ظہیر احمد صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاعر ، محقق اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور شعبہ فارسی کے پرو فیسر اور ماہر اقبالیات

تعارف[ترمیم]

پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی گورنمنٹ کالج' لاہور کے شعبہ فارسی سے منسلک رہے. آپ نے 50 سے زائد کتب تحریر کی تھیں۔ اقبالیات میں آپ کی کتب عکسِ جاوید (جاوید نامہ کا منظوم اُردو ترجمہ)‘ مجلسِ مشاورتِ ابلیس (ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کا منظوم ترجمہ) اور علامہ اقبال اور فارسی زبان و ادب شامل تھیں۔

تصانیف[ترمیم]

ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی 50 سے زائد اردو اور فارسی کتب کے مصنف بھی تھے،جن میں پاکستان کی پہلی فارسی سے اردو لغت اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی 50سالہ تاریخ پر مبنی کتاب ’نصف صدی کا قصہ ‘بھی شامل ہیں، دیگر کتب یہ ہیں،

  • ادب میں جمالیاتی اقدار ایک مطالعہ
  • بچوں کے فانی
  • جدید شاعری
  • خواجہ میر درد
  • دبستان مومن
  • فانی کی شاعری
  • فکری زاویے
  • مومن خاں مومن
  • مومن شخصیت اور فن
  • میزان قدر
  • ادبی اور تنقیدی مضامین

وفات[ترمیم]

16 جنوری 2019ء کو 84 سال کی عمر پا کر لاہور میں رحلت فرما گئے

صدقہ جاریہ[ترمیم]

وہ طویل عرصہ اپنی تنخواہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں غریب طلبہ کو وظائف دینے کیلئے بنائے گئے انڈوومنٹ فنڈ ٹرسٹ کو دے دیتے رہے. ریٹائرمنٹ پر ملنے والے 50 لاکھ روپے بھی اسی فنڈ میں دے دئیے. 10لاکھ روپے اپنے والد مولوی شفیق احمد صدیقی کے نام سے گولڈن سکالر شپ کے اجراء کیلئے دئیے جو ہر سال شعبہ اسلامیات کے ایک طالبعلم کو میرٹ پر دیا جاتاہے۔ انہوں نے 14 کروڑ روپے مالیت کی 28 ایکڑ زمین اور دو کروڑ کا ایک پلاٹ بھی مستحق طلبہ کے وظائف کیلئے دے دیا. ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یونیورسٹی آتے رہے. جونئیر ساتھیوں کا ہاتھ بٹاتے. کچھ نہ کچھ کام کرکے جاتے. ان کے بڑے بیٹے مائیکروسوفٹ کے سربراہ بل گیٹس کے ایڈوائزر ہیں۔ چهوٹے بیٹے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلی’ عہدے پر فائز ہیں اور صاحبزادی ایف سی سی یونیورسٹی میں انگریزی کی استاد ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات