ظہیر احسن شوق نیموی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علامہ ظہیر احسن محمد بن علی شوق نیموی
آثار السنن
پیدائشظہیر الاسلام
4 1278(1278-نقص اظہار: «ج» کا غیر معروف تلفظ۔-04)ھ
صالح پور، برطانوی ہندوستان
وفات17 1322(1322-نقص اظہار: «ر» کا غیر معروف تلفظ۔-17)ھ
عظیم آباد، بہار، بھارت
آخری آرام گاہنیمی، عظیم آباد، بہار
قلمی نامشوق
پیشہمحدث، فقیہ، نقاد، محقق، حکیم، شاعر
زباناردو، عربی
قومیتFlag of India.svg بھارت بھارتی

علامہ شوق نیموی ایک عبقری شخصیت ، مستند شاعر ، با کمال محقق ، بے مثال فقیہہ اور پایے درجے کے محدث کا نام ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس نے صرف علاقائی، صوبائی یا ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر علمی شخصیتوں کو اپنے علمی و ادبی کارناموں سے متاثر، معاصرین و اکابرین کو اپنے تبحر علمی کا معترف بھی کیا۔ وہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔

پیدائش اور نام و نسب[ترمیم]

علامہ شیخ نیموی 4 جمادی الاولی 1278ھ کو عظیم آباد کے قصبہ صالح پور میں پیدا ہوئے ، آپ کا اسم گرامی محمد ظہیر احسن کنیت ابوالخیر تخلص شوق اور تاریخی نام ظہیر الاسلام ہے، آپ کا سلسلہ نسب 34 واسطوں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچ جاتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

پانچ یا چھ سال کی عمر کو پہنچنے پر اپنے ہی گاوں کے ایک مدرسہ میں داخلہ لیا ، جہاں ابتدائی کتابیں پڑھیں اور شیخ عبد الوہاب معروف بہ شاہ دیدار علی {م1292ھ} سے رقعات عالمگیر کے کچھ اسباق پڑھے، فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابوںسے فراغت پاکر آپ نے عظیم آباد کا سفر کیا اور عربی کی بعض کتابیں شیخ محمد سعید حسرت عظیم آبادی اور دیگر اساتذہ سے پڑھیں،پھر 1296ھ میں غازی پور کا سفر کیا اور کچھ دن شیخ مفتی محمد فرنگی محلی مہتمم مدرسہ چشمہ رحمت کے یہاں کچھ دن قیام کیا اور پھر شیخ میر علی استانوی کے یہاں منتقل ہو گئے ، وہاں آپ نے شیخ محمد اور شیخ محمد عبد اللہ اور دیگر اساتذہ سے علوم عالیہ کی بعض کتابیں پڑھیں، چار سال غازی پور میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن گئے وہاں سے 1300ھ کے رمضان کے بعد لکھنؤ کا سفر کیا ، وہاں سے اپنے استاذ شیخ امیر اللہ تسلیم لکھنوی سے ملاقات کے لیے سندیلہ گئے پھر کچھ روز وہاں قیام کرکے لکھنؤ آئے اور پھر حضرت شیخ فضل رحمان گنج مراد آبادی سے ملنے گنج مرادآباد چلے گئے، وہاں آپ سے بیعت کی کچھ روز گزار کر لکھنؤ آگئے ، وہاں زبدۃ المحدثین  شیخ عبد الحئی فرنگی محلی کی شاگردی اختیار کی اور تفسیر، حدیث ، فقہ اور اصول کی کتابیں پرھیں، علوم دینیہ سے فارغ ہوکر حکیم باقر حسین لکھنوی سے طب کی تعلیم کی اور سند بھی حاصل کی۔الغرض لکھنؤ کے پانچ سالہ قیام میں آپ نے علوم عربیہ ، عقلیہ نقلیہ طبعیہ میں مہارت حاصل کی اور شوال 1305ھ میں  گھر لوٹے۔

تدریس و طبابت[ترمیم]

جب شیخ نیموی علوم دینیہ و طبیہ سے فراغت پاکر اپنے وطن لوٹے تو پٹنہ گئے ، وہاں افادہ خلق اور کسب معاش کے لیے طبابت کا پیشہ اختیار کیا ، ساتھ ساتھ تدریس ، تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رہا، وہاں آپ قرآن ، حدیث ، فقہ ،اصول ، فلسفہ ، منطق اور دیگر دینی ، حکمی ، طبی کتابیں انتہائی محنت تحقیق اور تدبر سے پڑھاتے تھے { یادگار وطن}پٹنہ کی اقامت کے دووران جامع مسجد میں عام دینی موضوعات وعظ و تذکیر اور پند و نصیحت کا سلسلہ بھی جاری رہا ؛ البتہ قرآن کریم سے خاص لگاو تھا سو آپ نے خطبہ میں مکمل قرآن کیا اور آپ کی خواہش تھی کہ مواعظ میں بھی قرآن مکمل کرت مگر نہ ہو سکا۔

