عارف علوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عارف علوی
(انگریزی میں: Arif Alvi)،(اردو میں: عارف علوی‎ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
تفصیل=

تیرہویں صدر پاکستان
آغاز منصب
9 ستمبر 2018ء
وزیر اعظم عمران خان
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ممنون حسین
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن قومی اسمبلی پاکستان
مدت منصب
13 اگست 2018ء – 6 ستمبر 2018ء
مدت منصب
1 جون 2013ء – 31 مئی 2018ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png خوش بخت شجاعت
حلقہ ختم ہو گیا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 29 جولا‎ئی 1949 (69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
جماعت پاکستان تحریک انصاف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ثمینہ علوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 4   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی پیسفک یونیورسٹی
مشی گن یونیورسٹی
ڈی مونٹمورنسی کالج آف ڈینٹسٹری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ دندان ساز،سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عارف الرحمان علوی (پیدائش 29 جولائی 1949ء) ایک پاکستانی سیاست دان جو تیرہویں اور موجودہ صدر پاکستان ہیں۔

وہ اگست 2018ء سے قومی اسمبلی پاکستان کے رکن ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ جون 2013ء سے مئی 2018ء تک قومی اسمبلی پاکستان کے رکن رہ چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے متحرک اور بانی اراکین میں سے ایک عارف علوی صدارتی انتخابات کے بعد 4 ستمبر 2018ء کو صدرِ پاکستان منتخب ہوئے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

وہ 29 جولائی 1949ء[1][2][3][4] کو کراچی، پاکستان[5] میں پیدا ہوئے۔ کچھ ذرائع کے مطابق وہ 29 اگست 2018ء کو کراچی میں پیدا ہوئے[6] جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق وہ 1947ء میں پیدا ہوئے تھے۔[7][8]

ان کے والد بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے دندان ساز تھے[9] جو پاکستان کے قیام کے بعد کراچی ہجرت کر کے آئے تھے۔[6] کراچی آ کر عارف علوی کے والد نے صدر ٹاؤن میں ڈینٹل کلینک کھولا تھا۔[7] ان کے والد، حبیب الرحمان الٰہی علوی سیاسی طور جماعت اسلامی پاکستان سے منسلک تھے۔[3]

کراچی سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے[10] بعد، وہ سنہ 1967ء میں مزید تعلیم کے حصول کے لیے لاہور آ گئے۔[3] انہوں نے ڈی مونٹمورنسی کالج آف ڈینٹسٹری، لاہور سے ڈینٹل سرجری میں بیچلر (بی ڈی ایس) کی سند حاصل کی۔ اور سنہ 1975ء میں مشی گن یونیورسٹی سے پروستھوڈونٹکس میں ماسٹرز کیا۔[11] سنہ 1984ء میں سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف پیسفک سے ارتھوڈانٹکس میں ماسٹرز کیا۔[12] پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے دندان سازی پریکٹس کرنا شروع کی اور علوی ڈینٹل ہسپتال قائم کیا۔[10]

عارف علوی نے ثمینہ علوی سے شادی کی تھی جن سے ان کے چار بچے ہیں جو خود بھی شادی شدہ ہیں۔[13]

پیشہ ورانہ زندگی

سنہ 1997ء میں عارف علوی امریکن بورڈ آف ارتھوڈانٹکس کے سفیر بنے۔ انہوں نے پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کا آئین تیار کیا اور اس کے صدر بنے۔ سنہ 1981ء میں وہ پہلی پاکستان انٹرنیشنل ڈینٹل کانفرس کے چیئرمین اور 28ویں ایشیا پیسفک ڈینٹل کانگریس کے چیئرمین بنے۔[7][8]

وہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے شعبہ ارتھوڈانٹکس کے ڈین رہے۔ سنہ 2006ء میں وہ ایشیا پیسفک ڈینٹل فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے اگلے سال وہ ایف ڈی آئی ورلڈ ڈینٹل فیڈریشن کے کونسلر بنے۔[7][8]

سیاسی زندگی

عارف نے سیاسی زندگی ایک پولنگ کارندے کے طور پر شروع کی اور ایک مذہبی جماعت میں شامل ہو گئے۔[14]

