عابد رضوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید عابد رضوی
پیدائش 1938ء
کوئٹہ، پاکستان
قلمی نام سید عابد رضوی
پیشہ براڈکاسٹر، مصنف ، سماجی کارکن
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم ایم اے اردو
مادر علمی جامعہ بلوچستان
موضوع سماجی خدمت

سید عابد رضوی پاکستان کے بہت قابل وتجربہ کار براڈ کاسٹراور سماجی کارکن ہیں ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سید عابد رضوی 1938ء میں کوئٹہ میں ایک معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ یہ گھرانہ دودہائی قبل چکوال پنجاب سے جا کر کوئٹہ میں آباد ہوا تھا۔ عابد رضوی نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ ہی سے صاصل کی۔ 1962ء میں بلوچستان یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم۔ اے کیا ۔

کیرئیر کا آغاز[ترمیم]

سید عابد رضوی نے 1965ء میں بطور پروڈیوسر ریڈیو پاکستان میں ملازمت کا آغاز کیا۔ انہوں نے کوئٹہ اور تربت ریڈیو اسٹیشن دونوں پر اپنی خدمات انجام دیں اور سینئیر پروڈیوسر، پروگرام منیجر اور پھر اسٹیشن ڈائریکٹر کوئٹہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سید عابد رضوی نے دورانِ ملازمت دو سو سے زائد تربیتی ورکشاپز اور سیمینارز میں شرکت کی ۔[1]ان کی اہلیہ عارفہ رضوی صاحبہ بھی ریڈیو پاکستان کے شعبہِ نیوز سے وابستہ تھیں۔ جو 1978 میں وفات پا گئیں۔ وہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر نیوز ریڈر تھیں۔ سید عابد رضوی نے ریڈیو پاکستان میں اپنی خدمات کے دوران ہالینڈ، انڈونیشیا، ملائشیا، سنگاپور میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ میں بھی ریڈیو پاکستان کی نمائندگی کی۔ اور 1976ء میں بی بی سی لندن کی تربیتی اسائنمنٹ میں بھی حصہ لیا۔ ریڈیو پاکستان پرطویل خدمات کے بعداگرچہ وہ 1998ء میں اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ تاہم انہیں 1998ء سے 2005ء تک پروگرام ایڈوائزر کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں خدمات انجام دیں۔ ریڈیو کے ساتھ ساتھ انہوں نے تقریباََ 25 سال تک پاکستان ٹیلی وژن کے مختلف ادبی، مذہبی، سماجی اور تفریحی پروگراموں میں بحیثیت میزبان بھی شرکت کی اور پی ٹی وی کے قومی نشریاتی رابطے کے پروگرام محفل شبینہ کے لیے 12 سال تک کوئیٹہ مرکز سے رابطہ کار رہے۔

سید عابد رضوی نے 1994ء میں ایس پی او، پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ اور جاوید جبار کی قیادت اور معاونت میں انہوں نے سماجی خدمات کے پراجیکٹس کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ایس پی او، پاکستان میں وہ نہ صرف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے منتخب ممبر رہے بلکہ 2003 -2005 اور 2003 تا 2006 تک مسلسل دو بار وائس پریذیڈنٹ کی حیثیت سے رہنمائی کی ۔[2] بعض نجی وجوہات کے باعث 2005 میں انہوں نے راولپنڈی میں سکونت اختیارکر لی ہے۔ اور آج کل بھی وہیں مقیم ہیں ۔

ادبی سرگرمیاں[ترمیم]

سیدعابد رضوی نے ریڈیو پاکستان پر اپنی خدمات کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے ادبی حلقوں میں بھی اپنی خدمات جاری رکھیں اور وہ نہ صرف ادبی تنظیم " قلم قبیلہ " کے 15 برس تک جنرل سیکریٹری رہے ہیں اور اس حوالے سے ہر سال کل پاکستان مشاعرے اور ادبی سیمینار منعقد کیے۔ بلکہ سہ ماہی میگزین "قلم قبیلہ" کوئٹہ کے مدیر کی حیثیت بھی کام کیا۔[3]انہوں نے اس دوران بہت سی ادبی اور ثقافتی کانفرنسز کے انعقاد کا بھی اہتمام کیا۔ سید عابد رضوی خود بھی ایک عرصے تک شاعری کے میدان میں سرگرام رہے اور غزلیں ،نظمیں، قصائد، خاص طور پر سانیٹ ( چودہ مصرعوں کی غزل ) کہنے میں پہچانے گئے ۔۔ علامہ نیاز فتح پوری نے 1974ء میں اپنے رسالے نگار کے ایک شمارے میں سانیٹ کی ایک کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے سید عابد رضوی کے اس فن کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ سید عابد رضوی تحت الفاظ مرثیہ پڑھنے میں بلوچستان میں ازحد مقبول رہے۔ اور برسوں محرم کے ابتدائی عشرے میں مرثیہ کی مجالس منعقد کر کے اہل بلوچستان میں مرثیہ کا ذوق پیدا کیا۔

نمونہِ کلام[ترمیم]