اولاد واحفاداور وفات[ترمیم]

شیخ کے دو صاحبزادے تھے، شیخ عبد الرشید پہلی بیوی سے اور شیخ عبد السلام دوسری بیوی سے ، 17 رمضان 1322ھ کو عظیم آباد میں جمعہ کو روز آپ نے وفات پائی اور اپنے وطن "نیمی" میں دفن ہوئے۔

شعرو ادب[ترمیم]

شوق نیموی فطرتاً شاعر تھے اور کم عمری میں ہی اشعار موزں کر لیا کرتے تھے، اپنی شعر گوئی کے حوالے سے اپنی خود نوشتیادگار وطن میں ایک جگہ لکھتے ہیں :۔لڑکپن میں خدا نے طبیعت ایسی موزں بنائی تھی کہ جب میں گلستاں ہی پڑھتا تھا تو فی البدیہہ شعر موزں کر لیتا تھا،مجھے خوب یاد ہے کہ بیت بازی کے مقابلے میں حریف سے کبھی شکست نہیں ہوئی،بارہا ایسا ہوا کہ حریف کو بھی کسی خاص حرف کے اشعار بہت یاد تھے ۔ جن کی وجہ سے مجھ کو دقت پڑتی، مگر جب استادکا کوئی شعریاد نہیں آتا تو نظم کرکے جواب دے دیتااور ان بے چاروں کو یہ وہم تک نہ ہوتاکہ یہ شعر اس کا طبع زاد ہے۔ یہ سب صلاحیتیں شوق نیموی  میں اللہ نے ودیعت تو رکھی ہی تھیں۔ لیکن جب حصول علم کی غرض سے اس وقت کے علمی و ادبی مرکز لکھنؤ کا سفر کیا اور وہاں شمشاد لکھنوی اور تسلیم لکھنوی جیسے بڑے شعرا کی شاگردی اختیار کی تو ان کی اصلاح وتربیت نے شوق نیموی کے فن کو پختگی اور ادبی وشعری صلاحیت کو عروج و سر بلندی بخشنے کا کام کیا اور لکھنؤ قیام کے دوران ہی انھیں ایک قادر الکلام اور باکمال شاعروں کی صف میں شمارکیا جانے لگا ۔

شوق نیموی اور مولانا آزاد[ترمیم]

