عاصمہ جہانگیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عاصمہ جہانگیر
Asma Jahangir Four Freedoms Awards 2010.jpg 

مناصب
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1987  – 2011 
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
27 اکتوبر 2010  – 31 اکتوبر 2012 
خصوصی رپورٹر برائے ایران میں انسانی حقوق   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1 نومبر 2016  – 11 فروری 2018 
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Asma Jilani خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 27 جنوری 1952  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 فروری 2018 (66 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات توقفِ قلب[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
رہائش اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 3   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب
کنیئرڈ کالج (–1978)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد فاضل القانون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فعالیت پسندِ انسانی حقوق،وکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
رامن میگ سیسے انعام  (1995)
فور فریڈم ایوارڈ
Hilal-i-Imtiaz Pakistan.svg ہلال امتیاز   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

عاصمہ جہانگیر (27 جنوری 1952ء) لاہور میں پیدا ہوئی اور 11فروری 2018 کو لاہور میں وفات پائی۔ پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھیں۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی علمبردار اور سماجی کارکن تھیں۔

2004ء سے اقوام متحدہ کی "مذہب کی آزادی" روئدادً ہے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کی ماورائے عدالت قتل کی روئداداً تھی۔

عاصمہ نے قومی مفاہمت فرمان پر عدالت عظمی کے فیصلہ کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا:

It's complete (judicial) control now. The issue is whether the (democratic) system is going to pack up again. Why is the judiciary again being used by the establishment?[2][3][4]

— عاصمہ جہانگیر

عاصمہ پاکستان کے اداروں خصوصاً فوج پر تنقید کے لیے مشہور تھیں۔[5][6]

وفات[ترمیم]

عاصمہ جہانگیر 66 برس کی عمر میں اتوار 11 فروری 2018ء کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔[7]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://www.lemonde.fr/disparitions/article/2018/02/11/mort-d-asma-jahangir-militante-pakistanaise-des-droits-de-l-homme_5255135_3382.html
  2. ٹیلیگراف 19 دسمبر 2009ء، "Pakistan's interior minister Rehman Malik faces arrest as crisis deepens"
  3. بی‌بی‌سی 19 دسمبر 2009ء، "عدلیہ دائرہ کار سے تجاوز کر گئی ہے"
  4. ڈان، 19 دسمبر 2009ء، "عاصمہ جہانگیر:"Another aspect of the judgment
  5. "Respect army, CJ tells Asma"۔ دی نیشن۔ 30 دسمبر 2011ء۔ 
  6. کھرا سچ یوٹیوب پر
  7. "انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں"۔ BBC News Urdu (اردو زبان میں)۔ 2018-02-11۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-02-11۔