ظفر خان (علائی سالار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ظفر خان (علائی سالار)
وفات 1299
کلی نزد دہلی
وفاداری سلطنت دہلی
سروس/شاخ خلجی خاندان، عریض ممالک
سالہائے فعالیت 1296-1299
مقابلے/جنگیں

بدر الدین جو اپنے لقب ظفر خان کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے، سلطنت دہلی کے فرماں روا علاء الدین خلجی کے سالار تھے۔ سلطان علاء الدین کے عہد حکومت میں ظفر خان متعدد بار ملتان، سمانا اور سیوستان کے عامل رہے۔

علاء الدین خلجی جب کڑہ کے حاکم تھے، اس وقت سے ظفر خان ان کے ساتھ رہے۔ سنہ 1296ء میں جلال الدین خلجی کے قتل کے بعد ظفر خان ہی نے اپنی سرکردگی میں علاء الدین کے لشکر کے بڑا حصے کو کڑہ سے دلی لائے تھے۔ نیز جلال الدین کے افراد خاندان کو ختم کرنے کے لیے علاء الدین کے بھائی الغ خان جب ملتان کی مہم پر روانہ ہوئے تو ظفر خان بھی ان کے ساتھ تھے۔ غالباً ظفر خان نے الغ خان کے ساتھ مل کر اس لشکر کی بھی قیادت کی تھی جس نے خانیت چغتائی کے منگولوں کو جالندھر کے مقام پر سنہ 1298ء میں سخت ہزیمت سے دوچار کیا تھا۔ بعد ازاں علاء الدین نے سیوستان کی از سر فتح کے لیے ظفر خان کو روانہ کیا جس پر منگول قابض ہو گئے تھے۔ ظفر خان اس مہم میں بھی سرخرو رہے، منگول حملہ آوروں کو مار بھگایا اور ان کے سردار کو قید کرکے دلی لے آئے۔

سنہ 1299ء میں ظفر خان معرکہ کلی میں منگولوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ مرنے سے قبل انہوں نے منگولوں کو سخت نقصان پہنچایا تھا جو منگولوں کی پسپائی کا ایک انتہائی اہم محرک سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سلطنت دہلی کے دستاویزوں میں اس کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ ظفر خان نے دوران میں جنگ میں علاء الدین کے احکام پر عمل نہیں کیا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بدر الدین ظفر خان کی ابتدائی زندگی کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ پندرہویں صدی عیسوی کے وقائع نگار یحیی بن احمد سرہندی نے لکھا ہے کہ ان کا اصل نام یوسف تھا اور وہ علاء الدین کے بھانجے یعنی ان کی بہن کے فرزند تھے، جبکہ سولہویں صدی عیسوی کے مورخ عبد القادر بدایونی نے ان کا نام بدر الدین درج کیا ہے۔[1]

ظفر خان نے علاء الدین کی افواج کی اس وقت بھی سربراہی کی جب وہ سلطان نہیں بنے تھے۔ کڑہ میں سلطان جلال الدین خلجی کے قتل کے بعد انہوں نے علاء الدین کے لشکر کی دو ٹکڑیوں میں اسے ایک کی قیادت کی اور اسے دلی خیمہ زن کیا تھا جبکہ دوسری ٹکڑی علاء الدین خلجی اور نصرت خان جلیسری کے کمان میں تھی۔ ظفر خان نے اپنے زیر کمان لشکر کو کولی (موجودہ علی گڑھ) کے راستے دلی پہنچایا تھا۔[2]

علاء الدین خلجی نے تخت سلطنت پر متمکن ہونے کے بعد ظفر خان کو عریض ممالک (وزیر جنگ) کے منصب پر مامور کیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Kishori Saran Lal 1950، صفحہ۔ 75.
  2. Banarsi Prasad Saksena 1992، صفحہ۔ 327.

کتابیات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  • Mentions of Zafar Khan in Delhi chronicles, as recorded in The History of India, as Told by Its Own Historians (Volume 3) By Sir Henry Miers Elliot