شوق نیموی کی شعری عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ہم عصر اور نامور شعرا میں سے داغ دہلوی، تسلیم لکھنوی ، احسن مارہروی اور حسرت عظیم آبادی جیسے بڑے شاعروں نے بھی ان کی شعری خوبیوں کو سراہا۔ اور آزاد ہند کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد جیسی نابغہ روزگار شخصیت جن کی فکری بلندی اور بالیدہ ذوق کاہر شخص معترف ہے ۔ وہ بھی با ضابطہ طور پران سے شعر وسخن کی اصلاح لینے لگے اور نہ صرف شوق کی شاگردی اختیار کی بلکہ ان کی شاگردی پر فخر بھی کیاجس کا تذکرہ انھوں نے آزاد کی کہانی خود ان کی زبانی میں شاعری میں شاگردی کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ اس زمانے میں ایسا ہوا کہ شاعری کے متعلق کتابوں کی جستجو میں رسالہ اصلاح اور ازاحۃ الاغلاط لکھنؤ سے منگوایا۔ یہ دونوں رسالے مولوی ظہیر احسن شوق نیموی کے تھے' اور فوائد متعلقہ ، شعر گوئی اور مبحث متروکات و تصحیح الفاظ میں بہت مفید ہیں۔ان رسالوں سے ان کی دیگر تصانیف کا حال معلوم ہوا ' اور پھر پٹنہ سے براہ راست انھیں لکھ کر تمام کتابیں منگوائیں۔ ان میں سرمہ تحقیق اور یادگار وطن بھی تھی۔ اس وقت جیسی طبیعت اور معاملات تھے ' اس کے لحاظ سے ان حالات کا بہت زیادہ اثر پڑا اور ان کی شاعرانہ واقفیت دل پر نقش ہو گئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے ان سے خط کتابت کی اور اصلاح لینا شروع کر دیا۔ اس میں شک نہیں کہ وہ بہت جی لگاکر اصلاح دیتے تھے اور بعض اوقات غزل کے ساتھ ایک ایک صفحے کے فوائد بھی' جن کا کچھ تعلق اشعار زیر اصلاح سے ہوتا تھا ' لکھتے تھے[1] اس کے علاوہ شوق نیموی کے بیٹے مولانا عبد الرشید فوقانی کی ملاقات جب کلکتہ میں مولانا آزاد سے ہوئی تو انھوں نے اس کا تذکرہ ان کے سامنے بھی کیا[2] شاعری میں مولانا آزاد کی شاگردی کے سلسلے میں مشہور اہل علم جناب مالک رام اپنے علمی مجلہ تحریر میں لکھتے ہیں :مولانا آزاد نے امیر مینائی مرحوم اور داغ مرحوم سے ابتدا میں اصلاح لی مگر اصلاح پسند نہ آئی تو ظہور میرٹھی سے جو نسبتاً کم معروف تھے اپنے کلام پر اصلاح لینے لگے، اس کے بعد تا آخر مشق سخن مولانا ظہیر احسن شوق نیموی کے حلقئہ تلمذ میں داخل رہے[3] ۔یہ وہی مولانا آزاد ہیں جنہوں نے غبار خاطر میں ایک جگہ ذوق ؔکے اشعار کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار اس طور پر کیا کہ ذوقؔ کے اشعار میں ہم اپنا ذوق نہیں پاتے۔ گویا ذوقؔ کو خاطر میں نہ لانے والا شخص شوقؔ کی شاگردی پر فخر کر رہا ہے۔ شوق نیموی کے شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے ،اپنی خود نوشت یادگاروطن میں انھوں اپنے باضابطہ اور صاحب دیوان شعرا شاگردوں کی تعداد 17 شمار کی ہے ۔ آزاد کے علاوہ شوق کے شاگردوں میں ضیاء عظیم آبادی اور زبیر دہلوی جیسے بڑے شاعروں کا بھی نام آتا ہے۔ علامہ کاخود اپنے اشعارکے بارے میں واضح نقطئہ نظر یہ تھاکہ:

وہی اشعار جن میں لطف کچھ رہتا ہے رکھتے ہیں

غزل میں شوق ہم بھرتے نہیں ہر رطب و یابس کو

شوق نیموی سے علامہ محدث ظہیر احسن شوق نیموی تک[ترمیم]

انھوں نے علم حدیث کے میدان میں بھی ایک بڑے حلقے کو متاثرکیا ہے اور فن حدیث میں آثار السنن جیسی لازوال اور بے مثال تصنیف چھوڑی جس نے اس وقت کے اکابرین اورمشائخ علما کو اپنا گرویدہ بنا لیا ؛چنانچہ مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ جن کا شمار ہندوستان کے مشہور عالموں میں ہوتا ہے اور خاص طور پر فن حدیث میں انھیں بڑا مقام حاصل ہے ، انھوں نے اپنی تصنیفات میں کثرت کے ساتھ علامہ نیموی کی تحقیقات تحریر کی ہیں اور بذل المجہود کی مستفاد کتابوں کی فہرست میں آثار السنن اور اس کی تعلیق کو بھی شمار کیا ہے ،مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی کتاب اعلاء السنن میں جا بجا علامہ نیموی کی تحقیقات سے استفادہ کیا ہے اور بطور سند انھیں پیش کیا ہے،شیخ الحدیث مولانا زکریا سہارنپوریؒ نے جب مؤ طا امام مالک کی شرح اوجزالمسالک لکھی تو علامہ نیمویؒ کی تحریروں کو حوالے کے طور پر پیش کیا ،اسی طرح مولانا حکیم عبد الحئ لکھنویؒ،مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اورشیخ عبد الحق مہاجر مکی ؒ جیسے ماہرین علم حدیث کو انھوں نے اپنے تبحر علمی کا معترف کیا ، لیکن ان اکابرین کے علاوہ بھی ایک اور شخصیت جو علامہ شوق نیموی ؒ کی علمی صلاحیت سے سب سے زیادہ متا ثر ہوئی اور اس گوہر نایاب کی قدر و قیمت کا کھل کر اعتراف کیا وہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ہے۔آخر جن کے نام میں شاہ لگا ہوا ہو' اور فن حدیث میں جن کی حیثیت جوہری کی ہو وہ اس گوہر نایاب کی قدر وقیمت کو نہ پہچانتے تو اور کون پہچانتا؟ جب کہ ہم اور آپ جانتے ہیں کہ قدرے گوہر شاہ داند یا بداند جوہری۔ چنانچہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے یہ اعتراف کیا کہ تین سو برس سے ہندوستان میں اس پایہ کا محدث پیدا نہیں ہوا یہی نہیں بلکہ علامہ انور شاہ کشمیری جب طلبہ کو درس حدیث دینے جاتے تھے تو بطور ریفرنس اور حوالہ علامہ شوق نیمویؒ کی آثار السنن کو ساتھ میں رکھتے تھے،انھوں نے شوق نیموی کی شان میں عربی زبان میں دو طویل قصیدے بھی لکھے ہیں جو آثار السنن کے اخیر میں مذکوربھی ہے، ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ عظیم آباد آکر علامہ شوق نیمویؒ سے ملاقات کرتے، لیکن قبل اس کے وہ آتے پیام اجل آپہنچا اور ان کی آرزو آرزو ہی رہ گئی ۔

