مندرجات کا رخ کریں

عائشہ لیمو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
حاجی   ویکی ڈیٹا پر  (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عائشہ لیمو
(انگریزی میں: Aisha Lemu)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Bridget Aisha Honey)  ویکی ڈیٹا پر  (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش سنہ 1940ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پول، انگلستان   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 جنوری 2019ء (7879 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مینا، نائجیریا [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مملکت متحدہ   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات شیخ احمد لیمو   ویکی ڈیٹا پر  (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عائشہ لیمو ایک برطانوی نژاد مصنفہ اور ماہر تعلیم تھیں جنھوں نے 1961 میں اسلام قبول کیا اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نائیجیریا میں دین اسلام کی خدمت اور خواتین کی تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ وہ نائیجیریا کی مشہور تنظیم فیڈریشن آف مسلم ویمن ایسوسی ایشن آف نائجیریا کی بانی اور پہلی قومی امیر بھی تھیں۔

زندگی

[ترمیم]

عائشہ لیمو 1940 میں برطانیہ کے شہر پول میں پیدا ہوئیں اور ان کا پیدائشی نام برجٹ ہنی تھا۔ محض 13 برس کی عمر میں انھوں نے مذاہب کا مطالعہ شروع کیا[2] اور بالآخر لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں تعلیم کے دوران اسلام قبول کر لیا۔[3] وہیں ان کی ملاقات اپنے مستقبل کے شوہر شیخ احمد لیمو سے ہوئی جو خود بھی ایک ممتاز عالم دین تھے۔[4]

1966 میں وہ نائیجیریا منتقل ہو گئیں اور کانو کے اسکول فار عربک اسٹڈیز میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ 1968 میں ان کی شادی شیخ احمد لیمو سے ہوئی، جس کے بعد وہ سوکوٹو منتقل ہو گئیں اور وہاں گورنمنٹ گرلز کالج کی پرنسپل مقرر ہوئیں۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی نائیجیریا کے تعلیمی نظام کی بہتری اور اسلامی نصاب کی تشکیلِ نو میں صرف کی۔

اسلامک ایجوکیشن ٹرسٹ

[ترمیم]

عائشہ لیمو اور ان کے شوہر نے مل کر "اسلامک ایجوکیشن ٹرسٹ" کی بنیاد رکھی جو نائیجیریا کی کئی ریاستوں میں سرگرم ہے۔ اس ٹرسٹ کے تحت لائبریری، اشاعتی ادارہ، پرائمری و سیکنڈری اسکول اور خواتین کے لیے بالغوں کے تعلیمی مراکز قائم کیے گئے۔ انھوں نے نائیجیریا کے تعلیمی تحقیقی ادارے کے اس پینل میں بھی خدمات انجام دیں جس کا مقصد مختلف تعلیمی سطحوں کے لیے قومی اسلامی نصاب کی تیاری اور نظرِ ثانی کرنا تھا۔

فیڈریشن آف مسلم ویمن ایسوسی ایشن آف نائجیریا کا قیام

[ترمیم]

1985 میں انھوں نے دیگر مسلمان خواتین کے ساتھ مل کر "فیڈریشن آف مسلم ویمن ایسوسی ایشنز آف نائیجیریا" کی بنیاد رکھی۔ وہ اس تنظیم کی پہلی قومی امیر منتخب ہوئیں اور چار سال تک اس کی قیادت کی۔[5] ان کی قیادت میں اس تنظیم نے نائیجیریا بھر میں مسلمان خواتین کو منظم کرنے اور انھیں سماجی و تعلیمی طور پر بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اعزازات اور وفات

[ترمیم]

تعلیمی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں نائیجیریا کی حکومت نے انھیں 2000 میں قومی اعزاز سے نوازا۔[6][7] عائشہ لیمو کا انتقال 5 جنوری 2019 کو نائیجیریا کی ریاست نائجر کے شہر مینا میں ہوا۔[8] ان کی تصانیف اور قائم کردہ ادارے آج بھی نائیجیریا اور افریقہ کے دیگر حصوں میں اسلامی تعلیمات کی ترویج کا بڑا ذریعہ ہیں۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

نائیجیریا میں اسلام

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 https://dailynigerian.com/author-of-islamic-studies-books-aisha-lemu-dies-at-79/
  2. "'Education Should Be Priority of All Muslim Women' – Aisha Lemu"۔ Africa News Service۔ 21 جنوری 2007۔ 2014-01-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-10-05
  3. Suraiya Nawab (1997)۔ The contribution of women to Muslim Society: a study of selected autobiographical and bibliographical literature (PDF)۔ Johannesburg: Rand Afrikaans University۔ 2014-01-06 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-10-30
  4. Muhammad Umaru Ndagi: Two things I hate to remember – Sheikh Ahmed Lemu. From: Weekly Trust, May 4, 2013
  5. "Reference at thenationonlineng.net"۔ The Nation۔ Lagos, Nigeria
  6. "Sheroes Tribute Bridget Aisha Lemu www.sheroes.ng"۔ 11 جنوری 2019
  7. "Aisha Lemu, British convert to Islam who became a prominent scholar and educationist in Nigeria – obituary"۔ The Telegraph۔ 13 جنوری 2019
  8. Jaafar Jaafar (5 Jan 2019). "Author of Islamic Studies books, Aisha Lemu, dies at 79". Daily Nigerian (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2019-01-05.