غزل کے اشعار

یوں بھی پہنچے ہیں سر منزل کئی اہل وفاایک کاغذ کا سفینہ ، ایک شیشے کی ردا
اس قدر قربت میں بھی تجھ سے بہت ہیں دوریاںتو رواں نہر فرات اور میں زمین کربلا
اپنے اپنے طرہ و دستار کی لینا خبرپا چکا ہے اب غریب شہر بھی دست رسا
عہد ناپرساں نے ان سب کی لگا دیں قیمتیںاہل دل ، اہل طلب، اہل خرد ، اہل صفا
نا کسی چہرے پہ رنگت، نا کسی لب پر ہنسیشہر میں اب کے چلی ہے وسوسوں کی وہ ہوا
ان گئے برسوں میں عابد جب پکارا ہے اسے
لوٹ کر آتی رہی ہے اک فقط اپنی صدا

٭٭٭

لمحہ فکر ( ایک سانیٹ)

دوستو صبح بہاراں کا ترانہ چھیڑو
ذکر دشوارئ منزل تو کوئی بات نہیں
ہیں جو زخمی جگر و دل تو کوئی بات نہیں۔
آبلے پاؤں کے روکیں بھی تو چلتے ہی رہو
کون جانے کہ بس اک چشم زدن میں کیاہو
کوئی مشکل ہے جو حائل تو کوئی بات نہیں
شمع ارماں ہے مقابل تو کوئی بات نہیں
پو پھٹے گی ابھی اے مہر و وفا کے مارو
آج رہ رہ کے خیال آتا ہے اے ادب وطن
تیری آغوش میں راحت بھی ملے گی کہ نہیں
تیرے چہرے کی صباحت ، تیرے ماتھے کی شکن
خندہ صبح بہاراں سے سجے گی کہ نہیں
نور خورشید سے دھل جائیں گے جب دشت و دمن
جانے پھر تو مجھے پہچان سکے گی کہ نہیں

٭٭٭

آزاد نظم : درد

وہ جو کبھی تھا

آج نہیں ہے

آج فقط اک لفظ بنا ہے

ایسا لفظ

جس کے اک اک حرف میں

میرا درد چھپا ہے

درد جو اک نعمت ہے

لیکن

جس بد بخت کو راس آ جائے

تصانیف[ترمیم]

  1. ممتا ہی ممتا (1998ء)[4]
  2. گل زمین (1975ء)
  3. [5]Meet my / our friend JJ

مختلف سماجی اور ادبی تنظیموں کی ممبر شپ اور سربراہی[ترمیم]

  1. سہ ماہی "قلم قبیلہ" کوئٹہ کے مدیر رہے ۔
  2. ادبی تنظیم " قلم قبیلہ " کے اعزازی سیکرٹری رہے۔
  3. ایس پی او کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے منتخب ممبر ہیں ۔
  4. ایس پی او کے مسلسل دو بار وائس پریذیڈنٹ منتخب ہوئے ۔
  5. ترقی فاؤنڈیشن کے چئیر مین رہے اور 2005 سے اس کے ایڈوائزر ہیں ۔
  6. واٹر انوائرنمنٹ اینڈ سینیٹیشن سوسائٹی (WESS)، کوئٹہ کے چئیر پرسن ہیں ۔
  7. ہیومین ریسورس ڈویلوپمنٹ نیٹ ورک کے بورڈ آف دائریکٹرز کے سابقہ ممبر
  8. لوک سنگت، اسلام آباد کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان

ایوارڈ[ترمیم]

  1. 1981میں ایشین براڈ کاسٹنگ یونین کی طرف سے ان کے پروگرام " ڈی ماؤنٹین اینڈ ڈی چائلڈ " کو اے بی یو انٹرنیشنل پروگرام کمپٹیشن میں پہلا انعام ملا
  2. 1993میں انہیں یونیسیف کی جانب سے انکا " دیہی تعلیم " پر پیش ہونے والا پروگرام، بہترین پروگرام اور اول انعام کا حقدار پایا۔
  3. 2002 میں ریڈیو پاکستان کی طرف سے لائف ٹائم ایچویمنٹ ایوارڈ ملا۔
  4. 21 فروری 2019 کو ایس پی او کے ادارے کی جانب سے 25 سالہ خدمات پر لائف ٹائم ایچویمنٹ ایوارڈ ملا۔

مختلف انٹرنیشنل کانفرنسز اور سیمینارز میں شرکت[ترمیم]

  1. تھائی لینڈ میں منعقدہ ایشین انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سینٹر (AMIC)، سنگاپور سیمینار میں شرکت
  2. 2002 میں کمیونٹی ریڈیو کے تحت کھٹمنڈو میں منعقدہ انٹرنیشنل ورکشاپ میں شرکت
  3. 2003 میں نیپال میں اے ایم اے آر سی(AMARC) ورلڈ اسمبلی میں شرکت
  4. 2005 میں اے ایم اے آر سی(AMARC) کانفرنس، جکارتہ، انڈونیشیا میں شرکت# 2006 میں عمان، اردن میں اے ایم اے آر سی(AMARC) ورلڈ اسمبلی میں شرکت
  5. 2007 میں انٹرنیشنل ٹرینرز ریٹریٹ، دوبئی میں شرکت
  6. اپریل 2008 میں قاہرہ، مصر میں منعقدہ " ایکویٹی اینڈایکویلٹی "سیمینار میں شرکت
  7. 2013 میں ازبکستان کا دورہ کیا ۔
  8. 2014 میں SPO کی میٹنگ کے سلسلے میں تھائی لینڈ اور ملائشیا گئے ۔

مزید پڑھیے[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]