسكويه، تجارب الأمم و تعاقب الهمم، ج2، ص31