عاصم بن ابی النجود الکوفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عاصم بن ابی النجود الکوفی
معلومات شخصیت
پیدائش صدی 7ء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 745 (44–45 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg خلافت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نمایاں شاگرد ابو عمرو بن علاء بصری،  حفص بن سلیمان کوفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ قاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل قرأت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

عاصم بن ابی النجود الکوفی انہیں عاصم الكوفی بھی کہا جاتا ہے قراء سبعہ میں شمار ہوتے ہیں

نام و نسب[ترمیم]

عاصم بن بہدلہ- أبو النّجود (بفتح النون)، ابو بكر الاسدی کوفی جوالحنّاط کے غلام تھے
اسدیوں کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اس لیے اسدی کہے جاتے ہیں۔ زر بن جیش الکوفی اور ابو عبد الرحمن السلمی سے قرأت حاصل کی اور ان سے اعمش اور منصور بن المعمر روایت کرتے ہیں۔ یہ دونوں ان کے قرابت مند بھی تھے مگر ان کو لکھا ہے کہ کان عثمانیاً یعنی عثمان ذوالنورین کے حمایتیوں میں سے تھے۔ 127ھ یا 128ھ میں ان کی وفات ہوئی۔

اساتذہ[ترمیم]

عاصم قرأت میں عاصم بن بہدلہ کے دو استاد تھے۔ ابو عبد الرحمن السلمی لکوفی جن کا نام عبد اللہ بن حبیب بن ربیعہ ہے دوسرے استاد زر بن حبیش ہیں اورابو عمرو الشيبانی سے بھی علم حاصل کیا۔

شاگرد[ترمیم]

ان کے شاگرد امام القرأت حفص بن سلمان جبکہ دوسرے شاگرد حفص بن سلیمان القاری حفص بن سلیمان الاسدی ابو عمیر البزار لکوفی القاری۔ ان کو غاضری بھی کہتے ہیں یعنی غاضر بن الملک بن ثعلیہ کی طرف سے بھی منسوب کیے جاتے ہیں۔ ابان بن تغلب، ابان بن يزيد العطار،اسماعيل بن مجالد، الحسن بن صالح،الحكم بن ظہير،حمّاد بن سلمہ،حماد بن زيد،حماد بن ابو زياد، حماد بن عمرو، سليمان بن مہران الأعمش، سلام بن سليمان ابو المنذر، سہل بن شعيب، ابو بكر شعبہ بن عياش،شيبان بن معاویہ، ضحاك بن ميمون، عصمہ بن عروة، عمرو بن خالد،مفضل بن محمد، مفضل بن صدقہ،محمد بن رزيق،نعيم بن ميسرہ،نعيم بن يحيى، جبکہ ان سے حرف بہ حرف قرآن پڑھنے والوں میں ابو عمرو بن العلاء،خليل بن احمد،حارث بن نبہان، حمزہ الزيات،حمّادان (ابن سلمہ، ابن زيد) مغيرة الضبی،محمد بن عبد الله العزرمي، ہارون بن موسى شامل ہیں۔[1]

اِمام عاصم کے بارے میں اکابر اقوال[ترمیم]

  1. امام ذہبی نے کہا: إمام أھل الکوفۃ ’اہل کوفہ کے امام ہیں۔‘ [2]
  2. امام احمد بن حنبل نے کہا: رجل صالح، خیر، ثقۃ۔[3]
  3. امام ابوحاتم نے کہا: محلہ الصدق
  4. امام ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ان کو ثقہ کہا ہے۔
  5. امام دارقطنی نے کہا: في حفظہ شيء ’ان کے حافظے میں کچھ (خرابی) تھی۔‘ [4]
  6. ابن سعد نے کہا: ’ثقہ‘
  7. ابن معین نے کہا: ’لا بأس بہ‘
  8. عجلی نے کہا: صاحب سنۃ و قراء ۃ القرآن، وکان ثقۃ، رأسا في القراء ۃ
  9. امام یعقوب بن سفیان نے کہا: في حدیثہ اضطراب، وھو ثقۃ
  10. ابوحاتم نے کہا: صالح وھو أکثر حدیثا من أبي قیس الأودي، وأشھر منہ، وأحب إلي منہ، وقال محلہ الصدق صالح الحدیث۔
  11. ابوزرعہ نے کہا: ’ثقہ‘
  12. نسائی نے کہا: ’لیس بہ بأس‘ [5]
  13. ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقدمات فی علم القراءات،مؤلفین: محمد احمد مفلح القضاة، احمد خالد شكرى، محمد خالد منصور،ناشر: دار عمار - عمان (الاردن)
  2. معرفۃ القراء الکبار: 1؍204
  3. کتاب العلل وھدایۃ الرجال: 1؍163، معرفۃ القراء الکبار: 1؍206، تہذیب الکمال: 9؍29
  4. معرفۃ القراء الکبار: 1؍209
  5. تہذیب الکمال: 9؍290
  • 14۔ ابن شاھین نے ثقات میں ذکر کیا ے۔[1]
  • تہذیب التہذیب: 5؍36