ڈی مونٹمورنسی کالج آف ڈینٹسٹری سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں وہ اسٹوڈنٹ یونین کے متحرک رکن تھے۔[15] وہ جماعت اسلامی پاکستان کے یوتھ وِنگ اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک تھے[16] اور بعد میں کالج کے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر بنے۔[17] اپنے ابتدائی ایام میں وہ ایوب خان نظام حکومت کے مخالف تھے اور سنہ 1969ء میں مال روڈ، لاہور کے مقام پر ایوب خان مارشل لا کے خلاف کرفیو کے دوران میں احتجاج کرنے پر انہیں دو مرتبہ گولیاں لگیں جن کے نشانات آج بھی ان کے جسم میں پیوست ہیں۔[6]

جب ذوالفقار علی بھٹو نے 7 جنوری 1977ء کو انتخابات کا اعلان کیا تو وہ ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہو گئے۔[10]

انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے 1979ء میں کراچی سے سندھ صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن بھی لڑا[18][19][15] مگر انتحاب میں کامیاب نہ ہو سکے۔[3] سنہ 1988ء میں انہوں نے جماعت اسلامی کو خیر آباد کہہ دیا اور سیاست چھوڑ دی۔[3] عارف علوی کا کہنا ہے کہ پارٹی چھوڑنے کی وجہ ان لوگوں کے سیاست کے تئیں تنگ نظریہ پر میری خودداری ہے اور انہوں نے ہمیشہ یہ مانا ہے کہ ”ایماندار قیادت ہی پاکستان کے مسائل کا حقیقی حل ہے۔“[14]

سنہ 1996ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔[15] اور ان کا شمار پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں ہوتا ہے۔[20][14] وہ پی ٹی آئی کی جماعت کے آئین کی تیاری میں شریک تھے۔[7]

سنہ 1996ء میں وہ پی ٹی آئی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ایک سال کے لیے رکن بنے اور سنہ 1997ء میں وہ پی ٹی آئی سندھ کے صدر بن گئے۔[21]

عارف علوی نے سندھ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے بطور پی ٹی آئی امیدوار حلقہ پی ایس-89 (کراچی جنوبی 5) سے پاکستان کے عام انتخابات، 1997ء میں شرکت کی، لیکن ناکام رہے۔[21] انہوں نے 2,200 ووٹ حاصل کیے سلیم ضیاء سے نشست ہار گئے۔[22][3]

سنہ 2001ء میں وہ پی ٹی آئی کے نائب صدر بنے۔[21]

اس کے بعد سندھ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے پاکستان کے عام انتخابات، 2002ء میں حلقہ پی ایس-90 (کراچی-2) سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے لیکن ناکام رہے،[21] صرف 1,276 ووٹ حاصل کر سکے اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار عمر صادق سے نشست ہار گئے۔[23]

عارف علوی پاکستان تحریک انصاف کے 2006ء سے 2013ء تک سیکرٹری جنرل رہے۔[21][24][25]

عارف علوی نے پہلی بار پاکستان قومی اسمبلی کی نشست پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر پاکستان کے عام انتخابات، 2013ء میں حلقہ این اے-250 (کراچی-12) سے جیتی۔[26][27] انہوں نے 77,659 ووٹ حاصل کیے اور خوش بخت شجاعت کو شکست دی۔[28]

2013ء کے انتخابات میں علوی واحد پی ٹی آئی امیدوار تھے جو سندھ سے منتخب ہوئے۔[29]

2016ء میں، وہ پی ٹی آئی سندھ چیپٹر کے صدر منتخب ہوئے۔[20]

پاکستان قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء میں این اے-247 (کراچی جنوبی-2) سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے اور دوبارہ منتخب ہو گئے۔[30][31] انہوں نے 91,020 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مدِ مقابل تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار سید زمان علی جعفری کو شکست دی۔[32]

18 اگست 2018ء کو پاکستان تحریک انصاف نے انہیں صدر پاکستان کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا تھا۔[33] وہ 4 ستمبر 2018ء کو پاکستان کے صدارتی انتخابات، 2018ء میں تیرہویں صدرِ پاکستان منتخب ہوئے۔[34] انہوں نے 352 ووٹ حاصل کیے اور فضل الرحمٰن (184 ووٹ) اور اعتزاز احسن (124 ووٹ) کو شکست دی۔[35][36] صدر منتخب ہونے پر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان اور سیاسی اتحاد کا ان کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔[37] 5 ستمبر 2018ء کو انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفی دے دیا۔[38]

