طہارت (اسلام)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طہارت پاک ہونے اور پاکیزہ رہنے اور صفائی کو کہا جاتا ہے۔

دو طرح کی طہارت[ترمیم]

طہارت جسمانی اور طہارت قلبی اور قرآن پاک میں جہاں کہیں طہارت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم دونوں قسم کی طہارت مراد ہے کہا جاتا ہے۔

عمومی اقسام طہارت[ترمیم]

  • (1) اعتقادات کی طہارت جیسے اللہ رسول اور قیامت کے ساتھ وہ اعتقاد رکھنا جوقرآن اورحدیث کے مطابق ہو
  • (2) مال کی طہارة جیسے مال کی زکوة دینا
  • (3) بدن کی طہارة جیسے وضو کرنا، غسل کرنا۔ کپڑے کی طھارة جیسے کپڑے کو پاک کرنا۔ چونکہ بہت سے طہارتوں کو بیان کرنا ہے اس لیے مصنف نے طہارات جمع کا صیغہ لایا ۔[1]

ایمان کا حصہ[ترمیم]

اَلطَّھُوْ رُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ(صفائی ایمان کا حصہ ہے)[2]

صفائی اور پاکیزگی میں فرق[ترمیم]

صفائی اور پاکیزگی میں فرق ہے۔ اگر کسی چیز پر میل کچیل نہ ہو تو اسے صاف کہتے ہیں مگر عین ممکن ہے کہ وہ شرع کے نقطہ نظر سے پاکیزہ نہ ہو۔ پاکیزہ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو نجاست غلیظہ اور خفیفہ دونوں سے پاک ہو۔

طہارت کی اقسام[ترمیم]

طہارت کی تین قسمیں ہیں

حدث سے طہارت[ترمیم]

جن حالتوں میں غسل یا وضو واجب ہے، ان حالتوں میں غسل یا وضو کر کے شرعی طہارت و پاکیزگی حاصل کرنا

ظاہری نجاست سے طہارت[ترمیم]

ظاہری نجاست اور پلیدگی سے جسم، لباس اور جگہ کو پاک و صاف کرنا

جسم کے حصوں کی طہارت[ترمیم]

جسم کے مختلف حصوں میں جو گندگیاں اور میل پیدا ہوتا رہتا ہے، اس کی صفائی کرنا۔ جیسے ناک، دانتوں، ناخنوں اور زائد بالوں کی صفائی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1 - مؤلف : مولانا ثمیر الدین قاسمی جامعہ روضۃ العلوم جھار کھنڈ انڈیا
  2. صحیح مسلم
  3. حجۃ اللہ البالغہ ،شاہ ولی اللہ،صفحہ 311 فرید بکسٹال لاہور