عائلی عدالت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عائلی عدالت (انگریزی: Family court) ان سبھی مقدمات کی سماعت کرتی ہے جو خاندانی تعلقات اور گھریلو رشتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ ہر ریاست اور ہر ملک کے اپنے مختلف نظام ہیں جن کو بہ روئے کار لاتے ہوئے خاندانی قانونی معاملات کا حل نکالا جاتا ہے جو ازدواجی زندگی سے متعلق ہوتے ہیں۔ [1]

عائلی عدالتوں کے عمومی مقدمات[ترمیم]

ائلی عدالتیں عمومًا ازدواجی مسائل سے جوجتے ہیں۔ اس میں یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ اگر شوہر اور بیوی میں نااتفاقی ہو، تو کن بنیادوں پر طلاق دیا جانا چاہیے اور کن بنیاد پر طلاق کی درخواستوں کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی طے کرنا ہوتا ہے کہ اگر فی الواقع طلاق ہو ہی جائے تو بیوی کے گزارے کی کیا صورت طے ہو۔ عمومًا کئی ملکوں میں جب تک طلاق شدہ عورت پھر سے شادی نہ کر لے شوہر پر گزارہ لازم ہو سکتا ہے۔ تاہم کچھ استثنائی معاملات بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کہ شوہر کا دیوالیہ پن، اس کا اپاہج ہونا، وغیرہ جس میں عدالت کچھ اور فیصلہ سنا سکتی ہے۔ یہ بھی ایک مسئلہ طے ہونا ہوتا ہے کہ طلاق کی صورت میں خاندان کی جائداد کی تقسیم کیسے ہوگی۔ اکثر بیوی شوہر کی جائداد میں آدھے کی حق دار قرار پاتی ہے۔ شادی سے ہونے والے بچوں کی پرورش اور نگرانی بھی ایک مسئلہ ہے۔ عمومًا بچوں کی ذمے داری عدالتیں ماں کے ذمے دیتے ہیں، مگر یہ بھی صورت حال پر مبنی ہو سکتا ہے اور عدالتیں کبھی یہ ذمے داری باپ کو بھی دے سکتے ہیں۔

مذہبی عدالتیں، جیسے کہ شرعی عدالتیں ان موضوعات پر اپنا الگ نقطہ نظر رکھ سکتی ہیں اور الگ فیصلے سنا سنا سکتی ہیں۔ بھارت جیسے ملک میں اسلام اور دیگر مذہبی ماننے والوں کے عائلی قوانین الگ ہیں۔ ہندو عائلی قوانین عومًا قانونی فیصلوں یا ریاستی قانون سازی کے تابع ہیں، جب کہ مسلمان کسی ایک مکتب فکر کے طرز پر سوچتے ہیں، جیسے کہ فقہ حنفی، شافعی یا اہل حدیث۔ اس کے علاوہ شیعہ اور کچھ دیگر مسلمان اپنا الگ عائلی قانون رکھتے ہیں۔ مسیحی افراد اور پارسی افراد اپنے الگ عائلی قانون بنا چکے ہیں۔ بھارت میں سیول شادیوں پر ایک الگ قانون چلتا ہے جس کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ اس خصوص میں عائلی عدالتیں سابقہ نظیروں کی روشنی میں فیصلے صادر کرتی ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Types Of Cases Tried And Role Of Court". family.laws.com. 2013. اخذ شدہ بتاریخ 31 جولائی 2013.