وہ دنیا کے اب تک کے دوسرے دندان ساز ہیں جنہیں صدارت کا منصب ملا، پہلے ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف ہیں۔[39] وہ تیسرے پاکستانی صدر ہیں جن کا خاندان تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے بھارت سے پاکستان آیا۔[9]

چین کے صدر شی جن پنگ اور امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی[40] نے عارف علوی کو صدراتی انتخابات میں ملنے والی کامیابی پر مبارک باد دی اور امید ظاہر کی ہے کہ نئی قیادت کے دور میں پاک چین اور پاک قطر تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔[40][41]

9 ستمبر 2018ء کو عارف علوی نے تیرہویں صدر مملکت کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا، اس سے قبل ممنون حسین اس منصب پر فائز تھے۔[42]

پی ٹی وی حملے کا مقدمہ 2014ء

31 اگست 2014ء میں آزادی مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کے صدر دفاتر پر دھاوا بول دیا۔[43] پی ٹی وی کے صدر دفاتر پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر عارف علوی کا نام پولیس مقدمہ میں درج کیا گیا تھا۔[44] نومبر 2014ء میں انسداد دہشت گردی عدالت نے عارف علوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔[45]

پی ٹی وی صدر دفاتر پر حملہ کرنے میں ملوث ہونے کی وجہ سے مارچ 2015ء میں عارف علوی کی قومی اسمبلی پاکستان کی رکنیت معطل کروانے کے لیے عدالت عالیہ سندھ میں ان کے خلاف پٹیشن (عرض داشت) دائر کی گئی تھی۔[46][47] بعد ازاں، پولیس نے عارف علوی کے خلاف 2014ء کے احتجاج کے دوران اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزام میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق کیا تھا۔[48]

جنوری 2018ء میں عارف علوی کا خود کو حوالے کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں عبوری ضمانت پر رہا کر دیا۔[49] ستمبر 2018ء میں صدر پاکستان منتخب ہونے کے بعد، عارف علوی کے وکیل نے کہا ”عارف علوی صدر منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے وہ استثنیٰ سے فائدہ اٹھائیں گے اور ان کے خلاف مجرمانہ مقدمات نہیں چلائے جا سکتے۔“[48]