تلامذہ[ترمیم]

شعر ادب میں آپ کے تلامذہ حسب ذیل ہیں:

حکیم عبد الحق اختر حاجی پوری

محمد یوسف بسمل پٹنی

منشی محمد بشیر بکاکوتی

منشی امیر الدین تطہیر عالم گنجی

ابو الخیر خیر بھیروی

عبد العزیز راغب

معز الدین تفسیر پورنوی

امیر الحسن شاغل پٹنی

حسن مرتضی شفق گیاوی

خدا بخش طالب ملتانی

تفضل حسین کامل پٹنی

معین الحق کاہش گیاوی

عبد الشکور عرشی پٹنی

عبد السبحان مائل پٹنی

عبد الواسع مذاق پٹنی

محفوظ الحق واصل پٹنی

سید ناظر حسین واقف پٹنی

مرزا علی رضا ضیا عظیم آبادی

زبیر دہلوی

مولانا ابوالکلام آزاد[4]

تصانیف[ترمیم]

علامہ شوق نیموی نے اپنے44 سالہ مختصر سے عرصہ حیات میں بہت سی کار آمد ،مفید ،معلوماتی اور عمدہ تصانیف چھوڑی ہیں جو درج ذیل ہیں:

"اوشحۃ الجید فی اثبات التقلید"مصنف نے اس میں تاریخ فقہ اسلامی، ارتقاءفقہ اسلامی اور تقلید پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے ، 110 صفحات پر مشتمل قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی زبان اردو ہے۔

"حبل المتین"آمین بالجہر کے رد میں یہ کتاب ہے۔

"رد السکین"مولانا سعید بنارسی نے "السکین" لکھی "حبل المتین" کے جواب میں تو اس کے جواب میں علامہ نیموی نے یہ کتاب لکھی 1312ھ میں قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی۔

"جامع الآثار فی اختصاص الجمعۃ بالامصار"علما اہل حدیث نے گاوں دیہات میں جمعہ کے جواز پر کتابیں لکھی تو حضرت نے اس کے جواب میں 16 صفحہ کا یہ رسالہ لکھا جو احسن المطابع پٹنہ سے شائع ہوا۔

"المقالۃ الکاملۃ"شیخ محمد علی اعظمی نے الاجوبۃ الفاخرۃ الفاضلۃلکھی جس میں حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت گنج مرادآبادی پر اعتراضات کیے اس کے جواب میں حضرت نے69 صفحات کا  یہ رسالہ لکھاجو 1308ھ میں قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔

"لامع الانوار لدفع الظلمۃ التی فی المذہب المختار" {اردو} محمد علی اعظمی نے علامہ نیموی کی کتاب جامع الآثار کے رد میں "المذہب المختار"نامی کتاب لکھی حضرت نے اس کے جواب میں 86 صفحات کا یہ رسالہ مرتب فرمایا۔

"جلاء العین فی رفع الیدین" 16 صفحات کےاس رسالہ میں رفع یدین کے سلسلہ میں بحث کی گئی ہے، قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔

"الدرۃ الغرۃ فی وضع الیدین علی الصدور وتحت السرۃ" 6 صفحات کے اس رسالہ میں وضع الیدین علی الصدور کی روایات جمع کرنے کے بعد ان پر جرح کی اور پھر صحیح احادیث سے وضع الیدین تحت السرۃ کو ثابت کیا۔

