عارف ڈارلک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


عارف ڈارلک
Arif Dirlik 2014.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1940  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ترکی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 دسمبر 2017 (76–77 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
یوجینی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Turkey.svg ترکی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی آف روچیسٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تاریخ چین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت برٹش کولمبیا یونیورسٹی،  ڈیوک یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

عارف ڈارلک ادبی نظریہ دان، تاریخ دان اور استاد ہیں۔ انھوں نے چین کی کمیونسٹ پارٹی،نراجیت، جدید چین اور مابعد نو آبادیاتی کا مطالعہ منفرد اور اچھوتے انداز میں کیا ہے اور انھوں نے فکری سطح پر اور بالخصوص عہد کی محیط ارض سرمایہ داریت کر فکر انگیز سوالات اٹھائیں ہیں۔ جس میں ان موضوعات کی نئی جہات خلق ھوتی ہیں۔ عارف ڈارلک مشرق بعید کو ثقافتی پیدوار کا خطہ قرار دیتے ہیں۔ وہ بیسویں صدی کے ایک اہم تاریخ دان ہیں۔

عارف ڈارلک کی زندگی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ شروع میں ان کی دلچسپی طبعیات میں تھی، وہ جوہری سائنس دان بناچاہتے تھے لیکن ادبی نطریاتی ادیب اور مفکر بن گئے۔ عارف ڈارلک 194٠ میں ترکی کے شہر “ میسن ‘ میں پیدا ھوئے۔ 1964 میں انھوں نے استبول کے رابرٹ کالج (اب بوشوفر یونیورسٹی) سے الیکٹریکل انجینرنگ کی ڈگری لی 1973 میں راچنسڑ، نیویارک سے تاریخ میں پی ایچ۔ ڈی کی سند حاصل کی۔ وہ اپنی گفتگو اور تحریروں میں طبعیات اور برقیات کو شامل نہیں کرتے۔ ان کے دو (2) بیٹے ہیں جو فلم اور راک میوزک کے پیشے سے منسلک ہیں۔

عارف ڈارلک 1971 سے 2٠٠1 تک ڈیوک یونیورسٹی میں تاریخ کی تعلیم دیتے رھے۔ 2٠٠1 میں یونیورسٹی آف ارگن چلے گئے۔ جہان وہ معاسرتی سائنس کے شعبے میں تاریخ اور بشریات کے “ نائٹ پروفسیر“ بنے اور ساتھ ہی انھیں “ سنٹرل آف کریٹکل تھیوری اور ترجمہ کاری کے مطالعوں“ کا ڈائریکٹر بھی مقرر کیا گیا۔ 2٠٠6 میں یہ شعبہ بند کر دیا گیا۔ اسی سال وہ بیچنگ (چین) میں“ سنٹر بیورو فار کمپیلشن آف ٹرانسلیشن “مہمان پروفیسر رھے اس کے بعد وہ ہالینڈ میں انٹرنشنل انسی ٹیوٹ فار ایشین اسٹیڈیز کے سینئر فلو کی حیثیت سے بھی تحقیقی اور علمی کام کرتے رھے۔ اس کے بعد عارف ڈارلک یونیورسٹی آف برٹش کولبیا میں “ میز وال انسیی ٹیوٹ فار ایدونس اسٹیڈیز میں مہمان پروفیسر رھے۔ اس کے علاوہ وہ برٹش کلمبیا کی یونیورسٹی، وکٹوریہ او رہانگ کانگ یونیورسٹی کی سائنس اور ٹیکنالوجی اور “سوکا“ یونیورسٹی آف امریکا سے بھی منسلک رھے۔ وہ دہلی کی راجنی کھتری کے " ڈیمو کریسی سنٹرل ایشیاہ ڈولپمنٹ سوسائٹی" سے بھی منسلک ہیں۔ عارف ڈارلک کی کی شھرت ماہر “چینیات“ (sinologist، مطالعہ چینی زبان، ادب اور تہزیب) کی حیثیت سے ہے۔ وہ چینی زبان جانتے ہیں۔ چینی تاریخ، معاشرتی اور ادبی نظریات کے علاوہ ان کی مرکوز دلچسپی مارکسزم اور پس نوآبادیات میں رھی۔ انھیں امریکا بائین بازو کا “چینیات“ کا فکری رہنما کہا جاتا ہے۔ ان کی علمی وفکری تحقیق اور تجربات زیادہ تر چینی انقلاب اور اس سے جڑی تاریخ سے رہا ہے۔ عارف ڈارلک نے چینی تاریخ کے حوالے چین کے مارکسی انقلاب کو تاریخ کاری لی وساطت سے دیکھا۔ 1919 سے 1933 لکھی ھوئی تاریخ کو انھوں نے مارکسی متن کے ھولے سے دیکھا اور اس فکری نقطے کو بھی سامنے لائے کہ چینی انقلاب کے بعد دنیا مین تبدیل ہوتا سرمایہدارانہ نظام اور اس کا پس نوآبادیاتی تناظر میں مطالعہ کیا۔ اس سلسلے میں ان کے آٹھ (8) مقالات نے بڑی شہرت پائی۔ جس میں عارف ڈارلک نے انقلاب چین کو تاریخ اور ثقافت اور عالمی جدیدیت کے پس منظر میں دیکھا اور اس پر شدید تنقید بھی کی۔ ان کا کہنا تھا ۔۔“ 19٠5 سے 193٠ تک چین کی ثقافت اور سیاست پر نراجیت پسندوں کا غلبہ حاصل تھا۔۔۔“ وہ سنٹرل ریڈیکل ازم کے حامی ہیں۔ جس نے کئی عشروں تک انقلابی تحریکوں میں اہم کردارادا کیا۔ عارف ڈارلک جدید پن کے حولے سے ثقافتی و تہذیبی نقشہ بندی بھی کی۔ ان کی فکر اور تحریروں پر کارل مارکس، ماؤزوتنگ اور دوستفسکی کا گہرا اثر ہے۔ عارف ڈارلک کی کتابوں کے تراجم چینی، جاپانی، کورین، ترکی، بغاریں، فرانسیسی، جرمن اور پرتگالی زبانوں میں ھوچکے ہیں۔ انکی کتابوں کی فہرست یوں بنتی ہیں۔{احمد سہیل}

1989. The Origins of Chinese Communism, New York: Oxford University Press.

1990. Revolution and History: Origins of Marxist Historiography in China, 1919–1937. Berkeley: University of California Press.

1991. Anarchism in the Chinese Revolution, Berkeley: University of California Press.

1991. Schools into Fields and Factories: Anarchists, the Guomindang, and the National Labor University in Shanghai, 1927–1932, (with Ming Chan)۔ Durham: Duke University Press.

1994. After the Revolution: Waking to Global Capitalism, Hanover, NH: Wesleyan University Press.

1997. The Postcolonial Aura: Third World Criticism in the Age of Global Capitalism, Boulder: Westview Press.

2000. "Postmodernism and China." Duke University Press

2001. Postmodernity's Histories: The Past as Legacy and Project, Lanham, MD: Rowman and Littlefield.

2005. Marxism in the Chinese Revolution, Lanham, MD: Rowman and Littlefield.

2006. "Pedagogies of the Global: Knowledge in the Human Interest," Paradigm Press

2007. "Global Modernity: Modernity in the Age of Global Capitalism." Paradigm Press

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12138813q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