حوالہ جات

  1. "Arif Alvi — 13th President of Pakistan - Daily Times"۔ ڈیلی ٹائمز۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2018۔ 
  2. "Dr Arif Alvi: Two interesting facts"۔ دی نیوز (انگریزی زبان میں)۔ 5 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2018۔ 
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث "ڈاکٹر عارف الرحمان علوی نے سیاسی سفر کا آغاز جماعت اسلامی سے کیا"۔ نوائے وقت۔ 3 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  4. "Detail Information"۔ 21 اپریل 2014۔ اصل سے جمع شدہ 21 اپریل 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 جولائی 2017۔ 
  5. "From dentist’s office to President House"۔ دی نیشن۔ 5 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2018۔ 
  6. ^ ا ب پ ریاض سہیل (4 ستمبر 2018)۔ "ڈینٹسٹ سے صدر پاکستان کا سفر"۔ بی بی سی اردو۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  7. ^ ا ب پ ت ٹ "Pakistan new President Arif Alvi is son of Nehru's dentist"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  8. ^ ا ب پ "Newly-elected President Arif Alvi is son of Nehru’s dentist"۔ پاکستان ٹوڈے۔ 5 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2018۔ 
  9. ^ ا ب "عارف علوی کے والد بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے دندان ساز"۔ جیو ٹی وی۔ 5 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2018۔ 
  10. ^ ا ب پ "ڈاکٹر عارف علوی - طلبہ سیاست سے ایوانِ صدر تک -"۔ اے آر وائے نیوز۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  11. "The cleric, the lawyer and the partyman | The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹربینو۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  12. "Who is Arif Alvi?"۔ دنیا نیوز۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  13. "Dr Arif ur Rehman Alvi – 10 things to know about the newly elected 13th President of Pakistan"۔ دنیا نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  14. ^ ا ب پ "Extraordinary Pakistanis: Dr Arif Alvi – The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ 25 جون 2015۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ26 فروری 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 فروری 2017۔ 
  15. ^ ا ب پ "Profiles: Pakistan’s presidential candidates"۔ جیو نیوز۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  16. "Alvi set to grab presidency in a three-way race – Daily Times"۔ ڈیلی ٹائمز۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  17. "Who is Dr Arif Alvi?"۔ دی نیوز (انگریزی زبان میں)۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  18. "پروفائلز: صدر پاکستان کے امیدوار کون ہیں؟"۔ جیو نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  19. "Arif Alvi set to be elected President today"۔ دی نیشن۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  20. ^ ا ب "Political reshuffle Dr Arif Alvi new PTI Sindh president – The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ 9 اگست 2016۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ26 فروری 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 فروری 2017۔ 
  21. ^ ا ب پ ت ٹ حسن منصور (19 اگست 2018)۔ "Arif Alvi: The ‘founder’ of PTI also rises"۔ ڈان۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 اگست 2018۔ 
  22. "Sindh Assembly election results 1988–97"۔ الیکشن کمیشن پاکستان۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  23. "2002 election results"۔ الیکشن کمیشن پاکستان۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ26 جنوری 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  24. "Arif Alvi’s name being considered for new president: Imran Ismail"۔ www.pakistantoday.com.pk۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ18 اگست 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  25. "Imran Khan's party nominates Dr Arif Alvi for Pak president's post"۔ بزنس اسٹینڈرڈ انڈیا۔ 18 اگست 2018۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ18 اگست 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  26. "Karachi partial re-polling: PTI’s Arif Alvi wins NA-250 seat – The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ 20 مئی 2013۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ27 فروری 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 فروری 2017۔ 
  27. "NA-250 PTI candidate Arif Alvi wins"۔ ڈان (انگریزی زبان میں)۔ 20 مئی 2013۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ27 فروری 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 فروری 2017۔ 
  28. "2013 election results"۔ الیکشن کمیشن پاکستان۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ1 فروری 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  29. "Pyrrhic victory? The battle for NA-250"۔ ڈان (انگریزی زبان میں)۔ 21 مئی 2013۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ27 فروری 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 فروری 2017۔ 
  30. "PTI's Arif Alvi elected new Pakistan president: Reports"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  31. "Call for probe into more discarded ballot papers" (انگریزی زبان میں)۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ3 اگست 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 اگست 2018۔ 
  32. "NA-247 Result – Election Results 2018 – Karachi South 2 – NA-247 Candidates – NA-247 Constituency Details – thenews.com.pk"۔ www.thenews.com.pk (انگریزی زبان میں)۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ12 اگست 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  33. "Dr Arif Alvi nominated by PTI for president's post"۔ ڈان۔ 18 اگست 2018۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ18 اگست 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  34. "Arif Alvi elected 13th president of Pakistan | The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  35. فہد چودھری (5 ستمبر 2018)۔ "PTI's Arif Alvi officially declared winner of 13th presidential election"۔ ڈان۔ 
  36. "PTI's Dr Arif Alvi elected 13th President of Pakistan: unofficial results"۔ ڈان۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  37. "Arif Alvi says he is elected President of entire nation, not a particular party"۔ دی نیوز (انگریزی زبان میں)۔ 4 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 ستمبر 2018۔ 
  38. "President-elect Dr Arif Alvi tenders resignation from NA seat"۔ پاکستان ٹوڈے۔ 5 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2018۔ 
  39. "Alvi is the second-ever dentist to assume a country’s presidency"۔ دی نیوز (انگریزی زبان میں)۔ 5 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2018۔ 
  40. ^ ا ب "چین کے صدر اور امیر قطر کی عارف علوی کو مبارکباد"۔ نوائے وقت۔ 6 ستمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  41. "China-Pak should support each other 'more staunchly': Xi"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  42. نو منتخب صدر عارف علوی اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
  43. "PTI, PAT protesters storm PTV headquarters"۔ ڈان۔ 1 ستمبر 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  44. "PTI leaders get bail in 2014 protest sit-in cases"۔ پاکستان ٹوڈے۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  45. ملک اسد (13 اکتوبر 2017)۔ "The political culture of legal defiance"۔ ڈان۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  46. "SHC moved to disqualify Imran, Alvi over PTV attack"۔ دی نیوز (انگریزی زبان میں)۔ 31 مارچ 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  47. "Leaked conversation: Petition filed against Imran Khan, Arif Alvi in SHC | The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ 30 مارچ 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  48. ^ ا ب ملک اسد (6 ستمبر 2018)۔ "President-elect Arif Alvi to seek immunity in criminal case"۔ ڈان۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
  49. محمد عمران (17 جنوری 2018)۔ "ATC grants PTI leaders bail in terrorism cases"۔ ڈان۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2018۔ 
سیاسی عہدے
ماقبل 
ممنون حسین
صدر پاکستان
2018–تاحال
موجودہ