"تبیان التحقیق"{عربی} پانچ صفحات کے اس رسالہ میں شیخ نے اپنی قیمتی تحقیقات جمع کی اور آثار السنن کی اشاعت سے پانچ سال پہلے اس کو شائع کر دیا تھا۔

"تذئیل در بیان تقبیل" {اردو} دو صفحات کے اس رسالہ میں علما وصلحاء کی دست بوسی کے جواز اوسر فضیلت کو ثابت کیا گیا ہے۔

"وسیلۃ العقبی فی احوال المرضی والموتی"{فارسی} 50 صفحات کی اس کتاب میں مرض اور موت کی حقیقت اس پر صبر ادویات محرمہ سے اجتناب ، انتقال روح عن الجسم ، کیفیت سماع موتی ، نوحہ وغیرہ پر بحث کی گئی ہے،یہ کتاب 1384ھ میں قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی[5]۔

فن حدیث میں لکھی گئی ان کی تصنیف  آثار السنن کو شاہکار کی حیثیت حاصل ہے ، اس کتاب کے ما بہ الامتیازپر اگر ہم غور کریں تو اس کا سب سے بڑا امتیاز یہ نظر آتا ہے کہ علامہ شوق نیموی کا تحقیقی رنگ اس میں نمایاں ہے اور اسے پڑھ کر ان کی گراں قدر تحقیقات بلکہ ان کے صاحب رائے ہونے کا اندازہ ہوتا ہے ، متن کتاب میں 47 اور تعلیقات کی شمولیت کے ساتھ150مقامات پر علامہ شوق نیموی نے مضبوط دلائل کی روشنی میں 'قال النیموی' کے ذریعے اپنی رائے کا برملا اظہار کیا ہے اور ایسی نادر تحقیقات پیش کی ہیں جس پر متقدمین و متأخرین علما کی زبانیں خاموش نظر آتی ہیں ، گویا اس زاویے سے یہ کہنا چاہیے کہ وہ اپنی بعض تحقیقات میں موجد کی حیثیت رکھتے ہیں یقینایہ ان کی علمی صلاحیت کی واضح دلیل ہے اور اس کتاب کی عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ علامہ شوق نیموی کی آثار السنن آج بھی مختلف مدارس اور دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر میں داخل نصاب ہے۔ اور ایشیا کی عظیم دینی درسگاہ ازہر ہند دار العلوم دیوبند میں بھی نصاب کا حصہ رہی ہے ۔

اردو کی ادبی وشعری تصنیفات:

"ازاحۃ الاغلاط" یہ فارسی زبان کا ایک مفید رسالہ ہے ،1893ء میں قومی پریس لکھنؤ سے شایع ہوا ۔

"اصلاح" یہ اصلاح زبان کے حوالے سے لکھا گیا انتہائی مفید اور اہم رسالہ ہے اور اردو زبان وبیان کی درستی کے لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے ، 1893ء میں قومی پریس لکھنؤ سے شایع ہوا ۔

"سرمہ تحقیق" یہ رسالہ جلال لکھنوی کے اعتراضات کی رد میں لکھا گیا ہے ، 56صفحات پر مشتمل ہے۔

"دیوان شوق" جو نور الہدی نیموی نے مرتب کیا جو ان کے انتقال کے بعد 1326ھ  میں مطبع سیدی پٹنہ سے شایع ہوا۔

"نغمہ راز" یہ اردو زبان میں لکھی گئی، ایک پردرد مثنوی ہے ، جس پر قطعہ تاریخ ہندوستان کے مشہور شاعر امیرمینائی کا درج ہے ، یہ کتاب 38صفحات پر مشتمل ہے اور 1303ھ میں قومی پریس لکھنؤ سے چھپی۔

"سوزو گداز" یہ شوق نیموی کی معرکہ آرا مثنوی ہے، جس پر قطعہ تاریخ مشہور شاعر داغ دہلوی نے لکھا ہے ، نظامی پریس پٹنہ سے 1312ھ میں چھپی ، 46صفحات پر مشتمل ہے۔

"یادگار وطن" یہ شوق نیمی کی خود نوشت سوانح ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آزاد کی کہانی خود ان کی زبانی ، ص 149,148
  2. کتاب القول الحسن ص170
  3. مجلہ تحریر ، 1968
  4. یادگار وطن
  5. الشيخ ظهير أحسن شوق نيموي: حياته و آثاره في الحديث از: عتيق الرحمن