عارف عبد المتین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عارف عبد المتین
معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1923  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
امرتسر،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 جنوری 2001 (78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن میانی صاحب قبرستان،  لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر،  ادبی تنقید نگار،  مدیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  پنجابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل غزل،  ادبی تنقید،  نعت،  ادارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

عارف عبد المتین (پیدائش: یکم مارچ، 1923ء - وفات: 30 جنوری، 2001ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر اور نقاد تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

عارف عبد المتین یکم مارچ، 1923ء کو کٹڑہ جمیل سنگھ، امرتسر، برطانوی ہندوستان میں خواجہ عبد الحمید کے گھر پیدا ہوئے[1][2][3][4]۔ امرتسر سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ لاہور آ گئے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کئی ادبی جریدوں کی ادارت کی جن میں ادب لطیف، سویرا، جاوید، اوراق اور ماحول کے نام شامل ہیں۔ 1970ء میں انہوں نے جامعہ پنجاب سے ایم اے کا امتحان پاس کیا، جس کے بعد وہ گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور میں اسلامیات کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پھر تمام عمر تدریس کے پیشے سے وابستہ رہے۔[4]

ادبی خدمات[ترمیم]

عارف عبد المتین کا شمار اردو اور پنجابی کے اہم جدید شعرا میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک نقاد کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کے مجموعے دیدہ و دل، آتشِ سیال، موج در موج،صلیبِ غم، اکلاپے دا مسافر، سفر کی عطا، دریچے اور صحرا اور امبر تیری تھاں کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔ جبکہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے امکانات اور پرکھ پڑچول بھی پڑھنے والوں نے بہت پسند کیے۔ پرکھ پڑچول پر انہیں پاکستان رائٹرز گلڈ کا انعام بھی ملا۔[4]

تصانیف[ترمیم]

شاعری[ترمیم]

  • خشبو دا سفر
  • دھوپ کی چادر
  • حرف دعا
  • موج در موج
  • آتشِ سیال
  • دریچے اور صحرا
  • صلیب غم
  • دیدہ دل
  • بے مثال (نعتیہ مجموعہ، 1985ء)
  • امبر تیری تھاں (پنجابی نعتیہ مجموعہ، 1990ء)

تنقید[ترمیم]

  • امکانات
  • پرکھ پڑچول

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

میں جس کو راہ دکھاؤں وہی ہٹائے مجھےمیں نقش پا ہوں کوئی خاک سے اٹھائے مجھے
مہک اٹھے گی فضا میرے تن کی خوشبو سےمیں عود ہوں کبھی آ کر کوئی جلائے مجھے
چراغ ہوں تو فقط طاق کیوں مقدر ہوکوئی زمانے کے دریا میں بھی بہائے مجھے
میں مشت خاک ہوں صحرا مری تمنا ہےہوائے تیز کسی طور سے اڑائے مجھے
اگر مرا ہے تو اترے کبھی مرے گھر میںوہ چاند بن کے نہ یوں دور سے لبھائے مجھے
وہ آئینے کی طرح میرے سامنے آئے مجھے نہیں تو مرا عکس ہی دکھائے مجھے
امنڈتی یادوں کے آشوب سے میں واقف ہوںخدا کرے کسی صورت وہ بھول جائے مجھے
وفا نگاہ کی طالب ہے امتحاں کی نہیںوہ میری روح میں جھانکے نہ آزمائےمجھے

غزل

زمیں سے تا بہ فلک کوئی فاصلہ بھی نہیںمگر افق کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں
سنا ہے سبز ردا اوڑھ لی چمن نے مگرہوا کے زور سے برگِ خراں گرا بھی نہیں
بہت بسیط ہے دشتِ جفا کی تنہائیقریب و دور کوئی آہوئے وفا بھی نہیں
مجھے تو عہد کا آشوب کرگیا پتھرمیں درد مند کہاں درد آشنا بھی نہیں
کبھی خیال کے رشتوں کو بھی ٹٹول کے دیکھمیں تجھ سے دور سہی تجھ سے کچھ جدا بھی نہیں
قدم قدم پہ شکستوں کا سامنا ہے مگر یہ دل وہ شیشۂ جاں ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں
مرے وجود میں برپا ہے اس خیال سے حشرجو میرے ذہن میں پیدا ابھی ہوابھی نہیں
میں جس کے سحر سے کوہِ ندا تک آ پہنچاوہ حرف ابھی مرے لب سے ادا ہوا بھی نہیں
میں ایک گنبدِ بے در میں قید ہوں عارفمری نوا کا سفرورنہ بے ردا بھی نہیں


اعزازات[ترمیم]

عارف عبد المتین کو ان کی ادبی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان کی جانب سے 1992ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی دیا گیا۔[5]

وفات[ترمیم]

عارف عبد المتین 30 جنوری، 2001ء کو ریاستہائے متحدہ امریکا میں وفات پا گئے۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[3][4][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حمید اللہ ہاشمی، مختصر تاریخ زبان و ادب پنجابی، ادارہ فروغ قومی زبان پاکستان، 2018ء، ص 290
  2. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات نعت گویان پاکستان، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، اگست 2015ء، ص 72
  3. ^ ا ب عارف عبد المتین، بائیو ببلوگرافی ڈاٹ کام، پاکستان
  4. ^ ا ب پ ت عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ پبلی کیشنز، کراچی، 2010ء، ص 360
  5. حمید اللہ ہاشمی، مختصر تاریخ زبان و ادب پنجابی، ادارہ فروغ قومی زبان پاکستان، 2018ء، ص 292